Qismat by Raheema Arif Complete novel
Qismat by Raheema Arif Episode 1 Qismat by Raheema Arif Complete novel This is social romantic Urdu novel based on fiction and some of them… Read More »Qismat by Raheema Arif Complete novel
Qismat by Raheema Arif Episode 1 Qismat by Raheema Arif Complete novel This is social romantic Urdu novel based on fiction and some of them… Read More »Qismat by Raheema Arif Complete novel
Shua digest April 2006 Complete pdf Shua digest April 2006 Complete pdf This is social romantic Urdu novel Digest based on fiction and some of… Read More »Shua digest April 2006 Complete pdf
Shua digest March 2006 Complete pdf Shua digest March 2006 Complete pdf This is social romantic Urdu novel Digest based on fiction and some of… Read More »Shua digest March 2006 Complete pdf
Shua digest February 2006 Complete pdf Shua digest February 2006 Complete pdf This is social romantic Urdu novel Digest based on fiction and some of… Read More »Shua digest February 2006 Complete pdf
Shua digest January 2006 Complete pdf Shua digest January 2006 Complete pdf This is social romantic Urdu novel Digest based on fiction and some of… Read More »Shua digest January 2006 Complete pdf
تم ہو ونی میں آئی ہوئی لڑکی ۔۔ وہ کڑوے سے لہجے میں بولیں ۔۔
ج ۔ جی ۔۔ اس نے مجرموں کی طرح سر جھکا کر کہا ۔۔۔
پھر جانتی بھی ہو گی کہ ونی میں آئی ہوئی لڑکی کے ساتھ کیا کیا جاتا ہے ۔۔ وہ چبا چبا کر اس کو گھورتی ہوئی بولیں ۔۔۔
جی جانتی ہوں سب ۔۔۔ اس نے ہولے سے کہا تھا ۔۔ عابدہ بیگم نے اس کو بغور دیکھا ۔۔۔
چلو یہ تو اچھی بات ہے ۔۔ ہمیں تم پے محنت نہیں کرنی پڑے گی ۔۔۔ اب اس حویلی کا سارا کام تم کرو گی ۔۔۔ حویلی کی ساری صاف صفائی سے لے کر کچن کے تمام معاملات تم سنبھالو گی ۔۔۔ اور مجھے کوئی کوتاہی ملی تو یاد رکھنا ۔۔ تمھارا وہ حشر ہو گا کہ تمھاری سات پشتیں بھی یاد رکھیں گی ۔۔۔ آخر میں ان کا لہجہ پتھریلا تھا ۔۔ وہ خاموشی سے سر جھکا گئی ۔۔۔
جی ٹھیک ہے ۔۔ اس نے ہر حکم پے سر جھکایا تھا ۔۔۔ عابدہ بیگم نے ایک ملازمہ کو آواز دی ۔۔
اس لڑکی کو لے جاؤ اور ساری حویلی دیکھا کر سارے کام سمجھا دو ۔۔۔ مجھے کوئی شکایت ملی تو اس لڑکی کے ساتھ تمہیں بھی بھون ڈالوں گی ۔۔ وہ بگڑے تیور لیے بولیں تھیں ۔۔ سمن خاموشی سے اس ملازمہ کے ساتھ چل دی ۔۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
Lahu se laal by Anisha Umar Complete novel A Journey Through Love, Revenge, and Sacrifice Lahu se laal by Anisha Umar Complete novel is not… Read More »Lahu se laal by Anisha Umar Complete novel
….یہ کیا ڈرامہ چل رہا ہے …..اسغر نے کہا ……
کونساڈرامہ …..اسغر بھائ …
وہ تینوں شریف ہونے کی ایکٹگ کرتے صدیوں کے معصوم لگ رہے تھے… پھر چاروں نے دوڑ لگائ اور آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل…..
حمزہ تو نے تو کہا تھا……اسغر نے بے یقینی کے ساتھ اسے دیکھا…..جو اعتراف محبت تو کر چکا تھا مگر قسمت نے الٹا وار کر کے ساری بازی ہی پلٹ دی….
مزاق نہیں کر رہا تھا میں یار ….وہ صبح مان گئ تھی…….تجھے پتہ تو ہے میرا..
نہیں یار تو ایسے معاملے میں مزاق کر بھی نہیں سکتا میں جانتا ہوں …..میری آنکھوں میں دیکھ کے بول …. دیکھ بھائ یہ زندگی کا معاملہ ہے کوی عام بات نہیں ہے ….نظریں کیوں چرا رہا ہے تومجھ سے دیکھ ادھر …کیا کرنے والا ہے تو…
….تو نے کہا تھا بات کرے گا …..تو اسے مناے گا …..اور اب تو کیا کسے گا…..
اگر تو مزاق کر بھی رہا تھا تو یار محبت تجھے مزاق لگتی ہے ……وہ حمزہ کا بیسٹ فرینڈ تھا حمزہ اپنی دل کی ہر بات اسغر سے شیعر کرتا جب جب کہ بلال احمد اور زالے سے …….
ہاں میں نہیں مزاق کر رہا تھا بھائ تجھے سمجھ کیوں نہیں آتا میں مزاق نہیں کر رہا تھا …..وہ مزید ضبط نہ کرسکا تو پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا…..(ایک تو ہر وقت لڑکیوں کی طرح رو دیتا ہے یہ اسغر نے دل میں کہا)
کیسے ….بھای …کیسے رخصت کردوں اسے اپنی آنکھوں کے سامنے ….کیسے وہ خواب توڑ دوں کیسے….. وہ رو رہا تھا ہچکیوں میں ایک چھوٹے بچے کی طرح اسغر کے گلے لگ کے….
رو لے میرے بھائ رو لے ….من کا بوجھ ہلکا ہو جاے گا……. صبح جب بھائ نے کہا تھا کہ میں اپنا دل چھوڑ کے جارہا ہوں تو مجھے لگا وہ زالے کی بات کر رہیں ہیں….
لیکن کچھ بھی ہو جاے میری شادی تو عائشہ سے ہی ہوگی…. وہ آنسوں صاف کرتا اٹھ کھڑا ہوا…..
اور زالے…….. اسغر نے پوچھا
تجھے ڈر لگ رہا ہے وہ بھی میں نہ لے لوں..
چل اوے چولیاں نہ مار میری ہے وہ یاد رکھیں ورنہ یہ جو تیرا روتو چہرا ہے نہ اسے توڑ دینا ہے میں نے
تجھے پتا ہے عائشہ سے وعدہ لے چکا ہوں کہ وہ مجھ سے شادی کرے گی اور ہاں وہ مجھ سے بھی وعدہ لے گئ ہے کہ میں زالے سے شادی کروں گا..
نہ کر بول جھوٹ ہے اور تونے کر لیا سچ بتا… اسغر کے کان کھڑے ہوگے ماحول منٹوں میں بدلہ رونے کی جگہ ہنسی لے گی وقت نے پاسہ پلٹا
ہاں اور کیا کرنا تھا میں نے…
نہ کر حمزہ آج میرے ہاتھوں تیرا قتل ہوجانا ہے …اسغر نے چڑ کر کہا
چل پہلے میرا ساتھ دے میں تیرے ساتھ ہوں …حمزہ نے ہاتھ آگے کیا
پکا نہ ….اسغر نے اس کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھتے ہوے دوبارہ یقین دہانی چاہی اسے معلوم تھا زالے اس کی پھپھی زاد ہے
نہیں میرا اور تیرا مزاق ہے …حمزہ نے اس کے بال بگاڑے
ایسے ہی ہنستا رہا کر …پھر پتا نہیں نصیب میں ہنسنا لکھا ہو کہ نہ …اسغر نے کہا
بندے کا منہ اچھا نہ ہو تو بات ہی اچھی کر لیتا ہے …..حمزہ نے کہا
Zidd ka anjam short novel by Syeda Hemail Fatima Zidd ka anjam short novel by Syeda Hemail Fatima This is social romantic Urdu novel based… Read More »Zidd ka anjam short novel by Syeda Hemail Fatima
جاؤ یہاں سے ۔۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی تھی ۔۔۔ زین کو اس کے لفظوں پے اور دکھ ہوا ۔۔
ایسے کیسے چلا جاؤں روشنال ۔۔ یہ کس طرح کا سلوک کر رہی ہو میرے ساتھ ۔۔ مجھے تکلیف ہو رہی ہے ۔۔ اس کی آواز میں نمی آنے لگی تھی ۔۔ وہ رخ موڑ گئی ۔۔۔ اس کی آنکھوں میں مرچیں لگنے لگیں تھیں ۔۔۔
روشنال میں اس طرح نہیں جاؤں گا ۔۔ کوئی وجہ تو ہو اس طرح کے سلوک کی ۔۔ ہمارے بیچ تو کوئی لڑائی کوئی جھگڑا نہیں ہوا ۔۔ پھر اس طرح سے منہ موڑ کر کیوں کھڑی ہو ۔۔ وہ اس کے لہجے سے ٹوٹ کر بولا ۔۔ روشنال ابراہیم سے اس نے دل کی گہرائیوں سے محبت کی تھی ۔۔۔ اس کا اس طرح کا رویہ اسے دکھی کر گیا تھا ۔۔۔
یہ لو اپنی امانت اور میری جان چھوڑ دو ۔۔ روشنال نے اچانک مڑ کر منگنی کی انگوٹھی اس کی ہتھیلی پے رکھ دی تھی ۔۔۔ وہ ساکت رہ گیا ۔۔ انگوٹھی اس کی ہتھیلی میں کانپ کر رہ گئی تھی ۔۔ پھر اچانک وہ آتش فشاں کی طرح پھٹا تھا ۔۔
یہ کیا ہے روشنال ابراہیم ۔۔ وہ اس کو بازو پکڑ کر جھنجھوڑتا ہوا بولا تھا ۔۔۔ روشنال کو اس کی انگلیاں اپنے بازو میں دھنستی ہوئی محسوس ہوئی تھیں ۔۔
چھوڑو مجھے زین ۔۔ درد ہو رہا مجھے ۔۔۔ وہ اس کی مضبوط گرفت سے خود کو چھڑاتے ہوئے چیخ کر بولی ۔۔
اور جو تم نے مجھے ابھی تکلیف دی اس کا کیا روشنال ابراہیم ۔۔۔ اس نے جنونی انداز میں کیا تھا ۔۔ اس کی آنکھوں سے چنگاریاں نکل رہیں تھیں ۔۔۔
میں تم سے کوئی رشتہ نہیں رکھتا چاہتی ۔۔ اس لیے تم میرے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتے ۔۔۔ وہ شیرنی کی طرح دھاڑی تھی ۔۔۔ زین کی گرفت نرم پڑی تھی ۔۔۔ اس کے بے رحم لفظوں سے وہ ڈھے گیا تھا ۔۔
کیوں ۔۔ آخر کیوں نہیں رکھنا چاہتی کوئی رشتہ کوئی وجہ تو ہو ۔۔ وہ بےبسی سے بولا تھا ۔۔ روشنال اس کی گرفت سے آزاد ہو چکی تھی ۔۔۔
کیونکہ میں کسی اور کو پسند کرتی ہوں ۔۔۔ اس سے شادی کرنا چاہتی ہوں ۔۔ روشنال ابراہیم نے دل پے پتھر رکھ کے اپنے دل سے محبت کو نوچ ڈالا تھا ۔۔ زین کے قدم لڑکھڑا گئے ۔۔