عورت کو کبھی نیچ نا سمجھنا خدارا ۔۔
عورت کبھی حوا کبھی مریم کبھی زہرا ۔۔
میں تم سے بات کر رہا ہوں اسما۔۔شہیر احمد اس کی جانب دیکھتے جتاتا ہوا بولا۔۔
مگر میں آپ سے کوئ بات نہیں کرنا چاہتی بہتر ہے مجھے چپ چاپ گھر چھوڑ دیں نہیں تو مجھے یہں اتار دیں میں ٹیکسی سے چلی جاتی ہوں۔۔
وو دو ٹوک بولی تھی۔۔
شہیر احمد نے لب بھینچ کے گاڑی کا رخ موڑا ۔۔
یہ کہاں جا رہے ہیں آپ ؟
گاڑی وو رش والی جگہ سے نکال کے سنسان سڑک کی جانب لایا تو اسما نے حیران ہو کر اسے دیکھا۔۔
فکر نا کرو اغوا نہیں کر رہا۔۔وو غصے سے بولا۔۔
آپ کی اتنی ہمت بھی نہیں ہے لا وارث نہیں ہوں میں۔۔وو اسی انداز میں بولی تو شہیر احمد کی آنکھوں میں سرخی اترنے لگی۔۔
اس نے گاڑی جھٹکے سے ایک سائڈ پر روک دی ۔۔
گاڑی کیوں روک دی اب۔۔؟اسما نے اس کی جانب دیکھا۔۔جو آنکھوں سے گلاسز اتار رہا تھا۔۔۔
تم مجھ سے اس طرح بات کیوں کر رہی ہو ۔۔کتنا بڑا ہوں تم سے تمیز لحاظ بھول بھیٹھی ہو؟شہیر احمد افسوس سے بولا
تو کس طرح بات کروں ۔۔وو طنزیہ بولی تھی۔۔
ویسے ہی جیسے پہلے کرتی تھی۔۔وو سنجیدگی سے بولا
اسما نے حیران ہو کر اسے دیکھا جو اتنا کچھ ہونے کہ باوجود چاہتا تھا اسما اس کے ساتھ پہلے جیسا رویہ رکھے ۔۔
آپکو لگتا ہے کہ آپ کی جانب سے اتنا بڑا دھوکہ ملنے کے باوجود میں آپ سے پہلے کی طرح بات کروں گی۔۔
کیا دھوکہ دیا ہےمیں نے تمہیں؟
شہیر احمد کی سنجیدگی برقرار تھی۔۔
آپ نے میرا اعتماد توڑا ہے۔۔وو سرخ چہرہ لیے بولی تھی۔۔
وو کیسے؟
شہیر احمد اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا۔۔
آپ اچھی طرح جانتے تھے کہ میں آپکو اپنا سگا بھائ مانتی ہوں ۔۔پھر بھی آپ نے میرے متعلق ایسی گھٹیا سوچ رکھی۔۔
اور کیا گھٹیا سوچ رکھی میں نے تمہارے متعلق؟
کیا کبھی تمہاری کم عمری یا تمہاری معصومیت کا فائدہ اٹھایا؟کیا تمہارے اعتماد کا فائدہ اٹھایا
کیا تم سے کبھی غیر اخلاقی بات کی ۔۔
وو یکدم غصے میں آتا تھوڑا تیز لہجے میں بولا تھا۔۔اسما سہم سی گئ وو تو بچپن سے اس کے کیئرنگ رویہ کی عادی تھی۔۔
بولو جواب دو؟
نہیں۔۔بے اختیار اس کا سر نفی میں ہلا۔۔
پھر کیسے اعتماد توڑا میں نے ؟شہیر احمد نے سوچ لیا تھا آج وو اس لڑکی کا دماغ سیٹ کر کے رہے گا۔۔
آپ نے مجھ
سے میرا ایک بھائ چھین لیا۔۔
ایک کزن چھین لیا ایک دوست چھین لیا یکدم ہی وو آنسو بہانے لگی تھی۔۔
شہیر احمد لب بھینچ گیا۔۔
کون کہہ رہا ہے چھین لیا میں اب بھی تمہارا کزن ہوں تمہارا دوست ہوں پہلے کی طرح ۔۔
تم کچھ بھی مجھے بعد میں سمجھنا پہلے مجھے اپنا دوست اور کزن ہی سمجھو ۔۔
وو اسے سمجھاتا ہوا بولا تو اسما کے اندر تھوڑا سکون اترا ۔۔اتنے دن سے جو بات تکلیف دے رہی تھی اس میں زرا کمی آۓ تھی۔۔
شہیر احمد بھی اس کا چہرہ تھوڑا پر سکون ہوتا ریلیکس ہوا تھا۔۔
میں بس نہیں چاہتا تھا کہ میری فیلینگز تمہیں پتہ چلے ۔۔کیوں کے میں جانتا ہوں ماما تمہیں کبھی قبول نہیں کریں گی۔۔