Skip to content

Aashnay gham by Aqsa Tehreem Complete Novel

اس منحوس کو کب رخصت کرنا ہے پانچ سال ہو گئے اس کے نکاح کو ۔۔ زرتاج بیگم کی زہر میں ڈوبی آواز وہ بھی باآسانی سن سکتی تھی ۔۔ جو اندر احمد صاحب کو بول رہیں تھیں مگر پس پردہ وہ اسی کو سنا رہیں تھیں ۔۔ اس نے جلدی سے کھانا بنایا اور کمرے میں بند ہو گئی ۔۔ یہ تو روز کا معمول بنتا جارہا تھا ۔۔ وہ ضبط کی انتہا پے تھی ۔۔ زرتاج بیگم کے یہ طعنے اب اس کو زخمی کرنے لگے تھے ۔۔ وہ پانچ بیٹیوں کی ماں ہونے کے باوجود اس کا دکھ اس کی تکلیف کو نہیں سمجھ سکیں تھیں ۔۔ وہ اپنی مرضی سے تھوڑی ان کی دہلیز پے بیٹھی تھی۔۔ مگر وہ ان سے شکوہ کس بنیاد پے کرتی جب اس کا اپنا باپ ہی ظالم اور سفاک نکلا تھا ۔۔ جو اس کی ماں کی وفات پے بعد اس کو چھوڑ کر بیرونِ ملک جا کر بیٹھ گیا تھا ۔۔ اور وہیں اپنی دنیا بسا لی تھی ۔۔ اس کو اپنے بھائی بھابھی کے رحم و کرم پے چھوڑ دیا تھا ۔۔ اس نے کرب سے سوچا اور آنکھیں موندھ لیں ۔۔ اور یہی سب اس کے ساتھ فاران کر رہا تھا ۔۔ جو اس سے نکاح کر کے اس کو بھول ہی گیا تھا ۔۔ اس کی ماں کی حیات میں یہ نکاح ہوا تھا ۔۔ اس کے بعد فاران بھی بیرون ملک چلا گیا ۔۔ وہ روکنا چاہتی تھی ۔۔ مگر وہ جلد واپس آنے کا کہہ کر لوٹ گیا تھا ۔۔ اور اب پانچ سال کا عرصہ گزر گیا تھا مگر اس کا کچھ اتا پتا نہ تھا ۔۔

Bawal e ishq by Famra Ansari Complete Novel

  • by

” آج سن کمپنی کیوں بنی ہوئ ہو “
” ایش نے صلہ کو معمول سے ہٹ کر خاموش گاڑی چلاتے دیکھا تو بول پڑی کیوں کے صلہ کی بولتی کبھی بند نہیں ہوتی تھی اور جب ہوتی تھی تو واقعی مسئلہ گھمگھیر ہوتا تھا۔۔۔۔۔ ۔
“تمہیں معلوم تو ہے بتانے کا فائدہ “
صلہ نے گاڑی کا مرر سیٹ کرتے کہا

“یار وہ بات نہیں بکواس ہے سچی میں جانتی ہوں تم بے وقوف ہو مگر اتنی میرا دل کر رہا ہے میں ڈیش بورڈ ہر سر مار لوں اپنا احمق لڑکی حوش کے ناخن لو”””
‘ایش نے انتہائی جزبانہ انداز میں کہا۔۔
“ہوش بھی ہے میرے پاس اور ناخن بھی ہیں میں جو کہہ رہی ہو وہ صحیح ہے میری پوری زندگی کا سوال ہے اتنا کچھ سوچا تھا میں نے اور مین چیز نہ ہو اس سے میں مطمئن نہیں میں انکار کررہی ہوں مگر کوئ سن نہیں رہا “
صلہ نے دانت پیستے کہا ۔۔۔۔۔۔

“اچھا ہوا دو تھپڑ لگانے چاہئیں تمہیں تو “
‘ ایش کا بس نہیں چل رہا تھا کے خود صلہ کا گلا دبا دے’
“یار یہ میرا حق ہے مجھے نہیں کرنی ارینج میرج نہیں پسند مجھے “
صلہ نے رونی صورت بنائ
“تو پھر پسند کی شادی کے لئے کوئ ہونا بھی چاہیے اور تمہارے پاس ایسا کوئی نہیں جس کی بنیاد پر تم انکار کر سکو تو یہ فضول فینٹسی اپنے دماغ سے نکال دو اچھا خاصہ بلکہ بہترین پرپوزل ہے اتنا ہینڈسم اور رچ انسان ہے سعد ملک اور تم عجیب جاہل انسان نہ جانے کیا دیکھ لیا اس نے تم میں “

****************

Wolf mafia love by Maha Shah Complete Novel

  • by

کک کون ہو تم ؟؟ وہ شخص کپکپاتے لہجے میں بولا ۔

the wolf mafia king ۔ وہ شخص قہقہ لگا کر بولا ۔

مم مجھے چھ چھوڑ دو ۔ وہ شخص گڑگڑا کر بولا ۔ اس شخص نے اپنا دایاں ہاتھ اٹھایا اور اپنی انگلیوں کو اپنے ماتھے پر بجانا شروع کیا جس سے وہ انگھوٹی اس شخص کی نظر میں آئی ۔اگلے ہی پل اس شخص نے اپنے ہاتھ کو اپنی دائیں آنکھ پر رکھ کر اس شخص کی طرف دیکھا تو اسے ایسا لگا جیسے اس کی آنکھ نے اپنا رنگ دو پل کے لیئے بدلا ہو ۔

نا ممکن بھیڑیا کبھی اپنے شکار کو چھوڑتا نہیں ۔ اس نے کہنے کے ساتھ اپنے جیب سے چاقو نکالا اور دھاڑ کر اس کے دل کے مقام پر دھڑا دھڑ کئی وار کیئے ۔ اس کی دلخراش چیخیں اس کمرے میں گونجیں اگلے ہی پل وہ دم توڑ گیا ۔