Skip to content

Hidat e ishq by Maryam Rajpoot Complete novel

  • by

وہ لڑکی دو دن پہلے یہاں آئی تھی۔۔!!! گورکن کی بات پر وہ جھٹکے سے مڑا تھا

کون؟

یہی جس کا جنازہ ابھی لایا گیا ہے

آپکو کیسے پتا یہی تھی؟ صالح کو یقین نہیں آرہا تھا

کیونکہ وہ کہ گئی تھی اسکی قبر تیار کر دوں وہ ٹھیک دو دن بعد یہاں دفنائی جائے گی میں نے وجہ پوچھی تو بولی سردار کا حکم ہے اور یہ حکم میری جان لے لے گا اور بس پھر وہ روتی ہوئی چلی گئی تھی جبکہ گورکن کی بات سنتے صالح جبریل جیسے مر گیا تھا ۔۔

آہہہ اسمارہ حمید تم سے کیا کہوں؟ کیا گلا کروں؟ اتنا یقین تھا تمھیں کہ تم میرے علاوہ کسی کو قبول نہیں کر پاؤ گی ۔۔دیوانی لڑکی خدا گواہ ہے صالح جبریل کو تم سے عشق ہو گیا ہے اور یہ کہتے کہتے وہ رو دیا تھا اتنا اونچا لمبا مرد کسی لڑکی کی قبر پر بھیٹا رو رہا تھا عشق تھا اور اس حدتِ عشق میں وہ اب ہمیشہ جلنے والا تھا۔

December ki barish by Arfa Ali Complete novellette

  • by

دسمبر کی بارش از قلم ارفع علی محبت پہ مبنی ایک خوبصورت سا ناولٹ یہ کہانی عارف اور اقصیٰ کی محبت کے گرد گھومتی ہے عارف جس کو اقصیٰ سے پہلی نظر میں محبت ہوجاتی ہے یہ کہانی ہے دسمبر کے خوبصورت موسم پہ یہ چھوٹا سا ناولٹ ہمیں بہت کچھ سیکھا دیتا ہے کچھ لوگوں کو ہم سے محبت ہوتی ہے لیکن وہ لفظوں میں اظہار نہیں کرتے کچھ لوگوں کو مجبوریاں ہوتی ہیں ہمیں کبھی بھی لوگوں سے بدگمان نہیں ہونا چاہیے بدگمانی میں ہم اپنے سے دور چلے جاتے ہیں اس ناولٹ میں ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ کبھی بھی لوگوں سے بدلا لینے میں اتنا آگے نہیں جانا چاہے کہ اپنا ہی برا کر لیں یہ کہانی ہے بیٹیوں کی مرضی پہ شادی کے لیے رضا مندی بیٹیوں کا حق ہے بلاوجہ ان پہ اپنے فیصلے نہیں تھوپنے چاہیے اس کہانی میں بتایا گیا ہے کہ اگر محبت سچی ہو تو معجزے ہو ہی جاتے ہیں رائٹر کا انداز بیان اچھا تھا انتہائی اہم موضوع پہ بہت سلجھا ہوا لکھا ہے کہانی اور پلاٹ بھی اچھا تھا ایک چھوٹا سا خوبصورت ناولٹ لیکن بہت ہی پر مزہ اچھوتا سا۔۔

Tu mera hai sanam by Saira Khan Complete novel

  • by

عورت کو کبھی نیچ نا سمجھنا خدارا ۔۔

عورت کبھی حوا کبھی مریم کبھی زہرا ۔۔

میں تم سے بات کر رہا ہوں اسما۔۔شہیر احمد اس کی جانب دیکھتے جتاتا ہوا بولا۔۔

مگر میں آپ سے کوئ بات نہیں کرنا چاہتی بہتر ہے مجھے چپ چاپ گھر چھوڑ دیں نہیں تو مجھے یہں اتار دیں میں ٹیکسی سے چلی جاتی ہوں۔۔

وو دو ٹوک بولی تھی۔۔

شہیر احمد نے لب بھینچ کے گاڑی کا رخ موڑا ۔۔

یہ کہاں جا رہے ہیں آپ ؟

گاڑی وو رش والی جگہ سے نکال کے سنسان سڑک کی جانب لایا تو اسما نے حیران ہو کر اسے دیکھا۔۔

فکر نا کرو اغوا نہیں کر رہا۔۔وو غصے سے بولا۔۔

آپ کی اتنی ہمت بھی نہیں ہے لا وارث نہیں ہوں میں۔۔وو اسی انداز میں بولی تو شہیر احمد کی آنکھوں میں سرخی اترنے لگی۔۔

اس نے گاڑی جھٹکے سے ایک سائڈ پر روک دی ۔۔

گاڑی کیوں روک دی اب۔۔؟اسما نے اس کی جانب دیکھا۔۔جو آنکھوں سے گلاسز اتار رہا تھا۔۔۔

تم مجھ سے اس طرح بات کیوں کر رہی ہو ۔۔کتنا بڑا ہوں تم سے تمیز لحاظ بھول بھیٹھی ہو؟شہیر احمد افسوس سے بولا

تو کس طرح بات کروں ۔۔وو طنزیہ بولی تھی۔۔

ویسے ہی جیسے پہلے کرتی تھی۔۔وو سنجیدگی سے بولا

اسما نے حیران ہو کر اسے دیکھا جو اتنا کچھ ہونے کہ باوجود چاہتا تھا اسما اس کے ساتھ پہلے جیسا رویہ رکھے ۔۔

آپکو لگتا ہے کہ آپ کی جانب سے اتنا بڑا دھوکہ ملنے کے باوجود میں آپ سے پہلے کی طرح بات کروں گی۔۔

کیا دھوکہ دیا ہےمیں نے تمہیں؟

شہیر احمد کی سنجیدگی برقرار تھی۔۔

آپ نے میرا اعتماد توڑا ہے۔۔وو سرخ چہرہ لیے بولی تھی۔۔

وو کیسے؟

شہیر احمد اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا۔۔

آپ اچھی طرح جانتے تھے کہ میں آپکو اپنا سگا بھائ مانتی ہوں ۔۔پھر بھی آپ نے میرے متعلق ایسی گھٹیا سوچ رکھی۔۔

اور کیا گھٹیا سوچ رکھی میں نے تمہارے متعلق؟

کیا کبھی تمہاری کم عمری یا تمہاری معصومیت کا فائدہ اٹھایا؟کیا تمہارے اعتماد کا فائدہ اٹھایا

کیا تم سے کبھی غیر اخلاقی بات کی ۔۔

وو یکدم غصے میں آتا تھوڑا تیز لہجے میں بولا تھا۔۔اسما سہم سی گئ وو تو بچپن سے اس کے کیئرنگ رویہ کی عادی تھی۔۔

بولو جواب دو؟

نہیں۔۔بے اختیار اس کا سر نفی میں ہلا۔۔

پھر کیسے اعتماد توڑا میں نے ؟شہیر احمد نے سوچ لیا تھا آج وو اس لڑکی کا دماغ سیٹ کر کے رہے گا۔۔

آپ نے مجھ

سے میرا ایک بھائ چھین لیا۔۔

ایک کزن چھین لیا ایک دوست چھین لیا یکدم ہی وو آنسو بہانے لگی تھی۔۔

شہیر احمد لب بھینچ گیا۔۔

کون کہہ رہا ہے چھین لیا میں اب بھی تمہارا کزن ہوں تمہارا دوست ہوں پہلے کی طرح ۔۔

تم کچھ بھی مجھے بعد میں سمجھنا پہلے مجھے اپنا دوست اور کزن ہی سمجھو ۔۔

وو اسے سمجھاتا ہوا بولا تو اسما کے اندر تھوڑا سکون اترا ۔۔اتنے دن سے جو بات تکلیف دے رہی تھی اس میں زرا کمی آۓ تھی۔۔

شہیر احمد بھی اس کا چہرہ تھوڑا پر سکون ہوتا ریلیکس ہوا تھا۔۔

میں بس نہیں چاہتا تھا کہ میری فیلینگز تمہیں پتہ چلے ۔۔کیوں کے میں جانتا ہوں ماما تمہیں کبھی قبول نہیں کریں گی۔۔

Revenge by Mirha Rajpoot Complete novel

  • by

” عشمہ تمہیں یاد ہے آج کیا تاریخ ہے ”

عیشام نرمی سے پوچھتے ڈرنک کا گلاس اپنے لبوں سے لگایا

” جی عیشام بھلا میں کیسے بھول سکتی ہوں ”

یہ بولتے ہوئے اسکے گال سرخ ہوئے وہ دن سوچتے ہوئے چہرے پر خوشی بکھر گئی

” دیکھو آج بھی وہی دن ہے وہی تاریخ ہے تم ہو میں ہوں اور ہمارا عشق ” …..

عیشام نے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا یہ وہی دن تھا جب اس نے عشمہ کو پرپوز کیا تھا اور آج بھی وہی دن تھا جب اس نے دوبارہ اسے پرپوز کیا

مگر فرق صرف اتنا تھا کے وہ ڈئیر تھا اور یہ حقیقت ….

اتنے ہی وقت میں عیشام کا خاص طور پر تیار کروایا کیک بھی آ چکا تھا ہلکے سے میوزک میں انہوں نے کیک انجواۓ کیا

تو عیشام نے اسے ڈانس کی آفر اسکے قریب ہو کر اس نے اسکی قمر پر ہاتھ رکھا تو اسکے دل میں ہلچل مچ گئی

” آپکو ترس نہیں آیا مجھ پر ” ؟

اسکے شانو پر دونوں ہاتھ رکھتی وہ منہ لٹکا کر بولی وہ جب بھی ایسے بات کرتی تھی عیشام کو بہت پیاری لگتی تھی

” میں جاننا چاہتا تھا کہ تم بھی میرے لئے وہی فیل کرتی ہو جو میں تمہارے لئے کرتا ہوں تو تمہارے چہرہ کے اڑتے رنگوں نے مجھے میرے سوال کا جواب دے دیا “

اسکی قمر پر گرفت مضبوط کرتے وہ اسکے تھوڑا اور قریب ہوا

” تم نے جو چار سال تڑپایا مجھے تو خود چار گھنٹوں میں ہی تھک گئی ”

اسکی ناک پر ناک رگرتے وہ چھیڑنے والے انداز میں بولا تو اس نے نظریں اٹھا کر اسکی طرف دیکھا

بغیر کچھ بولے عشمہ نے ناراضگی ظاہر کی بہت ڈرتی تھی وہ اسے کھونے سے ……

وہ ناراض ہو رہی تھی اب عیشام پر فرض تھا اسکے نخرے برداشت کرنا جو وہ خوشی خوشی کرتا تھا

عشمہ اس سے ایک سال بڑی تھی اسے اچھا نہیں لگتا تھا کہ عیشام اسے آپ بولے اس لئے اس نے عیشام کو صاف بولا تھا میں آپکو آپ بولوں گی اور آپ مجھے تم

جسے وہ مسکراتے ہوۓ مان گیا تھا عشمہ عیشام کی کمزوری تھی اور وہ یہ بات پچپن سے ہی جانتی تھی

عیشام شاہ صرف اپنی ڈول سے عشق کرتا تھا مگر وہ یہ سمجھ کیوں نہ سکی کے کہ وہ شخص اسے چھوڑ کر کسی اور کے پاس کیوں جائے گا ……

Pyar hua chupke se by Eman Fatima Complete novel

  • by

اس لڑکی کا میں ایسا گیم بچاو گی نہ کیسی کو مو دیکھانے قابل نہیں رہے گی کیا سوچھا تھا ہم سے بج جائے گی۔۔۔۔
بس ایک بار نظر آ جائے پھر ایسا خال کرو گی کے کسی کو مو دیکھانے قابل نہیں رہے گی میری بیٹی کی زندگی اچاڑی ہے میں اس کی نازل اچاڑ دو گی وہ دش میں آ گے بولی تھی اسے یہ نہیں بتا تھا ایسا کر کے خود اپنی موت کو دعوت دے رہی ہے ۔۔۔۔۔۔

Tabeer e hayat by Juhaina Arwish Complete

معلوم نہیں زندگی_ کیا ہے. ۔۔۔۔۔۔،؟؟؟ سراب ہے یا حقیقت کچھ زندہ ہو کر بھی مردے ہیں اور کچھ مردے ہو کر بھی اس کو جی رہے ہیں۔۔۔۔۔۔حقیقت کیا ہے؟؟؟؟ہر کسی کے منطق اور ماننے والے کو اپنا ہی سب کچھ حقیقت لگتا ہے۔ ہر کوئی اسے مختلف زاویے سے دیکھ رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔کسی کے لیے مال و دولت زندگی ہے۔ تو کسی کے لیے عزت نفس خودی اور انا ۔۔۔۔۔کسی کے لیے محبت اور محبوب زندگی ہے۔۔۔۔۔ تو کسی کے لیے اپنا اونچا ماتا اور نہ جھکنا زندگی سے زیادہ عزیز ہے۔۔۔۔۔ یہ بالکل صحیح ہے میرے خیال سے ۔۔۔۔۔۔۔۔کیونکہ اگر میں غلط ہوتی تو کوئی شخص دوسرے دن اپنے انا کی تسکین کے لیے کسی دوسرے کو اپنے سامنے نہیں مارتا۔۔۔۔۔ ہر دوسرے دن دو محبت کرنے والے ایک دوسرے سے جدا نہ ہوتے۔۔۔۔۔ اگر ان میں سے ایک بھی تھوڑا سا جھکنے لگتا کوئی شخص اپنے ہی خون اور خود کو موت کے منہ میں نہ دھکیلتا اگر یہ مال و دولت زندگی کو تصور نہیں کیا جاتا۔۔۔۔۔ اور نہ ہی کسی شخص کے شریانے پٹتے اس خبر سے کہ جس کو اس نے محبوب مانا یا اس کو سب سے زیادہ چاہا اپنی زندگی سے بھی بڑھ کر اہمیت دیا وہ کسی اور کا ہو گیا۔۔۔۔یہ کہانی بھی کچھ لوگوں کی ہے۔ جو زندگی اپنے اپنے لحاظ سے جینے کے متمنی ہیں۔ ہر لحاظ کے دو پہلو ہیں اچھا اور برا کون کس پہلو کے پیچھے جاتا ہے یہ اسی شخص کے ہاتھ اور احتیارمیں ہے۔۔۔۔۔جو پہلو جو اپناتا ہے اس کو اپنی زندگی تصور کر لیتا ہے ہر چیز واضح ہے یا پھر سب کچھ ہی دھندلا ہے ۔۔۔۔؟؟؟؟انہی ذکر شدہ چیزوں کے علاوہ بھی کچھ ہے جس سے ہم نہیں دیکھ سکتے؟؟؟ یا ہم دیکھنا ہی نہیں چاہتے؟؟؟؟؟

Allah ka rasta by Gul Gandapur Complete novel

  • by

دیکھو زونین جو کچھ بھی ہوا میں جانتا ہوں اِس میں تمھارا کوئی قصور نہیں اور میں تمہیں چھوڑ کر نہیں گیا تھا مُجھ پر اعتبار کرو زوینی،اِس سب میں صوفیہ ہی کا قصور تھا اُس نے نہ صرف ہمارا بلکہ خود کا بھی بہت نقصان کیا،

میرا یقین کرو زوینی اُس وقت حالات کُچھ سہی نہیں تھے پاپا کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا جاناں میری مجبوری تھی مُجھے سمجھنے کی کوشش کرو یار میں نہیں جاتا تو نجانے کیا ہو جاتا پلیز زوینی،

زونین نے ایک ٹھنڈی اہ بھری

وہ دونوں سمندر کے کنارے ایک بینچ پر بیٹھے تھے، زونین سامنے دیکھ رہی تھی،

عبدان خانزادہ بار بار وضاحتیں وہ لوگ دیتے ہیں جو گنہگار ہوں اور رہی بات اعتبار کی تو اعتبار توڑنے والوں پر دوبارہ بھروسہ کرنا ایک بہت بڑی بیوقوفی ہیں جو کہ میں نہیں کر سکتی۔۔