Skip to content

Saleeb by Fatima Shakeel Complete afsana

  • by

کہانی ہے رد کر دیے جانے کی، روند دیے جانے کی،مار دیے جانے کی۔

کہانی ہے سمرا یاسین کی، جس کی آنکھیں نوچ لے گئیں، جس کا دل کھروچ دیا گیا۔ جس کی روح کھینچ دی گئی۔

Dain ka inteqam by Fatima Complete novel

  • by

“ڈائن کا انتقام” ایک ایسی لرزہ خیز کہانی ہے جو خوف، پراسراریت، اور انتقام کے گرد گھومتی ہے۔

ایک گاؤں، جہاں برسوں پہلے ایک ڈائن کو جلایا گیا تھا، اب ایک ممنوعہ جگہ بن چکا ہے۔ لوگ اس گاؤں کے قریب جانے سے بھی ڈرتے ہیں۔ لیکن حالات بدلتے ہیں جب کچھ بے خوف لوگ اس گاؤں میں داخل ہو جاتے ہیں، اور ان کی موجودگی ایک بھیانک راز کو زندہ کر دیتی ہے۔ ڈائن، جو کبھی قید میں تھی، اب آزاد ہے اور اپنے اوپر کیے گئے ظلم کا بدلہ لینے کے لیے تیار ہے۔

یہ کہانی انتقام کی اس آگ کو بیان کرتی ہے جو گاؤں کے ماضی کو نہ صرف جھلسا دیتی ہے بلکہ وہاں آنے والوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے

Aakhri khat by Aleena Kazmi Complete afsana

  • by

افسانوی کسے کہتے ہیں ؟

افسانے کی طرح کا تجسس انگیز، رومانی اور دلچسپ”۔ مثلاً کسی کی شخصیت کو ”افسانوی” کہا جاتا ہے، یعنی ایساآدمی جس کی طرح کا شخص یقین نہ آنے والے افسانوں میں ملتا ہو، یعنی جس میں کچھ پراسراریت ہو اور کشش ہو۔

Nissa by Dua Aslam Complete novel

  • by

خودکشی کے بارے میں اسلامی تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ فعل حرام ہے۔ اِس کا مرتکب اللہ تعالیٰ کا نافرمان اور جہنمی ہے۔ قرآن و حدیث کے دلائل پر بحث سے قبل آئیے دیکھتے ہیں کہ اسلام نے اسے اتنا بڑا جرم کیوں قرار دیا۔ درحقیقت انسان کا اپنا جسم اور زندگی اس کی ذاتی ملکیت اور کسبی نہیں بلکہ اﷲ کی عطا کردہ امانت ہیں۔ زندگی اللہ تعالیٰ کی ایسی عظیم نعمت ہے جو بقیہ تمام نعمتوں کے لیے اساس کی حیثیت رکھتی ہے۔

اسی لیے اسلام نے جسم و جاں کے تحفظ کا حکم دیتے ہوئے تمام افرادِ معاشرہ کو اس امر کا پابند کیا ہے کہ وہ بہرصورت زندگی کی حفاظت کریں۔ اسلام نے ان اسباب اور موانعات کے تدارک پر مبنی تعلیمات بھی اسی لیے دی ہیں تاکہ انسانی زندگی پوری حفاظت و توانائی کے ساتھ کارخانہِ قدرت کے لیے کار آمد رہے۔ یہی وجہ ہے اسلام نے خودکشی (suicide) کو حرام قرار دیا ہے۔ اسلام کسی انسان کو خود اپنی جان تلف کرنے کی ہرگزاجازت نہیں دیتا۔

2۔ قرآن و حدیث میں خودکشی کی ممانعت جیسا کہ اوپر بیان ہوچکا ہے کہ زندگی اور موت کا مالکِ حقیقی اﷲ تعالیٰ ہے۔ جس طرح کسی دوسرے شخص کو موت کے گھاٹ اتارنا پوری انسانیت کو قتل کرنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے، اُسی طرح اپنی زندگی کو ختم کرنا یا اسے بلاوجہ تلف کرنا بھی اﷲ تعالیٰ کے ہاں ناپسندیدہ فعل ہے۔

Nisa by Umaima Shafeeq Qureshi Complete novel

  • by

“مجھے یہ فیصلہ منظور نہیں….”نسوانی آواز پر سب مردوں کو ہی جیسے دھچکہ لگا تھا۔وہ بزرگ انسان فورا چارپائی سے اٹھے تھے۔اپنی بیٹی کو اپنے سامنے دیکھ ایک غصہ کی شدید لہر ان کے جسم میں ڈور گئی تھی۔برسوں کی عزت آج جیسے خاک میں ملی تھی۔وہاں موجود سب مردوں کے چہروں پر ناگواری چھائی تھیں۔سب نے ہی اپنی نگاہیں پھیر لی تھیں۔جو چہرہ آج تک سات پردوں میں چھپا ہوا تھا،آج ہر کوئی باآسانی اس کا طواف کر سکتا تھا۔

“میرے ساتھ یہ ظلم نا کریں ابا۔آپ کی بیٹی اجڑ چکی ہیں۔مجھے طلاق ہو گئی ہے۔مجھے واپس مت بھیجیں۔”وہ بھاگتی ہوئی اپنے باپ کے پیروں میں گری تھی۔اب ان کے جوتوں پر ہاتھ رکھے وہ بلک بلک کر رو رہی تھی۔

“مجھے اسی آنگن میں زندہ دفنا دیں مگر مجھے واپس نا بھیجیں۔آپ کی بیٹی نے ہمیشہ آپ کا ہر حکم مانا ہے۔آج اپنی بیٹی پر اعتبار کر لیں ابا!”جوتوں پر رکھے ہاتھ کپکپا رہے تھے۔صحن کی کچی اور گیلی مٹی نے اس کے سفید سوٹ کو گردآلود کر دیا تھا مگر اصل داغ تو اس کے ماتھے پر لگ چکا تھا،طلاق کا داغ….

“ہمارے خاندان میں طلاقیں نہیں ہوا کرتیں۔میرے بیٹے نے بھی تمہیں طلاق نہیں دی۔ حاجی جی!آپ کی بیٹی میرے بیٹے کے ساتھ رہنا ہی نہیں چاہتی تبھی اس قسم کا جھوٹ باندھ رہی ہے۔”سماعتوں سے اب اس کے سسر کی آواز ٹکرائی تھی۔وہ سختی سے آنکھیں میچے مزید سر جھکا گئی تھی۔آسمان پر سرخ ابر کی جگہ اب کالی گھٹاؤں نے لے لی تھی۔گھر کے آنگن میں اب بجلی گرج رہی تھی۔

“کیا ثبوت ہے طلاق کا،نا کوئی گواہ اور نا ہی کچھ اور….!”

“عورت ناقص العقل ہوتی ہے۔یقینا سننے میں غلطی ہوئی ہو گی۔”اب مختلف لوگ مختلف قسم کی سرگوشیاں کر رہے تھے۔جس کے لباس پر آج تک گندگی کا ایک چھینٹا بھی نہیں پڑا تھا،آج اس کا لباس،اس کی عزت معنوں تار تار ہو رہی تھی۔

“کہا تھا نا کہ اس سب کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔”دروازہ بند کرتے اس کا شوہر اس کے پاس آ کر کھڑا ہوا تھا۔

چادر کے اندر چھپے چاقو پر اس لڑکی کی گرفت مزید مضبوط ہوئی تھی۔ہاتھ لرز رہے تھے مگر اس کے پاس اب دوسرا کوئی راستہ نہ بچا تھا۔

“اپنے دماغ میں یہ بات بٹھا لو کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے، لوٹ کر تمہیں میرے پاس ہی آنا ہے۔”بستر پر اپنا کوٹ اچھالتے وہ ڈریسنگ ٹیبل کی جانب بڑھا تھا۔

“جاؤ جا کر چائے بنا کر لاؤ۔”گھڑی اتارتے اس نے حکم صادر کیا تھا۔اس لڑکی کی آنکھوں میں اب خون اتر آیا تھا۔طیش کی وجہ سے وہ اب گہری گہری سانسیں لے رہی تھی۔

“آپ نے مجھے طلاق دے دی ہے۔میں اب حرام ہوں آپ پر….”کچھ تامل کے بعد اس کے لب ہولے سے ہلے تھے۔

“ہاں دی ہے میں نے طلاق،اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟کوئی ثبوت ہے تمہارے پاس؟”اس کی جانب پلٹتے وہ تمسخرانہ انداز میں گویا ہوا تھا۔آنکھوں میں شیطانیت ہی شیطانیت تھی۔اس لاچار کی بےبسی اسے سکون دے رہی تھی۔

“آپ مان رہے ہیں کہ آپ نے مجھے طلاق دی ہے؟”وہ سرخ آنکھوں کے ساتھ بستر سے اٹھی تھی۔

“ہاں مان رہا ہوں۔ابھی تو تم میرے لیے چائے بنا کر لے کر آؤ اس کے بعد….”وہ قدم قدم چلتا اس کے قریب گیا تھا۔وہ سہم کر پیچھے ہٹی تھی۔

“اس کے بعد میں تمہیں وہ سبق سکھاؤں گا کہ تم ساری زندگی یاد رکھو گی۔تمہاری وجہ سے میری جو بےعزتی ہوئی ہے،اس کا حساب تو تم دو گی۔چمڑی ادھیر دوں گا میں تمہاری….” اسے بازو سے دبوچے وہ سرد لہجے میں متکلم ہوا تھا۔

Raaz e dil by Kinza Khan Complete novel

  • by

رات کا تیسرا پہر تھا اور وہ اندھا دھند بھاگتی جا رہی تھی۔ بکھرے بال اور بکھرے سراپے کے ساتھ بہت ڈری سہمی قدم اٹھا رہی تھی۔ چار لڑکے اس کے تعاقب میں اس کے پیچھے آ رہے تھے۔ وہ اپنی عزت کی حفاظت کے لیے لگاتار بھاگ رہی تھی اور اس قدر ڈری ہوئی تھی کہ اسے کسی بھی چیز کا ہوش نہیں تھا۔ ہر طرف سناٹا چھایا ہوا تھا اس سناٹے میں وہ اکیلی ان سے بھاگ رہی تھی اور لگاتار اللّٰہ سے اپنی آبرو کی حفاظت کی دعا کر رہی تھی۔ وہ بھاگنے میں اس قدر مگن تھی کہ اپنے سامنے سے آتی ہوئی گاڑی نہ دیکھ سکی اور اس سے ٹکرا کر بہت بری طرح زمین پہ گری اس کا سر پھٹ گیا اور ہلکا ہلکا خون رسنے لگا۔ وہ اپنا سر ہاتھوں میں گرا گئی اور اس جگہ ہاتھ رکھ لیا جہاں سے سرخ مادہ بہہ رہا تھا۔

گاڑی میں سے ایک شخص باہر آیا اور پنجوں کے بل اس کے سامنے بیٹھ پریشانی سے پوچھا۔

“آپ ٹھیک ہیں؟۔۔۔۔”

Khoobsurat safar by Hania Noor Asad Complete novel

  • by

میری زندگی سے مصیبتیں کب ختم ہونگی ماما مجھے کب سکون ملے گا؟ میرے نصیب میں آنسو ہی آنسو لکھ دیے گئے ہیں۔ وہ سویرا بیگم کی گود میں منہ چھپائے بری طرح رو رہی تھی۔ مسلسل تین ماہ سے وہ جاب کے لیے خوار ہو رہی تھی اسے جاب مل کر نہیں دے رہی تھی۔ بس میری بچی ۔۔۔ اللہ پر بھروسہ رکھو مل جائے گی جاب ۔ اور تمہیں کس چیز کی کمی ہے جو تمہیں جاب کرنی ہے؟ سویرا بیگم نے اسکا چہرہ سامنے کیا ۔ ضرورت؟ ماما جان ضروریات زندگی! ساری عمر میں زمل ارسلان ہی رہوں گی؟ کبھی بدل نہیں سکتی ؟ میرا کوئی کرئیر کوئی فیوچر نہیں ہے؟ وہ بہتی آنکھوں سے سویرا بیگم کو دیکھ رہی تھی۔ میری جان صبر کرو ان شاءاللہ جلد تمہیں جاب ملے گی ۔ انہوں نے اسکے آنسو صاف کیے۔وہ دوبارہ انکی گود میں سر رکھ کر لیٹ گئی ۔ کاش میں کسی امیر شخص کی بیٹی ہوتی۔ اس نے سسکتے ہوئے کہا اور سویرا کا دل لرز اٹھا۔ کچھ دیر بعد زمل سو گئی ۔ سویرا نے اسکا سر تکیے پر رکھا اور اٹھ کھڑی ہوئیں۔ میری جان تم ایک امیر انسان کی ہی بد نصیب اولاد ہو ۔ سویرا نے اس پر کمفرٹ برابر کرتے ہوئے دل میں کہا تھا۔