Skip to content
Home » Uncategorized » Page 19

Uncategorized

Sitamgari yaar ki novel by JN Writes

  • by

آگے کے بارے میں کیا سوچا ہے تم نے؟

شایان کی بات سن کر ماہم نے نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا ان نگاہوں میں شایان کو خود کے لیے ہزاروں گلے شکوے نظر آئے۔

وہ طنزیہ مسکرائی اور بولی میں نے کیا سوچنا ہے اور میرے سوچنے سے بھلا کیا ہو جائے گا ۔

میں تو وقت کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی ہوں جسے جو چاہے جدھر چاہے موڑ لیتا ہے ۔

میں تو بس خود کو حالات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہی ہوں۔

یہ کہتے ماہم کی آنکھ سے اشک گرے اور اس کے جزبات کی طرح ہی بے مول ہو گئے۔

شایان آپ اپنے لیے جو چاہیں فیصلہ کر لیں ۔آپ آذاد ہیں میں جانتی ہوں یہ ایک بے جوڑ شادی تھی آپ کبھی بھی مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہیے تھے مگر ہم دونوں ہی مجبور تھے جیسے آپ اپنی ماں کی خاطر مجبور ہوگئے ویسے ہی میں بھی تایا جان کے احسانات کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہوں تب ہی کبھی ان کی کسی بات سے انکار نہیں کر پائی۔

دوسرا ایک لاوارث اور یتیم لڑکی اگر یہ ٹھکانا بھی کھو دیتی تو پھر کہاں جاتی۔

Qalb novel by Fatima Sial

  • by

” ایسے کیو غمگین ہو رہے ہو، وہ تمہاری قسمت میں نہیں ہے ، نہ کبھی پہلے تھی نہ آج ” زونیرا نے دھیمے لہجے میں کہا ۔

” پھر وہ میرے دل میں کیوں ہے ؟” سلطان نے کہتے ہوۓ اس کی جانب دیکھا ۔ اس کی آنکھیں سرخ تھی ، ان میں نمی تھی ، زونیرا کے دل کو کچھ ہوا ۔

” سلطان تم بھول جاؤں اسے “

” تمہیں لگتا ہے میں نے کوشش نہیں کی ، میں نے کی ہے یار ، ہر لمحے ، ہر سانس کے ساتھ ، لیکن میں نہیں کر سکا ” اس کے لہجے میں بےبسی تھی ۔

” تم اللہ سے صبر مانگو ، دیکھنا تم ایک دن اسے بھول جاؤں گے اور ایک اچھی زندگی گزار رہے ہوگے “

” اللہ ؟” اس نے دہرایا ۔

” اللہ کو اگر مجھ سے پیار ہوتا تو کبھی میرے دل میں اس کی محبت نہ ڈالتا “

زونیرا نے کچھ کہنے کے لیے لب کھولے لیکن وہ کہنے لگا ۔

” اللہ تو ہر چیز پر قادر ہے نہ ؟ اسے تو اپنے ہر بندے سے محبت ہے ، پھر کیوں ؟ کیوں وہ اس طرح ہم جیسے لوگوں کے دلوں میں یک طرفہ محبت ڈال دیتا ہے ، اللہ مجھے کیو تکلیف دے رہا ہے ، کیا میں اتنا گناہ گار ہوں ؟ ” اس کی آنکھوں سے آنسوں نکل رہے تھے ۔

Tu mily mil jaey rahat novel by Maryam Rajpoot

  • by

یہ کہانی ایک ایسے شخص سے شروع ہوتی ہے جس نے فقت ایک شرط کی حاتر ایک معصوم سی لڑکی کو اپنے جال میں پہنسایا تھا محبت کے جال میں

یہ کہانی ہے سردار وہاج سلطان

کے عشق کی ۔۔۔اسکے ہجر کی ۔۔اسکے جنون کی۔۔

یہ کہانی ہے دوہا میر کی جسکے اپنوں نے اسے ہود جہنم میں دھکیلا تھا اسکے پیارے نانا نے اسے ایک سنگی انسان کے ساتھ باندھا تھا اسکی زندگی میں زہر گھولا تھا ۔۔

ایک حاسد کی جسنے دوہا میر کو تباہ کرنے کی قسم کھایی تھی اسکو درد دیا تھا ۔۔

یہ کہانی ہے دوہا میر کی ۔۔اسک عشق کی۔۔۔اسکے درد کی ۔۔۔اسکے سردار کر عشق میں قید ہونے کی۔۔

یہ کہانی ہے شاہ کے انتقام کی اور دلربا کے عشق کی۔۔

یہ کہانی ہے وامق سلطان کی محبت کی ۔۔روشانی راہب کمال کے ونی ہونے کی ۔۔۔ان دونوں کی کہانی۔۔

یہ کہانی ہے انتقام کی ۔۔جنون کی۔۔کسی کے عشق کی تو کسی کے ہجر کی ۔۔تو کسی کے حسد کی۔۔دو خاندانوں کی کہانی

Mohabbat hui mehram novel by Maryam

“صحیح کہا تم نے! پاکستان میں حسن کی کمی نہیں

ہے لیکن اسکے ساتھ ساتھ جوتوں اور تھپڑوں کی بھی

کوئی کمی نہیں ہے” …..کہتے ساتھ ہی ہانیہ نے اس پہ

تھپڑوں اور مکوں کی برسات کر دی جبکہ وشمہ نے

بھی دوسرے لڑکے پہ ہاتھوں اور مکوں کا خوب

استعمال کیا ۔۔۔۔ وہ دونوں مخض پانچ منٹ میں

پہچانے ہی نہیں جا رہے تھے ۔۔۔۔ان میں اٹھنے کی بالکل

ہمت نہیں تھی ۔۔۔۔۔

“بھائی! اور حسن دیکھنا ہے یا یہ ہی کافی ہے ۔۔۔” ہانیہ

نے شرارت سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔

“نن۔۔۔۔ نہیں! اتنا ہی کافی ہے” ایک نے ہاتھ جوڑتے

ہوئے کہا ۔۔۔

“چلو ہنی ہم چلتے ہیں” ۔۔۔ وشمہ نے ہانیہ کا

ہاتھ پکڑ کر کہا ۔۔۔۔ اور کار کی طرف بڑھنے لگی ۔۔۔

“مزے کی کچھ لگتی۔۔۔۔ یہ تو آنٹی تمہیں بتائیں گی

نا ۔۔۔۔جب اس وقت تک باہر رہنے کا جواز بتاؤ گی” ۔۔۔

“کیا مطلب اس وقت تک! اوہ نو” ۔۔۔واچ پہ نظر پڑتے

ہی اسکے منہ سے بے اختیار نکلا ۔۔۔واچ رات کے آٹھ

بجا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔

“آج تو شامت پکی” ۔۔۔اسنے کار سٹارٹ کرتے ہوئے کہا۔۔

“کوئی بات نہیں۔۔۔۔ کبھی کبھی خود کو ماؤں کا شکار

بھی بناننا چاہیے” ۔۔۔وشمہ نے سیل فون پر گیم کھیلتے

ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔

Shehr e ishq novel by Mari Khan

  • by

مہر تم نے شاہ زین بھائی سے کیوں کہا تم ان سے دوستی کرکے پچھتا رہی ہو؟ تمہیں پتہ ہے انھیں کتنا ہارٹ ہوا ۔

زویا میں نے بس اس سے مزاق کیا تھا ۔وہ سیرس ہوگیا ہے ۔

مہر ایسا مزاق کون کرتا ہے تم ہمیشہ ایسا کرتی ہوں انکے ساتھ ؟ نہیں پسند تھے تو دوستی کیوں کی؟ دوست بھی ہے پسند بھی ہے اور پچھتا بھی رہی ہوں سوچ سمجھ کر بولا کرو سمجھی؟

زویا ۔مہر کی آ نکھیں نم ہونے لگی ،

مہر اگر کوئی تمہیں بولے گا تمہیں کیسا لگے گا

زویا میں لڑکوں کو پھنسا نے والی ہوں ؟ از نے روتے ہوئے کہا؟

میں عمر سے محبت کرتی ہوں ان سے شادی کرنا چاہتی ہوں میں ابھی تک ان سے بدتمیزی نہیں کرتی اور تم انھیں اتنا سناتی ہو۔

نہیں کرتی میں اسکے بے عزتی میں اسکی عزت کرتی ہوں پیار سے بات کرتی ہوں ۔زویا میں نے ایک نامحرم سے دوستی کی ہے لکین مجھے اس سے انسیت ہوگی ہے م کیوں اسے مانگ رہی ہوں بار بار ۔میں نے بس مزاق کیا اسے کیا مجھے چھوڑ کر نہیں جانا زویا میں اس سے محبت کرتی ہوں عارض کے بعد میں سے صرف اسے رب سے مانگا ہے میری نیت نکاح کی ہے تم کیوں مجھے اتنا سنا رہی ہوں وہ بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی ۔

Hasidon ki dunya mein novel by Mahnoor Rasheed Ahmed

  • by

یہ ناول ایسے شخص کے متعلق ہے ، جو جس کے خواب اسے سرگرداں رکھتے ہیں،

اپنے خوابوں کو پانے کے لیے وہ جدو جہد کرتا ہے ۔ یہ داستان ہے دو لوگوں کی جن کی زندگی انہیں ایک مقام پہ لا کر کھڑا کر دیتی ہے اور ان کا مشترک ماضی انہیں ملانے کا سبب بنتا ہے۔ ان کی زندگیاں مختلف نشیب و فراز کے زیر اثر آجاتی ہیں۔ ، کیا یہ اپنے زندگی میں سکون کی جانب گامزن ہو پائیں گے۔ دونوں ہی اپنے خوابوں کو پورا کر نے کے لیے سرگرداں ہیں کیا ان کے خواب پورے ہو سکیں گے۔

یہ داستان ہے خوابوں سے تعبیر کی، اور زندگی میں حائل ہونے والے

طلاطم کی۔

یہ داستان ہے دعاؤں کی التجاؤں میں ڈھل جانے کی۔

یہ داستان ہے نفرت سے محبت کی ، یہ داستان ہے زوال سے عروج

کی اور عروج سے زوال کی۔ یہ کہانی ہے مکافات عمل کی۔ یہ داستان ہے

پہاڑوں سے کیے جانے والے عشق کی ، جو کہ حقیقی اور مجاز ی عشق

سے روشناس کر واتا ہے۔

یہ داستان ہے پہاڑوں میں مقیم ایک شخص کی جس کی آنکھیں شاہین کی

مانند

پہاڑوں کی گھات لگا ئے بیٹھی ہیں۔ کیا قدرت اسے خود کو تسخیر کر نے

کا موقع دے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔