Skip to content

Pas e aina by Rabia Rehman Complete Novel

  • by

یہ کہانی ہے ایک فین گرل اور ایک ولاگر کی۔ ایک کیمرہ کس طرح سب کی زندگیوں پہ اثر چھوڑتا ہے۔ ایک لڑکی جو ایک ولاگر کی اتنی دیوانی ہے کہ اس کو فالو کرنے کے چکر میں بہت بڑی غلطی کر بیٹھتی ہے۔ دوسری طرف ولاگر جو کہ فیملی ولاگنگ کرتی ہے کیا واقعی وہ خوش ہے اپنی زندگی میں؟ پس آئینہ حقیقت کچھ اور ہے۔

Sneak

رات گہری ہو رہی تھی ہلکی ہلکی ہوا بھی چل رہی تھی

شاید بارش ہوئی تھی ہر طرف اندھیرا تھا گہرا اندھیرا۔ وہ تینوں تقریبا بھاگتے ہوئے بیسمینٹ تک پہنچے تھے مگر اس سے پہلے کہ وہ اس کو ڈھونڈتے ان کے کانوں نے ٹھاہ کی آواز سنی۔ ہر چیز چند لمحوں کے لیے جیسے ساکت ہو گئی تھی پھر ان تینوں نے خون کی لکیر دیکھی اور وہ سمجھ گئے تھے کہ ان کو آنے میں دیر ہوگئی تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ لڑکی چیخ مارتی پاس کھڑے اس لڑکے نے اس کے لبوں پر سختی سے ہاتھ رکھ کر اس کی چیخوں کا گلا گھونٹا، آنسوں ابل ابل کر لڑکی کی آنکھوں سے نکل رہے تھے۔

” آواز مت نکالنا چلو یہاں سے.” لڑکے نے بنا کسی کو مخاطب کیے سنجیدگی سے کہا اور لڑکی کا ہاتھ پکڑ کر پلٹا، تیسرے نے بھی ان کی پیروی کی تھی۔

****************

رات گہری ہو رہی تھی ہلکی ہلکی ہوا بھی چل رہی تھی

شاید بارش ہوئی تھی ہر طرف اندھیرا تھا گہرا اندھیرا۔ وہ تینوں تقریبا بھاگتے ہوئے بیسمینٹ تک پہنچے تھے مگر اس سے پہلے کہ وہ اس کو ڈھونڈتے ان کے کانوں نے ٹھاہ کی آواز سنی۔ ہر چیز چند لمحوں کے لیے جیسے ساکت ہو گئی تھی پھر ان تینوں نے خون کی لکیر دیکھی اور وہ سمجھ گئے تھے کہ ان کو آنے میں دیر ہوگئی تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ لڑکی چیخ مارتی پاس کھڑے اس لڑکے نے اس کے لبوں پر سختی سے ہاتھ رکھ کر اس کی چیخوں کا گلا گھونٹا، آنسوں ابل ابل کر لڑکی کی آنکھوں سے نکل رہے تھے۔

” آواز مت نکالنا چلو یہاں سے.” لڑکے نے بنا کسی کو مخاطب کیے سنجیدگی سے کہا اور لڑکی کا ہاتھ پکڑ کر پلٹا، تیسرے نے بھی ان کی پیروی کی تھی۔

Teri bandi hoon by Maheen Shah Complete Novel

“تیری باندی” ایک نوجوان لڑکی کی زندگی میں پیش آنے والی ناقابل تصور مشکلات اور دل ٹوٹنے کے واقعات کی عمیق داستان ہے۔ یتیم خانے کی معصومیت سے لے کر جبری شادی کی تلخ حقیقتوں تک، یہ کہانی قاری کو جذباتی اتار چڑھاؤ سے دوچار کرتی ہے۔ یہ کہانی پیچیدہ پلاٹ، کرداروں کی جدوجہد اور چونکا دینے والے موڑ کا جائزہ لیتی ہے جو قاری کو مزید جاننے کے لیے بے چین چھوڑ دیتا ہے۔

کہانی ایک نوجوان لڑکی کے گرد گھومتی ہے جو ایک یتیم خانے میں پرورش پاتی ہے، جہاں اس کی مہربان مالکن اسے اپنی بیٹی کی طرح چاہتی ہے۔ مالکن، جو اسے اپنی بیٹی کی طرح چاہتی ہے، اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ اسے اچھی تعلیم ملے اور مزید تعلیم کے لیے اسے ہاسٹل بھیجتی ہے۔ ہاسٹل میں، وہ ایک دوست بناتی ہے جس کا بھائی ایک المناک واقعے میں ملوث ہو جاتا ہے۔

لڑکی کی دوست کا بھائی قتل کرتا ہے، اور واقعات کے ایک چونکا دینے والے موڑ میں، یتیم لڑکی کو دھوکے سے خون بہا کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، یعنی اس کی جبری شادی کی جاتی ہے۔ اس کی التجاؤں اور یہ بتانے کی مایوسانہ کوششوں کے باوجود کہ اس کا کوئی بھائی نہیں ہے، اس کی فریادوں پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی ہے۔ وہ شخص، اپنے خود غرضانہ مقاصد کے لئے اس کی معصومیت اور بے بسی کو نظر انداز کرتے ہوئے، اس سے شادی کر لیتا ہے۔

کہانی ایک ڈرامائی موڑ لیتی ہے جب انکشاف ہوتا ہے کہ جو لڑکا مارا گیا تھا وہ دراصل لڑکی کا حقیقی بھائی تھا۔ یہ چونکا دینے والا انکشاف لڑکی کی دنیا کو تہس نہس کر دیتا ہے، جس سے وہ تباہ اور دل شکستہ ہو جاتی ہے۔ سچ کی تلخی ناقابل برداشت ہو جاتی ہے، اور وہ بھاگ جانے کا فیصلہ کرتی ہے، پیچھے سوالات اور تباہ شدہ زندگیاں چھوڑ جاتی ہے۔

Ujar gaya hai koi by Aqsa Tehreem Complete Novel

آج پھر وہ اس کے در پر آیا تھا اپنی عرضی لے کر ۔۔ ایک بار پھر سے وہ بے بس ہوئی تھی ۔۔ دونوں دل کے ہاتھوں مجبور تھے ۔۔ ایک کو دوسرا چاہیئے تھا تو دوسرے کو تیسرا چائیے تھا ۔۔ محبت تینوں کے گرد گھومتی انہیں خوار کر رہی تھی ۔۔ مگر کسی کا مقدر نہیں ٹھہر رہی تھی ۔۔

آپ کیوں روز مجھے بے بس کرنے آ جاتے ہیں عارض ! کیا میں انسان نہیں لگتی آپکو ! کیا میں احساس و جذبات سے عاری ہوں ! ۔۔ وہ تھک ہار کے دکھ سے بولی تھی ۔۔ اس کی نگاہیں جھک گئیں ۔۔ کیا کرتا وہ ۔۔ دل کے ہاتھوں مجبور تھا ۔۔ پر تھی تو وہ بھی مگر اس طرح وہ اس کو بے بس تو نہیں کرتی تھی ۔۔ جس طرح وہ اس کو آخری مقام پے لے آیا تھا ۔۔

حیا تیمور میں مجبور ہوں دل کے ہاتھوں ۔۔ تمھارے سوا کوئی نہیں جو مجھے میری محبت دلا سکے ۔۔ وہ سچائی سے بولتا اس کو دنیا کا سب سے ظالم انسان لگا تھا ۔۔ جو اس کی ذات کو روند کر کسی اور کی ذات کو سر کا تاج بنانا چاہتا تھا ۔۔

Teri rahon mein by Aqsa Tehreem Complete novel

  • by

یہ کہانی محبت، قربانی اور تقدیر کے سنگم پر کھڑے ان کرداروں کی ہے جو زندگی کی کٹھن راہوں میں اپنے جذبات، خوابوں اور رشتوں کی آزمائشوں سے گزرتے ہیں۔ انسان کی خواہشات اور قسمت کے درمیان چلنے والی جنگ، امید اور مایوسی کے درمیان جھولتے لمحات، اور محبت کے رنگوں میں لپٹی تلخ حقیقتیں اس کہانی کی روح ہیں۔

“تیری راہوں میں” نہ صرف ایک دلکش رومانی کہانی ہے بلکہ یہ زندگی کے حقیقی مسائل اور جذباتی پیچیدگیوں کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ یہ محبت کی ان راہوں کی داستان ہے جہاں راستے ہمیشہ ہموار نہیں ہوتے، قربانیاں دی جاتی ہیں، صبر آزمایا جاتا ہے اور کبھی کبھی محبت کے باوجود بھی جدائی مقدر بن جاتی ہے۔

Sneak

وہ چاروں نشے میں دھت پڑے تھے ۔۔ شراب کی بوتلیں ان کے اردگرد پڑی ماحول میں بو پھیلا رہیں تھیں ۔۔ سمندر کی لہریں رات کے سناٹے میں شور مچا رہیں تھیں ۔۔

یار بس کر دو پینا ۔۔ گھر کیسے جائیں گے ۔۔ جازب آفندی نے ماہر کو شراب کو پھر سے شراب منہ کو لگاتے دیکھ کر ٹوکا تھا ۔۔ ان تینوں کی بانسبت جازب نے کم پی رکھی تھی ۔۔ جبکہ وہ تینوں اپنے ہواس غواہ رہے تھے ۔۔

یار آج کی رات تو عیش کرنے دے ۔۔ میرے باپ الیکشن جیت گیا ہے ۔۔ ماہر بولتے ہوئے لڑکھڑا کر گرتے گرتے بچا تھا ۔۔ جبکہ یمن اور زین سمندر کی خشک مٹی پے گرے پڑے تھے ۔۔ وہ اس قدر شراب پی چکے تھے کہ اٹھنے کی ہمت نہیں کر پا رہے تھے ۔۔

رات بہت ہو گئی ہے چلو اٹھو گھر چلیں ۔۔ جازب گاڑی کی چابی اٹھ کر ان کو بھی اٹھاتے ہوئے بولا ۔۔ جو ایک انچ نہیں ہلے تھے ۔۔

نہیں آج کی رات یہیں رہتے ۔۔ چاندنی رات کے نیچے ۔۔ یمن نشے میں دھت ہوتا بولا تھا ۔۔ اس کی آنکھیں بند ہو رہیں تھیں ۔۔ نشہ آہستہ آہستہ اس کے حواس سلب کر رہا تھا ۔۔

****************

Ishq e samar by Saira Khan Complete Novel

  • by

وو میں نے آپ کو تھینکس کہنا تھا ۔۔اس رات

آپ نے میری جان بچائ مجھے تو بلکل امید

نہیں تھی کہ اب میں زندہ بچوں گی ۔۔

ثمر گیلانی نے اس کی بات کا کوئ جواب نہیں دیا ۔۔ایسے ہی ڈرائیو کرتا رہا ۔۔

فروا کو لگا وو کہے گا یہ تو میرا فرض تھا یا

یہ ہی کہ دیگا تمہاری جگی کوئ اور ہوتا تو

میں یہ ہی کرتا ۔مگر اس نے کوئ ری ایکشن

نہ دیا ۔۔

فروا کو شرمندگی سی ہونے لگی ۔۔پھر وو چہرہ موڑے باہر دیکھنے لگی

تم وہاں کیا کرنے گئ تھی ؟کچھ دیر بعد گاڑی میں ثمر گیلانی کی آواز گونجی تو فروا

نے حیران ہو کر گردن موڑ کر اسے دیکھا ۔۔۔یہ تین ملاقات میں پہلی بات تھی جو اس نے فروا سے کی تھی ۔۔

وو سامنے ہی دیکھ رہا تھا اس نے فروا پر ایک نظر ڈال کر دوبارہ اس کی جانب نہیں دیکھا تھا ۔۔

کہاں ؟

فروا نے حیرانی سے باہر نکلتے اس سے پوچھا تھا۔۔

آگ والی جگہ پر؟

ثمر گیلانی نے سنجیدگی سے پوچھا ۔

آگ والی جگہ پر ؟ فروا سوچنے لگی ۔۔پھر اسے یاد آیا کہ جب وو احمر سے بات کر رہی تھی تو ان کے پاس سے ایک ویٹر گزرا تھا اور سارا جوس اس کے ہاتھوں پر الٹ دیا تھا ۔۔۔

احمر نے اسے اچھی خاصی ڈانٹ پلائ اور کہا جاؤ میڈم کے ہاتھ دھلاؤ ۔۔تو پھر وو اس سے سوری سوری کرتے وو اسے اس سائڈ پر لے آیا ۔۔اور اسے کہا ۔۔آپ یہں کھڑی ہوں میں پانی کی بوتل لاتا ہوں ۔۔پر کافی دیر گزرنے کی بعد

وو واپس آتا دکھائ نا دیا تو فروا واپس پلٹنے لگی مگر اس سے پہلے ہی آگ بھڑک اٹھی۔۔۔

جو اسے یاد تھا اس نے سب دھیرے دھیرے

ثمر گیلانی کو بتا دیا۔۔

جبکہ ثمر گیلانی اس کی باتیں سن کر اور الجھ گیا ۔۔تو کیا یہ واقعی ایک حادثہ تھا

یا کسی نے انہیں گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔۔

ثمر گیلانی سامنے سڑک پر نگاہ جماۓ بے چین سا تھا۔

Sanatay goonjte hain by Rimsha Riaz Complete Novel

  • by

مامو! وہ نہیں آتے کیا؟ زویا نے تھوڑا پاز لیا پھر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا جو اب کنکر دور پھینک رہی تھی۔

کون سے چھوٹے یا بڑے؟ رضیہ نے اس کی طرف دیکھے بنا پوچھا۔

کیا مطلب چھوٹے مامو تو نانی کے ساتھ نہیں رہتے ؟ زویا کو حیرت کا جھٹکا لگا۔

ہاہ! رضیہ نے ٹھنڈا سانس خارج کیا۔

زویا باجی آپ کیوں آئی ہیں؟ وہ برہمی سے بولی۔

کیا مطلب میری نانو کا گھر ہے! وہ ہڑبڑا گئی۔

اتنے سالوں میں کسی کو نا یاد آیا وہ بھی نانی دادی یا ماں ہیں کسی کی؟ اب کیا کریں گی اس بوڑھے وجود سے آپ ؟ رضیہ کا لہجہ تلخ ہو گیا۔

آپ مجھ سے ایسے بات نہیں کر سکتی! وہ پھٹی آواز میں بولی ۔

ظاہر ہے آپ مالک ہیں میں نوکر ہوں ،مگر اب میں کسی کو اجازت نہیں دوں گی کہ میری بی جان کو تنگ کرے ، ائی سمجھ آپ مہمان بن کے آئی ہیں اچھے سے دن گزاریں اور جائیں! وہ اب پھر سے مرچوں کی طرف متوجہ ہوئی آپ مرچیں کوٹتے ہوئے اس کی سختی بڑھ گئی تھی۔ زویا کا سانس تھما وہ سیڑھیاں اترتی نیچے ائی ، سیڑھیوں کے سامنے ایک درخت تھا جس کے نیچے ایک تخت تھا ، وہاں ایک بوڑھی اماں ٹیک لگائے تھیں۔وہ چپکے سے آئی اور ان کے پاس نیچے زمین پہ بیٹھ گئی۔

بوڑھا وجود انکھیں موندھے ہوئے تھا۔ چہرے پہ ہڈیاں نمایاں تھیں ، زویا نے ان کا ہاتھ نرمی سے ہاتھ میں لیا تو جیسے کسی بچے کا ہاتھ ہو۔رضیہ چھت سے دیکھ رہی تھی اس نے اپنے تھمے آنسو بہنے دئیے جو کب سے بہنے کے لئیے بے تاب تھے ،نمکین پانی منہ کا ذائقہ بنا وہ ہنس دی۔

چھوٹے صاب کہتے تھے ، آنسو اتنے مزیدار ہوتے ہیں اگر پی لئیے جائیں ، کئ یادیں اوازیں اس کے کانوں سے ٹکرائیں۔۔

Siyah-e-Munsaf by Mishaal Rana Complete Novel

  • by

سیاہ منصف، ایک ایسا ناول جو آپ کو جرائم کی دنیا کی گہرائیوں میں لے جاتا ہے، جہاں انصاف کی تلاش ایک پیچیدہ پہیلی بن جاتی ہے۔ جبرئیل راؤ، ایک ذہین لیکن پراسرار ماضی کا شکار، ایک ایسے مقدمے کی تحقیقات کر رہا ہے جو اس کے اپنے وجود کے تاریک پہلوؤں سے جڑا ہوا ہے۔

کیا وہ قاتل کو پکڑنے میں کامیاب ہو گا، یا خود اپنے اندر کے شیطان کا شکار ہو جائے گا؟

سیاہ منصف سسپنس، تھرل اور انسانی نفسیات کا ایک ایسا شاہکار ہے جو آپ کو آخری صفحے تک اپنی گرفت میں رکھے گا۔ یہ کہانی آپ کو حیران کن موڑ، خطرناک رازوں اور دل دہلا دینے والے انکشافات سے روشناس کرائے گی۔

Sneak

کچھ دیر بعد ایک ہیڈلائن نے سحرش کو ہلا کر رکھ دیا:

“مقتول ہی قاتل ہے۔ جبرئیل راؤ ہی سیاہِ منصف ہے۔ بھیڑ کی کھال میں بھیڑیا۔”

سحرش حیران رہ گئی۔ پھر ایک ویڈیو دکھائی گئی جو بار بار گلیچ کر رہی تھی۔ اس ویڈیو میں جبرئیل کسی کو مار رہا تھا۔ وہ یقین نہیں کر پا رہی تھی کہ ایسا ہو سکتا ہے۔ ویڈیو کے گلیچ ہونے کی وجہ سے یہ سچائی پر مبنی نہیں لگ رہی تھی۔ بہت سے لوگ کہہ رہے تھے کہ یہ سچ نہیں ہے بلکہ اسے راستے سے ہٹانے کی سازش ہے۔

ادھر جبرئیل جو حیرت میں مبتلا تھا، اس نے گاڑی کے ریڈیو کی طرف دیکھا۔

“کیا؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟”

جبرئیل کو یقین تھا کہ سیاہِ منصف اسے بہت دھوکہ دے سکتا ہے، اس کا اعتبار توڑ سکتا ہے، لیکن یہ سب کچھ نہیں کر سکتا۔ اتنے دھوکے کے باوجود بھی وہ اس پر یقین رکھتا تھا۔ لیکن کیوں ؟

اچانک اس کی گاڑی پر فائرنگ شروع ہوگئی۔ وہ نیچے جھک گیا۔ خوش قسمتی سے اسے گولی نہ لگی، لیکن گاڑی کسی بھی وقت دھماکے سے اڑُ سکتی تھی۔ وہ نیچے کود گیا اور بھاگنے لگا۔ پیچھے آنے والے لوگ اس کا تعاقب کر رہے تھے۔ جبرئیل پر فائرنگ ہو رہی تھی، اور اسے ایک گولی اپنی دائیں ٹانگ میں محسوس ہوئی، پھر دوسری گولی بائیں بازو میں لگی۔ لیکن وہ لنگڑاتا ہوا چلتا رہا، حتیٰ کہ آخری گولی اس کے سینے میں لگی اور وہ پانی میں جا گرا۔ اس کے ساتھ ہی بہہ گیا۔ پانی سرخ ہو گیا۔

یہ ویڈیو بھی کچھ دیر بعد وائرل ہو گئی ۔

سحرش کو اپنی زندگی کے سب سے بڑے دو صدمے مل چکے تھے۔ وہ حیران تھی اور سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ کیا کرے ۔

کیا جبرئیل واقعی سیاہِ منصف تھا؟ کیا وہ مر چکا تھا؟

سحرش بے ہوش ہو گئی۔ جب ہوش میں آئی تو اس کے والدین اور باقی سب لوگ اس کے پاس موجود تھے۔ سب کے چہروں پر مختلف تاثرات تھے، لیکن ایان صاحب کے چہرے پر سب سے زیادہ کرب اور ملال تھا۔

سب نے نیوز دیکھی تھی، اور سب جانتے تھے کہ کیا ہوا ہے۔ حکومت نے اس کی موت کی

تصدیق کر دی تھی۔ عوام دل برداشتہ ہو گئی، جبکہ سیاستدان اور کاروباری لوگ جو بدعنوانی کرتے تھے، خوشی منا رہے تھے۔

کچھ خوش تھے، تو کچھ اداس۔ لیکن سحرش نہ خوش تھی اور نہ ہی اداس۔ اس کے پاس جیسے جذبات ہی نہیں بچے تھے۔ وہ بس خالی تھی، بالکل کھوکھلی۔ اس کا دل مردہ ہو چکا تھا۔

ایک انسان کی موت کے پروانے نے کتنے لوگوں کو دکھ پہنچایا تھا ۔

کچھ دیر بعد ایک ہیڈلائن نے سحرش کو ہلا کر رکھ دیا:

“مقتول ہی قاتل ہے۔ جبرئیل راؤ ہی سیاہِ منصف ہے۔ بھیڑ کی کھال میں بھیڑیا۔”

سحرش حیران رہ گئی۔ پھر ایک ویڈیو دکھائی گئی جو بار بار گلیچ کر رہی تھی۔ اس ویڈیو میں جبرئیل کسی کو مار رہا تھا۔ وہ یقین نہیں کر پا رہی تھی کہ ایسا ہو سکتا ہے۔ ویڈیو کے گلیچ ہونے کی وجہ سے یہ سچائی پر مبنی نہیں لگ رہی تھی۔ بہت سے لوگ کہہ رہے تھے کہ یہ سچ نہیں ہے بلکہ اسے راستے سے ہٹانے کی سازش ہے۔

ادھر جبرئیل جو حیرت میں مبتلا تھا، اس نے گاڑی کے ریڈیو کی طرف دیکھا۔

“کیا؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟”

جبرئیل کو یقین تھا کہ سیاہِ منصف اسے بہت دھوکہ دے سکتا ہے، اس کا اعتبار توڑ سکتا ہے، لیکن یہ سب کچھ نہیں کر سکتا۔ اتنے دھوکے کے باوجود بھی وہ اس پر یقین رکھتا تھا۔ لیکن کیوں ؟

اچانک اس کی گاڑی پر فائرنگ شروع ہوگئی۔ وہ نیچے جھک گیا۔ خوش قسمتی سے اسے گولی نہ لگی، لیکن گاڑی کسی بھی وقت دھماکے سے اڑُ سکتی تھی۔ وہ نیچے کود گیا اور بھاگنے لگا۔ پیچھے آنے والے لوگ اس کا تعاقب کر رہے تھے۔ جبرئیل پر فائرنگ ہو رہی تھی، اور اسے ایک گولی اپنی دائیں ٹانگ میں محسوس ہوئی، پھر دوسری گولی بائیں بازو میں لگی۔ لیکن وہ لنگڑاتا ہوا چلتا رہا، حتیٰ کہ آخری گولی اس کے سینے میں لگی اور وہ پانی میں جا گرا۔ اس کے ساتھ ہی بہہ گیا۔ پانی سرخ ہو گیا۔

یہ ویڈیو بھی کچھ دیر بعد وائرل ہو گئی ۔

سحرش کو اپنی زندگی کے سب سے بڑے دو صدمے مل چکے تھے۔ وہ حیران تھی اور سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ کیا کرے ۔

کیا جبرئیل واقعی سیاہِ منصف تھا؟ کیا وہ مر چکا تھا؟

سحرش بے ہوش ہو گئی۔ جب ہوش میں آئی تو اس کے والدین اور باقی سب لوگ اس کے پاس موجود تھے۔ سب کے چہروں پر مختلف تاثرات تھے، لیکن ایان صاحب کے چہرے پر سب سے زیادہ کرب اور ملال تھا۔

سب نے نیوز دیکھی تھی، اور سب جانتے تھے کہ کیا ہوا ہے۔ حکومت نے اس کی موت کی

تصدیق کر دی تھی۔ عوام دل برداشتہ ہو گئی، جبکہ سیاستدان اور کاروباری لوگ جو بدعنوانی کرتے تھے، خوشی منا رہے تھے۔

کچھ خوش تھے، تو کچھ اداس۔ لیکن سحرش نہ خوش تھی اور نہ ہی اداس۔ اس کے پاس جیسے جذبات ہی نہیں بچے تھے۔ وہ بس خالی تھی، بالکل کھوکھلی۔ اس کا دل مردہ ہو چکا تھا۔

ایک انسان کی موت کے پروانے نے کتنے لوگوں کو دکھ پہنچایا تھا ۔

Koh e noor by Aleezy Khanam Complete Novel

  • by

پراسرار اجنبیوں کی سرگزشت ایک لازوال المیہِ عشق و ہیجان میں ڈھلتی ہے، جہاں تقدیر کے الٹ پھیر دلوں پر گہرے نقوش چھوڑ جاتے ہیں۔