Skip to content
Home » Uncategorized » Page 19

Uncategorized

Hayat e yousuf by Warisha Zehra Complete novel

  • by

ہمارا معاشرہ عورت کو اس حد تک کم تر سمجھتا ہے کہ اگر اس کے ساتھ حقیقت میں کوئی حادثہ پیش آ جائے تو اس پر الزام لگا دیا جاتا ہے۔ مجھے امید ہے کہ آپ ان کرداروں میں خود کو تلاش کریں گے اور کچھ نہ کچھ ضرور دیکھیں گے۔ یہ ناول میرے دل کے بہت قریب اس لیے بھی ہے کہ اس میں میری زندگی کے بہت سے پہلو شامل ہیں، اور وہ پہلو ایسے ہیں جو مجھے ہمیشہ تلخ اور خوبصورت یادوں کی طرف لے جاتے ہیں۔ لوگ رہیں یا نہ رہیں، یادیں رہتی ہیں، اور یہ حقیقت ہے کہ یادیں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔ مجھے امید ہے کہ آپ کو یہ ناول پسند آئے گا اور آپ وہ سب دیکھ سکیں گے جو میں آپ سب کو دکھانا چاہتی ہوں، معاشرتی تلخ پہلو اور کچھ حقیقتیں۔

٭٭

اس دنیا میں نہ تو سیاہ ہے اور نہ ہی سفید، اگر یہاں کوئی رنگ پایا جاتا ہے تو وہ ہے سرمئی، اور اب ان کرداروں کو یہ طے خود کرنا ہے کہ وہ سیاہ ہیں یا سفید، اور کون سا رنگ ان پر پہلے غالب آتا ہے۔

کہانی طواف کرتی ہے یوسف سلیمان اور حیات سلطان کے گرد،کہانی گناہوں، بدلے، اور محبت کی.

کہانی طواف کرتی ہے حمید خان اور داوود سلطان کے گرد کہانی بدعنوانی، طاقت کی بھوک، اور دھوکہ بازی کی.

سیاہ اور سفید کی دھندلی لکیر

Adhoray mukamal novel by Elena Qureshi Complete novel

  • by

ادھوری محبت اور نفرت کی داستان، ادھورے ہجر اور وصال کی داستان، ادھوری زندگی اور موت کی داستان، ادھورے اپنے اور پرائوں کی داستان، ادھورے غم اور خوشیوں کی داستان، ادھوری بہار اور خزاں کی داستان، ادھوری روشنی اور اندھیرے کی داستان، ٹوٹ کر مکمل جڑنے کی داستان

مختصر یہ کہ ادھورے کرداروں ”

کی مکمل داستان ”

یہ ناول کرداروں کے گرد گھومتا ہے جو اسلام، مذہب، دین، خدا اور نیکی جیسے الفاظ سے ناآشنا ہیں۔انکے لئے زندگی کا مقصد” *میں اور میری مرضی” ہے۔ بقول ان کے، جو بھی دنیا میں انسان حاصل کرتا ہے وہ اس کی اپنی قابلیت کی بنا پر ہے جبکہ ایک کردار تو سرے سے اللہ کے ہونے پر بھی یقین نہیں رکھتا(نعوذبااللہ)۔

یہ تینوں دو لڑکے اور ایک

لڑکی زندگی

کے کچھ موڑ پر ملتے ہیں, جس سے یہ آپس میں جڑ جاتے ہی، لیکن اپنی غلطیوں اور گناہوں کی وجہ سے تینوں الگ ہو جاتے ہیں۔

ان سالوں میں ان تینوں کی الگ الگ سٹوری چلے گی جن میں کچھ tragadies انہیں اسلام کی طرف لے جائیں گی۔ اس میں ہماری فیمیل لیڈ ایک ہندو لڑکی سے ملے گی جس کے ساتھ مل کر وہ اسلام کو ایکسپلور کرے گی۔

اصل میں ہندو لڑکی *رتیقا* کی سائڈ سٹوری ہے جس میں رتیقا” عشق مجازی سے عشق حقیقی کا سفر” کر کے اپنے مذہب کو بدلے گی،” اسلام “قبول کرے گی

ادھورے مکمل داستان آپ لوگوں کو کچھ سکھائے یا نہیں مگر امید ہے کہ آپ کی ادھوری زندگیوں کو کہیں نہ کہیں مکمل کرنے کی ادنیٰ سی کوشش ضرور کرے گی، یقیناََ کچھ جگہوں پر آپ کو آپ کے رب کے نزدیک بھی کر دے گی۔ ” بس ایمان پختہ اور نیت صاف ہونی چاہیے۔”

# *انسان تو پھر ادھورے مکمل کی سب سے بہترین مثال ہے ۔*✨

Alhamd se Wannass by Umaima Shafeeq Qureshi complete novel

  • by

یہ کہانی ہے مختلف کرداروں کی

ایک ایسی لڑکی کی جو منطقی باتوں پر یقین رکھتی ہے

جسے آخرت،جنات اور فرشتوں پر یقین نہیں….

ایک ایسے شخص کی جس نے اپنا مذہب تبدیل کر لیا ہے

یہ کہانی ہے ایک معصوم اپسرا کی

اور ایک ایسے شخص کی جس کی ذہانت کا کوئی جواب نہیں…. یہ کہانی ہے الحمد سے والناس تک کے سفر کی

Talooh e aftab se gharoob e aftab tak novel by Hikmat Yar

  • by

“جیسے کسی پیاسے کو صحرا میں پانی کی تلاش ہو، دور سے سورج کی کرنیں ریت پر پانی کا منظر پیش کر رہی ہوں، چمکتا ہوا پانی پیاسے کو اپنے پاس آنے پر مجبور کر دے۔ پیاسے کے دل میں پانی پینے کی شدت مزید جاگ جائے اور وہ ہانپتا کانپتا سورج کی تپش میں جلتا ہوا اپنا بدن دو ٹانگوں پر اٹھائے قریب سے قریب تر آتا جائے اور اسے پتا چلے یہ اک سراب تھا۔ وہ سیراب ہونے آئے اور اس کے ساتھ سراب ہو جائے۔ اسے ہی نفس الامر کا سراب کہا جاتا ہے۔ یہی خوابوں خیالوں کی دنیا میں ہوتا ہے۔

دنیا سراب ہے، اس کی کوئی حقیقت موجود نہیں ہے۔ یہ کائنات اک وہم ہے۔ یہی نفس الامر اک سراب کی شکل میں ہمارے سامنے آتے ہیں۔ اس دنیا کی حقیقت صحرا کی طرح ہے۔ سب کچھ اک سراب ہے سراب۔”

وہ بد روحوں کی طرح گلیوں میں بھٹک رہی تھی۔ اس کے سامنے اس کی اپنی ہی روح تھی ۔ ایک گلی سے دوسری گلی میں چکر لگا رہی تھی۔ لوگ اسے پتھر مار رہے تھے مگر وہ سب کچھ نظر انداز کر کے صرف اللّٰہ کی تلاش میں یہاں سے وہاں بھاگ رہی تھی۔

“وہ میری اپنی ہی روح تھی جو رب العالمین سے وصل کے لیے بے چین تھی”۔

جیسے ہی اسے وہ یکتا ذات اپنے قریب محسوس ہوئی وہ رقص کرنے لگی وہ رقص جو صرف اللّٰہ کے محبوب اور مخصوص بندوں پر وجد بن کر اترتا ہے۔

آج میں نے جھومتا ہوا رب دیکھا

سب نظروں سے اوجھل اپنے روبرو دیکھا

Taghoot novel by Anzum Aziz

  • by

پو چھوگی نہیں کیا کہا اسنے کیا پوچھوں اور کیا کریں اب میں تھک گی ہو بھابی لڑ لڑکر۔۔

آب اور نہیں ہے

مرے پاس ہمت ۔۔،

تم تو اپنے ہونے والے محرم سے بات کرنے گی تھی

لکین مرہ نے کہا ک تم صعبی سے ملنے گی

تھی تمہارا بھای کہتا کہ

تمہارا بھائ کہتا ہے

کہ وہ تمسے بات کرنے کی اجازت

ابا سے لے چکا تھ، لکین تم نے اچانک بولا بیجا کہ مرہ کے گھر آؤ ۔۔

لکین وہ تم سے یہی ملنے کا سوچ رہا تھآ لکین وہ پھر بھی تمہاری بات سننے

کے لیے آگیا کیو نکہ وہ اپ کو دیکھانا چاہتا تھا مانو نے تڑپ کر پوچھا کیا ۔۔۔؟

یہی کہ تم بے داغ ہو ۔

اور وہ جانتا ہےکہ صفہ اسے پسند کرتی ہے اور رمضہ نے تم سے اپنی

محبت کا بدلا لیا کونسی

محبت تمہارے بھای کی تو اسمیں مرا کیا قصور ہے

اور اسلیے ان تینوں بہنو نے ملکر تمہارے اوپر بہطان لگاے

اسلیے وہ تم سے انکے گھر ملنے آگیا

۔۔تمیارا بھائی نہیں چہاتا تھا

کہ تمہیں اس بات کا پتہ چلے اور تم پریشان ہوگی اسلیے۔۔۔

لکین میں چہاتی ہو تم اپنے دشمنوں کو پہچانوئ

Sitamgari yaar ki novel by JN Writes

  • by

آگے کے بارے میں کیا سوچا ہے تم نے؟

شایان کی بات سن کر ماہم نے نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا ان نگاہوں میں شایان کو خود کے لیے ہزاروں گلے شکوے نظر آئے۔

وہ طنزیہ مسکرائی اور بولی میں نے کیا سوچنا ہے اور میرے سوچنے سے بھلا کیا ہو جائے گا ۔

میں تو وقت کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی ہوں جسے جو چاہے جدھر چاہے موڑ لیتا ہے ۔

میں تو بس خود کو حالات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہی ہوں۔

یہ کہتے ماہم کی آنکھ سے اشک گرے اور اس کے جزبات کی طرح ہی بے مول ہو گئے۔

شایان آپ اپنے لیے جو چاہیں فیصلہ کر لیں ۔آپ آذاد ہیں میں جانتی ہوں یہ ایک بے جوڑ شادی تھی آپ کبھی بھی مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہیے تھے مگر ہم دونوں ہی مجبور تھے جیسے آپ اپنی ماں کی خاطر مجبور ہوگئے ویسے ہی میں بھی تایا جان کے احسانات کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہوں تب ہی کبھی ان کی کسی بات سے انکار نہیں کر پائی۔

دوسرا ایک لاوارث اور یتیم لڑکی اگر یہ ٹھکانا بھی کھو دیتی تو پھر کہاں جاتی۔

Qalb novel by Fatima Sial

  • by

” ایسے کیو غمگین ہو رہے ہو، وہ تمہاری قسمت میں نہیں ہے ، نہ کبھی پہلے تھی نہ آج ” زونیرا نے دھیمے لہجے میں کہا ۔

” پھر وہ میرے دل میں کیوں ہے ؟” سلطان نے کہتے ہوۓ اس کی جانب دیکھا ۔ اس کی آنکھیں سرخ تھی ، ان میں نمی تھی ، زونیرا کے دل کو کچھ ہوا ۔

” سلطان تم بھول جاؤں اسے “

” تمہیں لگتا ہے میں نے کوشش نہیں کی ، میں نے کی ہے یار ، ہر لمحے ، ہر سانس کے ساتھ ، لیکن میں نہیں کر سکا ” اس کے لہجے میں بےبسی تھی ۔

” تم اللہ سے صبر مانگو ، دیکھنا تم ایک دن اسے بھول جاؤں گے اور ایک اچھی زندگی گزار رہے ہوگے “

” اللہ ؟” اس نے دہرایا ۔

” اللہ کو اگر مجھ سے پیار ہوتا تو کبھی میرے دل میں اس کی محبت نہ ڈالتا “

زونیرا نے کچھ کہنے کے لیے لب کھولے لیکن وہ کہنے لگا ۔

” اللہ تو ہر چیز پر قادر ہے نہ ؟ اسے تو اپنے ہر بندے سے محبت ہے ، پھر کیوں ؟ کیوں وہ اس طرح ہم جیسے لوگوں کے دلوں میں یک طرفہ محبت ڈال دیتا ہے ، اللہ مجھے کیو تکلیف دے رہا ہے ، کیا میں اتنا گناہ گار ہوں ؟ ” اس کی آنکھوں سے آنسوں نکل رہے تھے ۔