Skip to content

Zindagi ki dor by Mona Kanwal Complete novel

  • by

ہر رات کی اب یہی حقیقت ہے

کہ ایک دل ہے۔

جس کی آنکھوں میں امید روتی ہے

میرا دل ہے

جو ہوچکا ہے کیا وہ اس

حقیقت کو روتا ہے

یا جو ہو نہ سکا وہ ہو جائے

اس امید کو روتا ہے

میرا دل نہ سمجھ ہے

مانتا نہیں ہے میں چاہوں بھی

تو تم کو پا نہیں سکتا

اور یہ بات کسی کو سمجھا نہیں سکتا

Beast ka ishq Season 2 by Mahi Shah Complete novel

  • by

یہ اٹلی کی شام کا حسین منظر تھا جہاں سب مرد اور عورتیں اس شام کے حساب سے خوبصورت ملبوسات میں ملبوس دنیا کی سب سے بڑی نیلامی کی تقریب میں موجود تھے بڑے بڑے بزنس مین اور سیاستدان کے ساتھ شاہی خاندانوں کے بڑے بڑے لوگ لیونیراوڈو دا ونسی( Leonardo da Vinci)

کے آرٹ کی تخلیق کی دنیا کی دوسری مہنگی پینٹنگ کی نیلامی ہونے جا رہی تھی اور دنیا کے خرب پتی اور ارب پتی لوگ

بے چینی سے اس نیلامی کے شروع ہونے کا انتظار کر رہے تھے

لیو نیراوڈو ر دا ونسی کے آرٹ کی بہترین تخلیق میں سے ایک تھی جسے Salvator Mundi کے نام سے جانا جاتا تھا اور اس وقت اسکا مالک “بدر بن عبدا ﷲ بن السعود” تھا جو کہ سعودی عرب کا کلچر منسڑ اور شاہی خاندان سے تھا۔ اسنے اٹلی

کے Doge’s Place میں اس نیلامی کی تقریب کا انعقاد کیا تھا۔

اتنے میں پیلس کے مین گیٹ پر نیوی بلیو رنگ کی

Mercedes Maybach Exelero

آ کر رکی تھی۔اور اسکے پیچھے اسکے گارڈز کی گاڑیوں بھی موجود تھی ایک گارڈ نے آ کر گاڑی کا ڈور اوپن کیا۔

جس میں سے تقریباً پینتیس برس کا جوان آنکھوں پر بلیک گلاسز لگائے باہر نکلا تھا جو اس وقت آف وائٹ برانڈڈ فور پیس میں ملبوس تھا ہاتھوں میں مہنگی ترین گھڑی پہنے پیروں میں براؤن لیدر کے شوز پہنے بالوں کو نفاست سے جیل سے سیٹ کیے

وہ پیلس کے مین دروزے کی طرف بڑھا جہاں ریڈ کارپٹ بچھا ہوا تھا۔اندر داخل ہوتے ہی ایک انگریز لڑکی جو یونیفارم میں پہنے سب کے انیوٹیشن کارڈ کو سکین کرتے انہیں ویلکم کر رہی تھی۔

Welcome Sir please Show me your Invitation card…!

وہ لڑکی مسکراتے ہوئے بولی تو اسنے اپنے کوٹ کی پاکٹ سے اپنا انیوٹیشن کارڈ نکال کر اس لڑکی کو دیا جو وہ ڈیوائس پر سکین کرتے چیک کرنے لگی ڈیوائس سے اپروول ہونے کے بعد اس لڑکی کے انیوٹیشن واپس کیا۔

Thanks Goldy Sir Her The way you can go and

Have a good day…!

وہ لڑکی ہاتھ کے اشارہ سے اسے راستہ بتاتے مسکراتے ہوئے دوسرے مہمانوں کی طرف متوجہ ہو گئی۔

اسنے اندر داخل ہوتے اپنی شارپ نگاہوں سے چارو طرف کا جائزہ لیا سکیورٹی کا ہائی انتظام کیا گیا تھا۔

جب وہی کی انتظامیہ لڑکی نے اسے چہرے پر لگانے کے لیے ماسک کی ٹرے پکڑے ماسک آفر کیا۔

No Grazie

(نہیں شکریہ)

وہ اٹالین زبان میں بولتے شکریا ادا کرتے آگے بڑھنے لگا تو وہاں پاس کھڑے پچاس برس افریقن آدمی نے اسے روکا۔

آپکو یہ ٹرائے کرنے چاہیے دیکھیں کتنے خوبصورت ہیں اس افریقن حبشی آدمی نے اسے فرینڈلی لگانے کا کہا یقیناً وہ بھی کوئی بزنس مین تھا جو اس نیلامی میں آیا تھا۔

نہیں شکریا میں ایسے ہی ٹھیک ہوں وہ مسکراتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔

تو وہ افریقن حبشی آدمی اسے دیکھ کر مسکرایا جیسے اسے بہت اچھے طریقے سے جانتا ہو ۔۔۔۔

ہال میں سب کیسا لگ رہا ہے وہ آگے بڑھتے وہ اپنے کان میں لگے ائیر پیس میں ہال میں موجود بڑے بڑے بزنس مین اور سیاستدانوں کو دیکھتے بولا ان میں کہی لوگ شاہی گھرانوں سے بھی موجود تھے۔

بہت رئیسوں والی فیلنگ آ رہی ہے ایک خوبصورت نسوانی آواز گولڈی نے اپنے ائیر پیس میں سنی جو یقیناً ایما کی تھی

وہ لیڈیز تھری پیس سوٹ میں ملبوس تھی وہاں موجود کئی لوگ اسے مڑ مڑ کر دیکھتے وہ ایک خوبصورت بلونڈ بالوں کے ساتھ سبز آنکھوں والی خوبصورت لڑکی تھی اور کوبرا کی ٹیم کا حصہ تھی لیکن کوبرا کی ٹیم کا حصہ ہونا وجہ اسکی خوبصورتی نہیں بلکہ اسکی کام میں قابلیت کے ساتھ مہارت تھی۔

اتنے میں بدر بن عبدا ﷲ السعود بھی وہاں آ گیا تو سب لوگ کرسیوں پر بیٹھ گئے اور نیلامی کی تقریب کا آغاز ہوا۔

اور ایک ہوسٹ سٹیج پر آ کر وہاں موجود ڈائیس پر کھڑی ہوئی…!!!!

میں ہو اپ کی ہوسٹ ایما۔۔۔۔۔

جی تو لیڈیز اینڈ جینٹل مین آپکے آنے کا بہت شکریہ جیسے کہ آپ سب جانتے ہیں آپکو یہاں صدی کی سب سے شاندار پینٹنگ کی نیلامی کے لیے مدعو کیا گیا دیکھتے ہیں کون قسمت والا ہوگا جو اسے حاصل کرے گا لیکن باقی سب دیدار کر سکتے ہیں اس شاہکار کا وہ اپنے ہاتھ سے سامنے موجود لال کپڑے ڈھکی ہوئی پینٹنگ کی طرف اشارہ کرتے بولا اور وہ لال کپڑا پینٹنگ سے ہٹا دیا گیا پینٹنگ ایک ڈیجیٹل تجوری میں موجود تھی جسکے لاک کو ان لاک کرنے کے تین مراحل تھی پہلا مرحلہ صرف اسکے مالک کے چہرے کو سکین کرتی تھی پھر دوسرے مرحلے میں اسکی مخصوص آواز کے کوڈ سے اور تیسرا مرحلہ اسکے فنگر پرنٹس سے کھلتی تھی پینٹنگ کو دیکھتے سب لوگ تعریف کرتے تالیاں بجانے لگے۔جی تو باقاعدہ نیلامی کا آغاز کرتے ہیں۔

کیوں نا پچاس پانچ کروڑ سے شروع کیا جائے وہ ہوسٹ پینٹنگ کی طرف اشارہ کرتے بولا

ٹائیگر پوزیشن پر پہنچ گئے وہ سامنے موجود پینٹنگ کو اپنی شارپ نگاہوں سے دیکھتے بولا جسے وہ جیسے شکاری اپنے شکار کو دیکھتا ہے۔

ہاں میں پہنچ گیا ہوں کوبرا اور سکارپیو کے قریب لوکیشن لے رہا ہوں وہ جیٹ بوٹ میں موجود سامنے ٹاور پر موجود اپنے سنائیپر ساتھی کو دیکھتے بولا جو دور بین کی مدد سے آس پاس کا جائزہ لے رہا تھا

تو پھر آج انہیں ڈی گینگ کا کمال دکھا دیتے ہیں وہ سامنے موجود پینٹنگ کو دیکھتے ہوئے بولا۔

برو تجھے یاد ہے نا اپنی شرط اگر یہ پینٹنگ تو نا لے پایا تو تیری وہ

بلیک لگژری یاٹ میری ہوگی سکارپیو کی آواز ائیر پیس سے گونجی۔

دنیا کا ایسے کوئی کام نہیں ہے جو کوبرا نا کر سکے تم لوگ پارٹی کی تیاری کرو کیوں کہ آج یہ پینٹنگ تو ہم حاصل کر کے رہیں گے وہ سائیڈ سمائل پاس کیے بولا تو دوسری طرف سے ٹائیگر اور سکارپیو کا قہقہہ اسکے ائیر پیس میں گونجا۔

بالکل پیلس کے سامنے موجود بلڈنگ میں سی۔آئی۔اے کی ساری ٹیم موجود تھی جو کیمروں کی مدد سے اس تقریب پر نظر رکھے ہوئے تھی انہیں مخبری کی گئی تھی کہ آج یہاں دنیا کی

دوسری مہنگی ترین پینٹنگ گولڈی چورانے والا ہے اس لیے وہ پوری ٹیم اپنی انسپکٹر ریچل کے ساتھ وہاں موجود سب لوگوں پر نظر رکھ رہی تھی وہ کتنے مہینوں سے گولڈی کو پکڑنے کی کوشش کر رہے تھے مگر وہ تھا کہ قابو آنے سے پہلے فرار ہو جاتا تھا۔

ذرا اس آدمی پر زوم کرنا انسپکٹر ریچل کمپیوٹر پر بیٹھے اپنے ٹیم میمبر کو دیکھتے بولی تو اسنے زوم کیا۔

مطلب خبر پکی تھی وہ گولڈی کے چہرے کو کمپیوٹر سکرین پر دیکھتے دانت پیستے بولی۔

Sono un agente di polizia, Rachel, dell’Unità Culturale Haritage, sei qui?

میں پولیس آفیسر ریچل ہوں کلچر ہیری ٹیج یونٹ سے کیا تم لوگ وہاں موجود ہو وہ کان میں لگے ائیر پیس میں بولی۔

تو نیلامی کی تقریب میں موجود پولیس والے جو عام کپڑوں میں ملبوس تھے انہیں نے اوکے بولا۔

آج دیکھتی ہوں گولڈی تم کیسے میرے ہاتھوں سے بچ کر جاتے ہو وہ غصے سے گولڈی کے چہرے کو سکرین پر دیکھتے ہوئے بولی۔

آج کی شام کے سب سے خاص مہمان کا بھر پور تالیوں میں سے استقبال کریں جو نا صرف سعودی عرب کے کلچر منسڑ ہیں بلکہ اس شاہکار کے مالک بھی ہیں وہ ہوسٹ بدر بن عبدا ﷲ السعود کو سٹیج میں آنے کی دعوت دیتے ہوئے بولا تو سب نے تالیاں بجاتے اس سعودی منسٹر کا استقبال کیا۔

جی تو قیمت لگانا شروع کرتے ہیں ایما پینٹنگ کی طرف دیکھتے بولا۔

تو وہاں موجود ایک آدمی اپنا ہاتھ اٹھاتے مائک میں پانچ ملین بولا۔

جی تو جرمنی سے پانچ ملین ایما بولی تو وہاں موجود دوسرے آدمی نے ہاتھ اٹھاتے بیس ملین بولا۔

جی تو آسڑیلیا سے بیس ملین ایما پھر سے بولی

پولیس والوں کی نظر گولڈی پر تھی جو ان آدمیوں کو بولی لگاتے دیکھ رہا جو کہ پچاس ملین تک پہنچ گئی تھی۔

Ek thi heer by Aiman Akmal Complete novel

ہاۓ اللہ جی ایسا بھی میں نے کیا کر دیا جو اس ریسٹورنٹ کے سارے ویٹرز اور باہر کھڑے اتنے سارے گارڈز میرے پیچھے ہی پڑ گئے۔ وہ پھولتے سانس کے ساتھ ایک جگہ رکی اور پیچھے دیکھا۔ ابھی تو اسے کوئی بھی نظر نہیں آ رہا تھا۔ وہ ہاتھ میں نیلے رنگ کی فائل پکڑے سادہ سے جوڑے میں ملبوس سر پر سٹالر سے حجاب بناۓ ہوۓ تھی۔

اس نے سامنے دیکھا۔ اسے دہی بھلوں کا ٹھیلا نظر آیا۔ جلدی سے آگے بڑھتی وہ اس ٹھیلے سے کمر ٹکا کر بیٹھ گئی اور اپنی پھولتی سانسوں کی روانی کو درست کرنے لگی۔

اچانک ہی کوئی تیزی سے بھاگتے ہوۓ وہاں سے گزرا تھا۔ اس نے جلدی سے اپنے دوپٹے سے منہ ڈھانپا۔ ایسے ہی کتنے لوگ وہاں سے گزرے تھے۔ اور صد شکر کے ان میں سے کسی نے اسکو نہیں دیکھا تھا۔

اس نے وہ فائل اسی ٹھیلے پر رکھی اور کھڑی ہوئی۔ پتہ نہیں کیوں بھگا رہے ہیں مجھے۔۔۔؟ وہ اداسی سے بولی۔ اس ٹھیلے والے نے اسے دیکھا اور مؤدب انداز میں بولا۔ باجی خیریت ہے۔۔؟

کہاں بھیا۔۔۔؟ آج کل کے لوگ خیریت سے رہنے کہاں دیتے ہیں۔۔۔؟ وہ منہ بسورتے ہوئے بولی۔ ایک پلیٹ دہی بھلے۔۔۔ ساتھ ہی دہی بھلوں کا آڈر دیتے ادھر اُدھر دیکھنے لگی کہ کہیں اب بھی کوئی اس کے پیچھے نا ہو۔

آپ کو پتہ ہے پورے پچیس منٹ سے بھاگ رہی ہوں میں۔۔۔ اور تو اور میں نے تو صبح ناشتہ بھی نہیں کیا تھا۔ اب ایسا لگ رہا ہے جیسے ابھی زمین بوس ہو جاؤں گی۔ اور پتہ نہیں ان لوگوں کو کیا مسئلہ ہو گیا میرے ساتھ۔ مجھے چور بول رہے ہیں۔ اس دکاندار نے پلیٹ اسے پکڑائی تو وہ دہی بھلے کھانے لگی۔

ارررےےے۔۔۔۔ وہ دکاندار بولا۔

ایسے لوگوں کا نا جہنم میں الگ ہی بحریہ ٹاؤن ہو گا۔۔ مرچی زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ سوں سوں کرتے بول رہی تھی اور دہی بھلے بھی کھا رہی تھی۔

بالکل سہی۔۔۔ وہ اس کی تائید میں بولا۔

اب آپ ہی بتائیں یہ اتنی کیوٹ سی پیاری سی بھولی بھالی سی لڑکی کہیں سے چور لگتی ہے۔۔۔

ہاں۔۔۔ وہ پلیٹیں دھوتا ہوا بے دھیانی میں بولا۔

ہاں۔۔۔؟ اس لڑکی کا منہ میں چمچ لے جاتا ہوا ہاتھ رکا۔ اور وہ خونخوار نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے تیکھے لہجے میں بولی۔

وہ میرا مطلب ہے ہاں۔۔۔ ناں۔۔ ہاں۔۔۔ مگر۔۔۔ وہ۔۔۔ وہ گڑبڑا گیا۔

وہ رہی۔۔۔۔ پکڑو اسے۔۔۔۔ اس کے کانوں میں مردانہ آواز گونجی اور ہاتھ میں پکڑا چمچ پلیٹ میں گرا۔

مر گئی۔۔۔۔ بھاگ ہیر۔۔۔۔ بھاگ لے۔۔۔۔ پلیٹ اس آدمی کو پکڑاتے وہ بغیر فائل لیے ہی وہاں سے بھاگی۔

ارے مگر میرے پیسے۔۔۔۔؟ اس آدمی نے پیچھے سے آواز لگائی۔

بعد میں دے دوں گی۔۔۔۔ وہ چلائی تھی اور رفتار میں سستی نا لائی۔

ہے لڑکی رکو۔۔۔۔ پکڑو اسے۔۔۔۔ اسے اپنے پیچھے سے بہت سی آوازیں سنائی دے رہی تھیں مگر وہ رک نہیں سکتی تھی۔

اتنی تیز بھاگتے ہوۓ جب اچانک ہی وہ رکی تو بمشکل گرنے سے سنبھلی تھی۔ اس نے سامنے دیکھا جہاں سے اسے اپنی طرف دو لوگ آتے ہوۓ دکھائی دیے۔

پھر جلدی سے وہ پلٹی تاکہ بھاگ سکے۔ مگر اس کے پیچھے بھی دو لوگ تھے۔ اس نے رونی صورت بنائی۔ اللہ جی جیسا کرو گے ویسا بھرو گے یہ تو سنا تھا مگر یہ جو بغیر کیے بھرنا پڑ رہا ہے نا یہ میری سمجھ سے باہر ہے۔ وہ آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے رونی شکل بناتے دہائی دینے لگی۔

دیکھو میرے پاس نہیں آنا تم لوگ ورنہ۔۔۔۔ اس نے دونوں جانب گھوم گھوم کر دونوں اطراف میں کھڑے لوگوں کو انگلی اٹھا کر تنبیہ کی۔

ورنہ۔۔۔۔ سامنے سے ایک آدمی غصے سے بولا تھا۔ اس کا غصہ بنتا بھی تھا کب سے یہ لڑکی انہیں بھگا رہی تھی۔ مگر یہ سمجھنا مشکل ہو رہا تھا کہ کون کس کو بھگا رہا تھا۔

ورنہ میرے فارس کو اگر پتہ چلا نا کہ تم ایک معصوم سی بن باپ کی بچی کو اتنا پریشان کر رہے ہو تو بنا آواز کے بندہ مارنا اس کے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ وہ مصنوعی ناراضگی سے بولی۔

ابے یہ کون ہے۔۔۔؟ اس آدمی نے الجھی نظروں سے دوسرے آدمی کو دیکھا۔

پتہ نہیں۔۔۔۔ شاید شوہر ہو اسکا۔۔۔۔ وہ اپنی طرف سے اندازہ لگانے لگا۔

تو بی بی۔۔۔۔ وہ آدمی پھر سے بولا جب ہیر نے اسکی بات کاٹی۔

شوہر۔۔۔۔؟ وہ بےیقینی کے عالم میں چلائی۔

تو بھائی ہو گا۔۔۔۔؟ تیسرے آدمی نے اندازہ لگایا۔

بھائی۔۔۔۔؟ ہیر نے خونخوار نظروں سے اسے دیکھا اور پہاڑ کی طرح برس کر بولی۔

تمہاری ہمت کیسے ہوئی یہ کہنے کی۔۔۔؟ ہیر کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اس کا منہ نوچ لے۔

پھر بواۓ فرینڈ ہو گا۔۔۔؟ دوسرے آدمی نے کہا۔

بواۓ فرینڈ۔۔۔؟ وہ پھر سے بےیقینی کے عالم میں چلائی۔ اب کے اس کا غصہ آپے سے باہر ہو رہا ہے۔

میں نے تم لوگوں کی ایسی درگت بنانی ہے کہ ساری زندگی یاد رکھو گے۔ وہ طیش و اشتعال سے بولی۔

اچھی لڑکیاں بواۓ فرینڈ نہیں بناتی۔ تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی اسے میرا بواۓ فرینڈ بنانے کی۔۔۔۔؟

پھر بی بی تم خود ہی بتا دو کے کون ہے یہ؟ پہلا آدمی بےبس سا بولا تھا۔

چھوڑو اسے ہم جو کام کرنے آۓ ہیں وہ کرو۔۔۔ چوتھا آدمی بولا۔

وہ فائل کہاں ہے۔۔۔۔؟ اس آدمی نے غصے سے پوچھا تو جھماکے سے کچھ یاد آیا تھا۔ ہاۓ میں مر گئی۔ وہ فائل۔۔۔ اس کی آنکھوں میں مایوسی اتری۔ وہ فائل تو وہ اسی ٹھیلے پر چھوڑ آئی تھی۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ زمین پر بیٹھ کر دھاڑیں مار کر رونا شروع کر دے۔

اے لڑکی۔۔۔۔ ان میں سے ایک آدمی بولا۔

مجھ سے تمیز سے پیش آؤ ورنہ اگر میرے جہان کو پتہ لگ گیا نا کہ تم مجھے کب سے بھگا رہے ہو تو استنبول کے کتوں کو کھانے کے لیے تمہاری لاش بھی نہیں ملے گی۔ وہ انگلی اٹھا کر دھمکی آمیز لہجے میں بولی۔

لیکن ہم تو پاکستان میں ہیں۔۔۔۔ دوسرا آدمی الجھ کر بولا۔

Teri masoom khawahishat by Sidra Miraj Complete novel

  • by

” آپ ہی سے بستی ہے دنیا میری !! “

” روشن یہ کرتی ہے صبح کو میری !! “

” آپ ہی نے سنوارا ہے روح کو میری !! “

” پوری ہے کی ہر خواہش میری ٠٠٠٠٠ !! “

✨سدرہ معراج ✨

کوئ اس کے کان کے قریب جھکتے میٹھی سی آواز میں اسے پکارتے ہوۓ رس گھول رہا تھا اور وہ جو رات کے ایک بجے کام سے فارغ ہو کر سویا تھا کہ جانی پہچانی آواز سنتے ہی اس کی آنکھیں پٹ

سے کھلیں چہرے پر سخت تاثرات سجاۓ وہ آتش فشاں کا لاوا بن کر پھٹنے ہی والا تھا جب اچانک سے اس کی نظر بیڈ سے دو قدم کے فاصلے پر کھڑی اپنی جان سے عزیز ہستی پر ٹھہری جو مسکراتے ہوۓ اسے ہی دیکھ رہی تھی اسے دیکھتے ہی چہرے پر خود بہ خود نرمی سی اتری آئی دونوں ہاتھ چہرے پر پھیر کر اشارے سے اسے اپنے پاس بلا کر کمفرٹر سائیڈ پہ کرتا وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا گیا-

ایک نظر سائیڈ ٹیبل پر پڑی اپنی تصویر ڈالتی وہ جھٹ سے اس کے پاس آکر بیٹھی جو اس کے ماتھے پہ آۓ بالوں کو سنوارتا اسے ہی دیکھ رہا تھا اور اب اس کی معصوم سی حرکت کو سوچتے اس کے لب بے ساختہ مسکراہٹ میں ڈھلے تھے اس کی توقع کے عین مطابق وہ اس کی مسکراہٹ کو اشتیاق سے دیکھتی جھٹ سےدائیں ہاتھ کی انگلی شمائم کے ڈمپل پر رکھ کر بائیں ہاتھ کی انگلی اپنے ڈمپل پر رکھ کر کھلکھلائ اسکی کھلکھلاہٹ دیکھتا وہ ننھے منھے اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیتا اپنے دونوں رخسار پر رکھ گیا اس کے ہاتھوں کی نرماہٹ نے اسے اندر تک سرشار کیا تھا یہی عمل دہراتے وہ اس کے ہاتھوں کو اپنی آنکھوں پر لگا کر بے اختیار چوم کر اسے اپنے ساتھ لگا گیا –

” پریزے! میری جان اتنی پیاری کیوں ہیں آپ ؟“

محبت سے چور لہجے میں استفسار کرتا وہ اسے مسکرانے پر مجبور کر گیا –

” بھیا — اگر میں آپ سے کچھ کہوں تو آپ مانیں گے ؟ “

وہ پھر سے کوئ فرمائش کرنے والی تھی شمائم اس بات کو جانتا تھا –

” بے فکر ہو کر اپنی خواہش کا اظہار کریں پریزے ‘ آپکا بھائی ہوں آپ میں جان بستی ہے شمائم احتشام شاہ کی پورے حق سے مانگے جو مانگنا ہے یقین مانے میرے بس میں ہوا تو آپ کو مایوس نہیں کروں گا “

ہلکے پھلکے لہجے میں کہتا وہ اسے محبت بھرا مان بخش گیا مگر وہ خاموش رہی نجانے کیوں –؟

” اچھا بتائیں کیا چاہئیے میری پری کو — ؟ “

اس کی جھجھک محسوس کرتاوہ خود ہی اس سے پوچھ رہا تھا کہ ہر بات پر وہ جلد ہی نروس ہو جایا کرتی تھی –

” بابا —!! “

ایک لفظی جواب دیتی وہ نظریں جھکا گئ جبکہ اس کی بات پر شمائم کی مسکراہٹ پل بھر میں سمٹی اس کی ہر خواہش پوری کرنے والا آج بے بس ہوا تھا طویل خاموشی کے بعد وہ ایک گہری سانس خارج کرتا اس کے ہاتھوں کو تھام گیا –

” پریزے — !! آپ جانتی ہیں نا فوجیوں کی زندگی عام لوگوں کی زندگیوں سے مختلف ہوتی ہے وہ اس ملک کے محافظ ہیں ہر وقت تو وہ ہمارے ساتھ نہیں رہ سکتے نا لیکن آئ پرامس یو میں ضرور آپکی بات کرواؤں گا ان سے اوکے ؟ اچھا یہ بتائیں آفس جانا چاہیں گی میرے ساتھ ؟ “

الفاظوں کو بہت خوبصورت انداز میں ترتیب دیتا وہ آخر میں اس کی توجہ اس موضوع سے ہٹا گیا البتہ دل میں اک بوجھ سا تھا اپنے جھوٹ پر مگر فلحال اسے یہی مناسب لگا دوسری طرف وہ جو بڑے غور سے اس کی باتوں کو سن کر دماغ میں محفوظ کر رہی تھی اس کے آفس جانے والی بات پر ٹھٹھک سی گئ –

” سچ میں آپ مجھے اپنے آفس لے کر جائیں گے ٗ لیکن وہاں پر تو سب کام ہی کرتے رہتے ہیں میرے ساتھ تو کوئ بھی نہیں ہو گا نا آپ بھی کام میں مصروف ہو کر مجھے بھول جائیں گے “

وہ پہلے پر جوش ہوتی آخر میں اداسی سے گویا ہوئ جبکہ اس کا دھیان ہٹ جانے پر شمائم نے شکر کا کلمہ پڑھا پھر وہ دلکشی سے مسکرایا کہ اس کی چھوٹی سی جان واقعی بہت معصوم تھی جس کو منٹوں میں اپنی باتوں سے بہلایا جا سکتا تھا البتہ جب وہ کسی بات کو دل پہ لے جاتی اس وقت اسے سنبھالنا بہت مشکل ہو جاتا تھا –

” پریزے میرا پیارا کیوٹ سا بچہ آپ سب سے ذیادہ ضروری ہو اپنے بھائ کے لئے آپکو لگتا ہے آپکے بھائ آپ کو بھولیں گے — ؟ آئ سوئیر یو آپ بلکل بھی وہاں پر بور نہیں ہوں گی !“

Tum sarapaye mohabbat ho by Aqsa Tehreem Complete novel

  • by

امی آپ کو کیا ہو گیا ہے ۔۔ میں چاچو ہوں اس کا ۔۔ بہت چھوٹی ہے وہ مجھ سے ۔۔ میں کسی حال میں اس کو نہیں اپناؤ گا ۔۔ اس سے نہیں شادی کروں گا ۔۔ وہ غصے سے دو ٹوک انداز میں بولا تھا ۔۔

تم اس کے سگے چاچو تو نہیں ہو نہ ۔۔ اسلام میں تم دونوں کا رشتہ جائز ہے ۔۔ اور رہی عمر کی بات تو اس سے فرق نہیں پڑتا ۔۔ شاہدہ بیگم بھی دوبدو بولیں ۔۔ وہ ضبط سے مٹھیاں بھینچ کر رہ گیا ۔۔

آپ سب کے دماغ خراب ہو گئے ہیں ۔۔ جو ایک امیجور لڑکی سے میری شادی کرنا چاہ رہے ۔۔ میں نہیں راضی اس رشتے پے ۔۔ وہ بدلحاظ سے بولا تو شاہدہ بیگم نے بیٹے کو خفگی سے دیکھا تھا ۔۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Raz e Dil by Horia Shah Complete novel

  • by

رات کے سناٹے میں، پورا گھر خاموشی کے سمندر میں ڈوبا ہوا تھا۔ وہ لڑکی اپنے کمرے میں بیٹھی تھی، ایک کتاب کھولے، لیکن اس کی نظریں الفاظ کے بجائے دیوار پر جمی ہوئی تھیں۔ ذہن مسلسل ان سخت جملوں کی بازگشت سن رہا تھا جو لڑکے نے چند گھنٹے پہلے کہے تھے۔

“تمہیں یہ سب کرنے کی ضرورت نہیں۔”

“کبھی کبھی ضرورت نہیں، دل کی بات ہوتی ہے۔”

اس نے خود سے دھیرے سے کہا، جیسے اپنی بات کا جواب خود دے رہی ہو۔

اسی وقت، دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔ وہ چونک کر دروازے کی طرف دیکھنے لگی۔

“آ جاؤ!” اس نے پکارا، لیکن جواب میں خاموشی تھی۔

کچھ لمحوں بعد، وہ دروازے کے پاس گئی اور آہستہ سے اسے کھولا۔ باہر کوئی نہیں تھا، لیکن زمین پر ایک کاغذ کا ٹکڑا پڑا تھا۔ اس نے اسے اٹھایا اور غور سے دیکھا۔ یہ ایک مختصر سا نوٹ تھا:

“یہ جذبات کا کھیل ہے، اور میں اس میں جیتنے نہیں، بلکہ اپنے زخم چھپانے آیا ہوں۔”

اس کے ہاتھ کانپنے لگے۔ وہ سمجھ گئی تھی کہ یہ نوٹ اسی کا ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ کیوں؟ وہ اتنا سخت دل کیوں دکھانے کی کوشش کر رہا تھا؟

اسی دوران، دوسری طرف وہ لڑکا اپنے کمرے میں بیٹھا تھا۔ کمرے میں گھڑی کی ٹک ٹک کے علاوہ کوئی آواز نہیں تھی۔ لیکن اس کا ذہن شور مچا رہا تھا۔ اس نے خود کو سمجھانے کی کوشش کی:

“یہ لڑکی… یہ میری کمزوری بن سکتی ہے، اور میں اپنی کمزوریوں کو کبھی اپنے قریب نہیں آنے دیتا۔”

لیکن دل اور دماغ کی جنگ جاری تھی۔ اس نے اسی لمحے ایک فیصلہ کیا۔ وہ اٹھا، کمرے کی کھڑکی کے پاس جا کر باہر دیکھنے لگا۔ باہر گہری رات تھی، اور بارش اب بھی زمین کو نم کر رہی تھی۔

Tujh ko haar ke by Aqsa Tehreem Complete novel

  • by

یہ میں نے بہت محبت سے آپ کے لیے خریدا تھا آیت ۔۔ وہ اس کے چہرے کو دیکھتا بول رہا تھا ۔۔۔ آیت کا پورا وجود اس کی محبت کا گواہ بن گیا تھا ۔۔۔ جس کے الفاظ اس کی طرح حسین تھے ۔۔۔ اور احترام سے بھر پور تھے ۔۔۔ وہ اٹھا اور پائل اس کے ہاتھ سے لے کر اس کے پیروں میں پہنانے لگا ۔۔

نہیں میں خود پہن لوں گی ۔۔۔ وہ اس کے اس طرح پاؤں چھونے پے بوکھلا گئی تھی ۔۔ بھلا اپنے ہمسفر کو کیسے وہ اپنے قدموں میں بیٹھا دیکھتی ۔۔۔ وہ اس کا سر تاج اس کا مجازی خدا تھا ۔۔۔ وہ دل میں رکھنے اور سر پے تاج کی طرح پہننے کے لئے تھا ۔۔۔ یوں پیروں میں بیٹھانے کے لیے تھوڑی نہ ۔۔

کیوں ۔۔۔ میں کیوں نہیں پہنا سکتا ۔۔۔ وہ نرم سے لہجے میں سوال کرنے لگا ۔۔۔ وہ لب کاٹنے لگی ۔۔۔

بتائیں نہ ۔۔۔ کیوں نہیں پہنا سکتا ۔۔ کیا میرا چھونا آپکو برا لگ رہا ہے ۔۔ اس کے آخری سوال پے وہ دھنگ رہ گئی تھی ۔۔۔ اس نے زور زور سے گردن نفی میں ہلائی ۔۔۔ آیت کے اس طرح کرنے پے وہ دل کھول کے مسکرایا تھا ۔۔۔ وہ واقع معصوم تھی ۔۔۔ بس اس سے گھبرا رہی تھی ۔۔ جھجھک رہی تھی ۔۔۔ جو کہ فطری تھی ۔۔

پھر بتائیں کیا وجہ ہے ۔۔۔ اس کو اب مزا آنے لگا تھا آیت کو تنگ کرنے میں ۔۔۔

وہ آپ میرے پیر چھوئیں مجھے اچھا نہیں لگے گا ۔۔ آپ تو میرے شوہر ہیں ۔۔۔ بھلا آپکو کیسے اپنے قدموں میں بیٹھا دیکھ سکتی ۔۔۔ آیت نے سر جھکائے بمشکل اس کی غلط فہمی دور کی تھی کہ مبادہ وہ زندگی شروعات کی بدگمانی سے نہ کر دے ۔۔۔ شمائل خان اس کی بات پے اٹھ کر اس کے قریب آیا تھا ۔۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Ahrab by Mala Ali Complete novel

  • by

رویام میں یہ آپ کو گفٹ کرنا چاہتی تھی ۔ مگر ۔۔۔ یہ بہت مہنگی ہے میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں۔

گھڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس نے بہت ہی معصومانہ انداز میں کہا تھا ۔ جو کے رویام کو تھوڑی عجیب لگی تھی ۔

کیا مطلب پیسے نہیں ہیں ۔ کیا تم نہیں جانتی اگر تمہارا شوہر چاہے تو ابھی کے ابھی پورا مال خرید لے اور تم ایک گھڑی کا بول رہی ہو ۔

آپ کے پاس ہو گا بہت پیسہ اس میں کوئی شک نہیں مگر وہ آپ کا پیسہ ہے ۔

میں اپنے خود کے پیسوں سے آپ کو یہ گفٹ کرنا چاہتی تھی ۔ جو شاید نہیں کر سکوں گی۔

آخری جملے پر الفاظ ساتھ نہیں دے رہے تھے ۔ مگر پھر بھی بول دیا ۔

رویام کو اعراب کی باتیں بہت اچھی لگی تھی ۔ وہ من ہی من خوش تھا کے اسے کتنی خودار اور اچھی بیوی ملی ہے ۔

اعراب کی ہر بات رویام کے دل میں ایک خاص مقام بنا رہی تھی۔ جو کوئی نہیں بنا سکا تھا۔

اچھا تو اب مجھے میرا گفٹ نہیں ملے گا کیا ۔ ؟

کیوں نہیں ضرور ملے گا ۔

جب میں اتنے پیسے جمع کر سکی کے یہ خرید سکوں تب سب سے پہلے آپ کو یہ گفٹ کروں گئی ۔ بس تب تک یہ دعا کروں گی اسے کوئی اور ن خرید لے ۔

اگر تمہیں پسند ہے پھر تو جب تک تم نہیں چاہو گی یہ یہی رہے گی ہمیشہ۔

کیا تمہیں یہ بہت پسند ہے ؟ رویام نے اور ایک سوال کیا تھا ۔ جس کا اعراب نے بھی سمپل سا جواب دیا تھا ۔

یہ بہت خاص ہے ۔ جب آپ کے پاس ہوگی تب اپکو پتہ چلے گا ۔

اعراب کچھ اور بولتی اس سے پہلے ہی یمان کو اپنی طرف آتا دیکھ خاموش ہو گئی ۔

کیا بات ہے آج تو رویام پاشا شاپنگ مال میں موجود ہیں ۔کہیں میں خواب تو نہیں دیکھ رہا ۔

یمان نے آتے ہی ایک طنزیہ لائن بولی جس پر اعراب بھی ہلکا سا مسکرائی تھی۔

اگر ہو گیا ہو تو کچھ بات کر لیں ۔ رویام نے یمان کو سائیڈ پر کرتے ہوئے کہا۔

ہآں ہاں بولو کیوں نہیں۔ کیا بات ہے جو اسے مجھے بلانا پڑا۔ یمان نے بھی سیریس ہو کر پوچھا ۔ جبکہ پیچھے کھڑی اعراب ان دونوں کو ہی دیکھ رہی تھی ۔

دیکھو یمان میری بات غور سے سنو ۔ یہاں کوئی ہے جو ہم پر نظر رکھ رہا ہے ۔ اور تم جانتے ہو کچھ دن پہلے کیا ہوا تھا ۔ اس سے پہلے کسی کی نظر اعراب پر جائے تم اسے گھر لے کر جاو ۔ یہاں سب میں دیکھتا ہوں۔

مگر رویام تم اکیلے کیسے ۔۔۔۔۔

تم اعراب کو لے کر جاو میں خود یہاں دیکھتا ہوں یمان نے ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے کہا ۔

نہیں یمان اگر میں جاوں گا تو وہ ضرور پیچھا کریں گے ۔ تم جاو مجھے ابھی ان کی نظروں میں ہی رہنا ہے ۔ میں اعراب کو بولتا ہوں تمہاری ساتھ جائے ۔

مگر۔۔۔۔۔۔۔ وہ کچھ بولتا رویام پہلے ہی اعراب کے پاس چلا گیا ۔

کیا مطلب آپ نہیں جا رہے ساتھ ۔

دیکھو اعراب مجھے اچانک بہت امپورٹین کام آ گیا ہے

۔تم یمان کے ساتھ جاو یہ تمہیں گھر چھوڑ دے گا ۔ اور میں بھی جلدی آ جاو گا ۔