Kaheen der na ho jaye by Sofia Amjad
Kaheen der na ho jaye by Sofia Amjad Kaheen der na ho jaye by Sofia Amjad This is social romantic Urdu novel based on fiction… Read More »Kaheen der na ho jaye by Sofia Amjad
Kaheen der na ho jaye by Sofia Amjad Kaheen der na ho jaye by Sofia Amjad This is social romantic Urdu novel based on fiction… Read More »Kaheen der na ho jaye by Sofia Amjad
Maharat by Sadaf Asif Complete Novel Maharat by Sadaf Asif Complete Novel This is social romantic Urdu novel based on fiction and some of them… Read More »Maharat by Sadaf Asif Complete Novel
Teri chah mai by Ayesha Tanveer Teri chah mai by Ayesha Tanveer This is social romantic Urdu novel based on fiction and some of them… Read More »Teri chah mai by Ayesha Tanveer
“تم۔۔۔؟تم یہاں کیا کررہی ہو۔۔۔؟” وہ یک دم اپنی جگہ سے اٹھ کر اس کے سامنے آیا تھا۔۔۔
“وہ۔۔۔میں۔۔۔کافی۔۔۔کافی لائی تھی۔۔۔” اس نے کپ اس کے سامنے کیا۔۔۔
“تم سے مانگی تھی۔۔۔؟”اس نے کڑے تیور لئے اسے گھورا۔۔۔
“کافی۔۔۔” اس نے ہنوز کپ سامنے کئے رکھا۔۔۔
“ماں۔۔۔۔ماں۔۔۔۔” وہ حلق کے بل چلایا تھا۔۔۔
اس سے تو کبھی اس کے بابا نے اونچی آواز میں بات نہیں کی تھی اور آج سے پہلے تک ارحان بھی تو کبھی یوں چلایا نہیں تھا۔۔۔۔
“ماں۔۔۔۔” وہ چیخا تو ڈر کے مارے عریبیہ کے ہاتھ میں پکڑا کپ زمین پر جاگرا۔۔۔۔صدف صاحبہ بھی بھاگ کر اندر آئی تھیں۔۔۔”اوہو۔۔۔کیا ہوگیا ہے ارحان۔۔۔” اگلے ہی پل وہ عریبیہ کی جانب لپکیں ۔۔۔
“یہ یہاں کیا کررہی ہے۔۔۔۔؟”
“بدتمیزی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔آواز دھیمی رکھو۔۔۔”
“مام۔۔۔میں آپ سے کہہ رہا ہوں یہ یہاں کیا کررہی ہے۔۔۔۔میرے کمرے میں کیوں آئی ہے۔۔۔؟”
“تمہیں دکھائی نہیں دے رہا کافی دینے آئی تھی۔۔۔اس میں گدھوں کی طرح چیخ کر بچی کو ڈرانے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔” وہ اپنے ساتھ لگی سہمی سی کھڑی عریبیہ کی پیٹھ سہلا نے لگیں۔۔۔
“میں نے کتنی بار منع کیا ہے میرا کام آپ کے اور رباب کے علاوہ کوئی نہ کیا کرے ۔۔۔”
“اچھا۔۔۔اور اگر عریبیہ نے کردیا تو کیا مسئلہ ہوگیا ہے تمہیں۔۔۔؟”
“مجھے بہت بڑا مسئلہ ہے ۔۔۔آپ آئندہ اسے میری چیزوں سےدور ہی رکھئیے گا۔۔۔” اس نے صدف صاحبہ سے کہا اور پھر اس کو آڑے ہاتھوں لیا۔۔۔”تمہیں بہت شوق ہے خواہ مخواہ اچھا بننے کا۔۔۔؟ دوسروں کے کام کرنے کا۔۔؟اک بار کہا تھا نا دور رہنے کو۔۔۔سمجھ نہیں آتی بات۔۔۔” اس کے جملے بے عزتی کا احساس لئے ہوئے تھے۔۔۔وہ بے ساختہ ہی ان سے لپٹی رودی۔۔۔
“ارحان۔۔۔اب اگر تمہاری زبان بند ناں ہوئی نہ تو میں بتا رہی ہوں مجھ سےبرا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔۔جاؤ یہاں سے۔۔۔”
“آئندہ میری چیزوں کو تمہارا ہاتھ نہیں لگنا چاہیے۔۔۔۔” صدف صاحبہ کے منع کرنے کے بعد بھی وہ اپنی بات کہہ کر ہی گیا تھا۔۔۔۔ اسے ارحان کا غصہ اور اس کے الفاظ آج پھر سے یاد آگئے تھے ۔۔۔۔
اس نے اس سے کہا تھا کہ وہ کبھی اس کا اس کی چیزوں پر لمس برداشت نہیں کرے گا۔۔۔اب ۔۔۔”یا اللہ۔۔۔۔” اس نے بے بسی سےکہا۔۔۔وہ اپنی جگہ سے اٹھ گئی اور گھر کے اندر آتے ہی جانے کیا خیال سمایا کہ اپنے بابا کے کمرے میں چلی آئی۔۔۔اس نے آہستہ سے دروازہ کھولا مبادہ کہیں اٹھ ہی نہ جائیں لیکن اگلے ہی لمحے انہیں زمین پر گرا دیکھ کر وہ ان کی جانب بھاگی ۔۔۔کاش کے وہ دروازہ کھولتی اور وہ اٹھ ہی جاتے۔۔۔وہ ان کا سر اپنی گود میں رکھے کبھی انہیں آوازیں لگا نے لگی تھی اور کبھی بوا کو۔۔۔
یہی وہ لڑکی ہے سر۔۔
اندر چلو اور ایک ایک چیز کی تلاشی لو۔انسپکٹر کے کہنے پر ڈی ایس پی نے فورا حکم نامہ جاری کیا۔ عائشہ یونہی بے یقینی اور حیرانگی کے جذبات میں گھری کھڑی تھی کہ ہاتھ پر بندہی جانے والی ہتکڑیوں نے اس کو ہوش دلایا۔
اپ۔۔۔۔ اپ لوگ یہاں کیا کر رہے ہیں ۔مجھ سے کیا چاہیے اپ کو ۔میں نے کیا کیا ہے ۔عائشہ نا سمجھی میں انہیں اپنے گھر کی حالت ابتر کرتے دیکھ رہی تھی ۔میری چیزوں کی تلاشی۔۔۔۔۔
چٹاک ۔۔ وہ ابھی چیخ ہی رہی تھی کہ فیمیل پولیس انسپیکٹر نے ایک زوردار تھپڑ مار کر اس کی بولتی بند کروائی۔ یہ سوال تو تمہیں ربیعہ کو مارنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا۔
کیا۔۔۔۔ ربیعہ۔۔۔۔ ربیعہ مر گئی ہے ۔۔۔ عائشہ کی بے یقینی میں ڈوبی گھٹی گھٹی اواز ابھری۔ابھی کل تو میں اس سے مل کر ائی ہوں وہ یونہی بے یقینی کی کیفیت میں بول رہی تھی ۔
جی ہاں،۔۔۔ کل ہی اپ مل کر ائی ہیں اوراسے ہمیشہ کے لیے موت کی نیند سلا ائی۔۔ اس فیمیل انسپیکٹر نے حقارت امیز نظروں سے دیکھتے ہوئے اس سے کہا۔
بکواس بند کرو۔ اپنی میں نے کسی کو نہیں مارا ۔۔۔
اے ۔۔۔۔۔۔چپ کر۔ اس فیمل انسپیکٹر نے زوردار گرج میں اے کو لمبا کرتے ہوئے عائشہ کو چپ رہنے کی تلقین کی۔ یہ تو تھانے جا کر پتہ چلے گا بی بی۔۔۔ لے چلو اسے ڈی ایس پی نے مسلسل بولتی عائشہ سے تنگ ا کر اسے پولیس اسٹیشن لے جانے کو کہا۔ پولیس اسی طرح تلاشی میں مگن تھی ۔جیسے ہر ایک ایک چیز کو سکین کر رہی رہی تھی ۔تو دوسری طرف عائشہ کو ہتھکڑی باندھے نیچے لے جایا جا رہا تھا۔ پوری بلڈنگ کے لوگ اسے اس طرح جاتا دیکھ رہے تھے کوئی توبہ توبہ کر رہا تھا تو کوئی حیران ہو رہا تھا
ارے یہ تو عائشہ بچی ہے یہ کسی کو پھول نہ مارے ،یہ قتل کیسے کر سکتی ہے۔ کچھ بھلے دل والی آنٹیاں افسوس سے اسے دیکھ رہی تھی تو کسی کی زبان پہ یہ الفاظ تھے
اللہ اللہ کیسا زمانہ اگیا بھئ، ویسے تو بڑی پردے والی بنتی ہے کرتوت دیکھو میڈم کے ۔۔۔
عائشہ رو رو کر ہلکان ہو گئی تھی۔ اس کی زبان میں نے نہیں مارا ۔۔۔میں نے نہیں مارا۔۔۔ کا ہی ورد کیے جا رہی تھی۔ پولیس اسے گاڑی میں بٹھا چکی تھی۔ گاڑی پولیس سائرن بجاتی اگے بڑھ گئی۔
افف۔۔ربیعہ ۔۔میں تمہیں پورے کالج میں ڈھونڈ کر ا رہی ہوں اور تم ادھر ان کے پاس بیٹھی ہو ۔
عائشہ کو نہیں معلوم تھا کہ ربیعہ کی کب ڈیتھ ہوئی اور اسے کس نے مارا تھا اور اسے اس بات کی سمجھ بھی نہیں ارہی تھی کہ اس پر الزام کیوں لگایا جا رہا ہے ۔جب اس کے رونے دھونے سے کسی پر کوئی اثر نہ ہوا تو زندگی سے ہاری اس لڑکی نے گاڑی کی پشت سے سر ٹکا کر بے اواز انسو بہانا شروع کر دیے۔ ساری یادیں در کھلا پا کر جیسے حاضر ہونا شروع ہو گئی ہوں۔۔۔
عائشہ تم کب باز اؤ گی۔ ان کو کتنا برا لگا ہوگا ۔ربیعہ اس کے انداز پر احتجاج کر رہی تھی۔
تو لگ جائے برا۔۔ میری طرف سے بھاڑ میں جائیں ،سخت زہر لگتی ہیں مجھے وہ لڑکیاں ۔۔۔
طواف نہیں تھی وہ۔۔۔۔۔۔ وہ غر ائی
وہ سب سے پاک تھی اس گھٹیا جگہ پر رہتے بھی وہ پاک تھی خدا نے اس کی حفاظت کی تھی اور تو۔۔۔۔ اس نے آنکھیں فرح بائی کی آنکھوں میں ڈالی اس کے منہ پر تھوکا فرح کا منہ نیچے جھک گیا
تجھے لگتا ہے کہ تم ہم سب کو بے بس کرے گی اور ہم سب تیری قید میں رہیں گے تو بھول گئی فرا بائی کے اوپر ایک خدا بھی بیٹھا ہے ہمارا خدا۔۔۔۔ وہ خدا جس کے پاس بے بس کرنے کی اور قید کرنے کی طاقت ہے جس کے پاس آزاد کرنے کی طاقت ہے تو نے وہ خدا بننا چاہا فرابا ئی تھی پر تو بھول گئی وہ خداقہر بھی برساتا ہے تجھ جیسے بندوں پر اور جب اس کا قہر آن پڑتا ہے فرح بائی اور ایک جھٹکے سے اس نے فرح کی گردن چھوڑ دی وہ نیچے جا گری
لیکن زارہ ابھی چپ نہیں ہوئی تھی تو سزا دے رہی تھی سوہا کو عبرت ناک تو میں بتاتی ہوں تجھے عبرتنات کسے کہتے ہیں جب خدا کا قہر آتا ہے نا تو تجھ جیسے بندوں کا حال کیا ہوتا ہے
فرہ بائی ابھی تک زمین پر گری تھی
اٹھ۔ ۔۔۔۔۔۔ وہ جھک کر چیخی
فرا بائی اسی طرح پڑی تھی
اٹھ وہ پھر چیخی اور فرا بائی گڑبڑا کر ایک دم کھڑی ہو گئی اب وہ اس کے بالکل قریب آئ ۔ اب اس کی اواز بھی دھیمی تھی
تجھے بہت شوق تھا نا سب کو بے بس کرنے کا آج تجھے میں بتاتی ہوں وہ اپنے سینے پر انگلی رکھ بولی بے بسی ہوتی کیا ہے
عابد استاد ۔۔۔۔۔ وہ زور سے بولی گن لائیں فرح بائی کی
فرا بائی کی خرا بھائی زور دے کر بولی وہ گن جو تم کبھی نہ چلا سکے کیونکہ اس پہ صرف اسی کا نام نقوش تھا اس سے صرف یہی مرے گی وہ فرح کی آنکھوں میں انکھیں ڈال کر بول رہی تھی
عابد استاد سر ہلا کر فورا گیا اور دو منٹ بعد واپس ایا تو اس کے ہاتھ میں گن تھی بالکل پیک اس کا کور بھی نہیں اترا ہوا تھا گن کو دیکھ کر فرح کی ہوائیاں اڑی وہ ایک دم زہرا کے قدموں میں گر گئی
مجھے معاف کر دو زارا دیکھو جیسا تم کہو کہ میں ویسا کروں گی تم مجھے اپنا غلام بنا لو میں تمہارے غلامی کر لوں گی لیکن مجھے مت مارو وہ کانپ رہی تھی اسے اپنی موت سامنے دکھائی دے رہی تھی زارا نے پاؤں کی ٹھوکر سے ا سے پیچھے کیا
وہ عابد کے پاؤں میں تھی اور زندگی کی بھیک مانگ رہی تھی عابد میں نے تمہیں کچھ بھی نہیں کیا تم پلیز مجھے بچا لو اس کے پاؤں پکڑ رہی تھی عابد نے بھی بالکل زارہ کی طرف پاؤں کی ٹھوکر سے اسے پرے کیا تھا اب وہ التمش کے قدموں میں آئی تھی دیکھو میں نے تمہارے ساتھ برا کیا لیکن میں تمہیں سب کچھ دوں گی میں سوہا جیسی ہزار لڑکیاں تمہارے قدموں میں رکھ دوں گی میرے پاس بہت پیسہ ہے وہ بالکل اس وقت کوئی پاگل لگ رہی تھی
Almohiz aur almozil by Aiman Hanif Meer Epi 1 Almohiz aur almozil by Aiman Hanif Meer Complete novel This is social romantic Urdu novel based… Read More »Almohiz aur almozil by Aiman Hanif Meer Complete novel
“اے عشقِ جنون” از ارفا خان – مکمل ناول
ایک ایسی محبت جس میں ہو جنون، شدت، قربانی… اور بےقراری۔
کبھی محبت عبادت بن جاتی ہے، اور کبھی جنون۔
“اے عشقِ جنون” ایک ایسی کہانی ہے جو دلوں کو جھنجھوڑ دیتی ہے — یہ عشق کی شدت اور جذبات کی انتہا کی داستان ہے۔
داستان قلب عشق۔۔۔۔
دوستی کی داستان۔۔۔ پیار کی داستان۔۔۔ قربانی کی داستان۔۔۔
وہ داستان جس میں دو دل ملیں تو ایک دل ٹوٹتا ہے۔
داستان ہے یہ انمول دوستی کی ۔۔۔
محبت کی۔۔۔
عشق کی۔۔۔
داستان ہے یہ تقدیر کے فیصلوں پر یقین کی۔۔۔
وہ داستان جس میں دو دل ملیں تو ایک دل ٹوٹتا ہے۔
یہ تحریر اجکل کے نئے لکھاریوں کے لئے ! جو کہ ماشاءاللہ سے اتنا اگے نکل چکے ہیں، کہ انھیں پڑھ کر آخرت ہی خراب کرنی ہے۔
آج کی تحریر تنقید ہے
میرے ضمیر کی آواز ہے
Free download this based on
“One bitter and harsh truth“
Aaina ke is taraf by Rimsha Riaz
complete in pdf.
یہ کوئی ناول ،ناولٹ ، افسانہ ، یا کہانی نہیں ہے ،بلکہ ایک تلخ حقیقت ہے ، یہ تحریر لکھاری ،پبلشرز اور قارئین کے لئیے ہے ، یا تنقید برائے اصلاح بھی کہہ سکتے ہیں ، کس چیز کی عکاسی ہے یہ تحریر وہ پڑھ کر معلوم ہو جائے گا ، اس کے لئیے میری مدد کی ہے ،کسی کے ایک جملے نے
” جب نیکی کی راہ پہ چلو تو شر سے مت ڈرو”
میں نے لکھنا چھوڑ دیا تھا یہ جملہ تو مجھے یاد رہا مگر میری ہمت نہیں ہوئی کہ میں اس تنقید میں صفحے بھرتی جاؤں ۔کچھ تھوڑا بہت لکھا ہے ، غلطی ہو تو معذرت ، دعا میں یاد رکھئے گا ۔
۔۔ رمشاء ریاض