Skip to content

Khawabon ka kabristan by Iqra Nasir Complete novelette

  • by

” آپ بغیر بتائے آئی ہے؟ خیریت اور اس بیگ میں کیا ہے؟”

میں نے کشف کو نظر انداز کرتے ہوئے زیان کو دیکھا جس کی آنکھوں میں یہی سوال تھے۔

” تمہیں فائز نے کچھ نہیں بتایا؟” میری آواز میں نمی تھی۔

” نہیں! کیوں کچھ ہوا ہے؟” زیان سرے سے لا علم تھا۔ میں نے پہلے اپنے خشک ہونٹوں کو تر کیا اور پھر ہمت مجتمع کرکے سب کچھ ایک ساتھ کہہ ڈالا۔ زیان اور کشف کے چہرے پر تناؤ بڑھتا چلا جا رہا تھا۔ جب میں نے سب کچھ سنا ڈالا تو زیان نے ترش آواز میں کہا۔

” اس کی ہمت کیسے ہوئی یوں آپ کو گھر سے نکالنے کی! وہ شاید بھول گیا ہے وہ گھر ابو کا ہے۔ اس گھر میں میرا اور اس کا برابر کا حق ہے۔”

” بیٹا اب کیا کیا جا سکتا ہے! مسئلے کا تو یہی حل نکلتا ہے کچھ دن میں تمہارے اور کچھ دن فائز کے گھر میں رہوں۔” میں نے نڈھال سے انداز میں کہا۔ میری بات سن کر کشف فورآ سے بولی۔

” آپ یہاں کیسے رہ سکتی ہے؟!” پھر اس نے بے ساختہ زیان کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا اس کے بعد کچھ سنبھل کر بولی۔

” میرا مطلب ہے میں اور زیان تو آفس میں ہوتے ہیں۔ بچے اپنے اسکول میں۔۔۔ ایسے میں آپ یہاں کیسے رہے گی؟”

” رہ لوں گی میری بیٹی۔ ویسے بھی گھر میں ملازمہ تو ہوتی ہے نا۔”

” آپ کو ہم ملازموں کے رحم و کرم پر تو نہیں چھوڑ سکتے۔ آپ اپنے گھر میں ہی جائے۔ زارا ویسے بھی ہر وقت گھر میں ہی ہوتی ہے۔ وہ آپ کو اچھے سے ٹریٹ کر سکتی ہے۔” ” اچھا خیر ابھی تو آپ گیسٹ روم میں جائے۔ مجھے آپ تھکی ہوئی لگ رہی ہیں۔ آپ وہاں جا کر آرام کرے تب تک میں فائز کو بلا کر خبر لیتا ہوں۔”

Intiqam e Mohabbat by Syeda Noor-ul-ain Season 2 Complete

  • by

یہ کہانی پارس اور وجیح کی ہے….

پارس نے زندگی میں اتنے دھوکے کھائے تھے کے وہ کسی پر بھی بھروسہ نہ کر پاتی تھی…

پھر بھی وہ اس کے قریب ہو چلی تھی….

پر اسکے ساتھ پھر سے وہی ہوتا ہے..

جو ہمیشہ سے ہوتے آیا تھا…

پر اس بار سب کچھ بہت مختلف اور الجھا سا تھا.

پارس تھک ہار کے اللہ کی طرف رجوع ہوئ….

اور زندگی کی طرف پھر سے آگے بڑھی.

پر پھر سے وجیح اسکے سامنے آ پہنچا….

اور اب اس نے نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی محبت سے بدلہ لیا..

Sy****************@gm***.com

Ghasiq by Mahira Zaynab Khann Complete novel

  • by

یہ ناول سعدین حویلی کے مکینوں کی کہانی ہے جس میں کئی کرداروں کی زندگیوں کو دکھایا گیا ہے۔ یہ انتقام، دھوکے، دوستی، نفرت، محبت اور ایک جن زادے کی محبت کی کہانی پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ، ناول میں مافیا کے عناصر بھی شامل ہیں اور گرے کرداروں کا بھی تذکرہ ہے، جو اپنے پیچیدہ تعلقات اور اندرونی کشمکش سے نبرد آزما ہیں۔ کردار اپنے ماضی، خواہشات اور تاریک پہلوؤں کا سامنا کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں جذبات، رازوں اور تقدیر کے ساتھ ایک طاقتور سفر شروع ہوتا ہے۔

Tum sitamgar ho by Aqsa Tehreem Complete novel

  • by

تم اتنے پتھر دل کیسے ہو سکتے ہو زید ۔۔ کتنی محبت کرتی تھی وہ تم سے ۔۔ کتنا چاہا تھا اس نے تمہیں ۔۔۔ تمہارے لیے اس نے خود کو بدل لیا ۔۔۔۔ سب کچھ چھوڑ دیا اس نے تمہارے لیے ۔۔ اپنی انڈسٹری کلبز پارٹیز سب کچھ حد تک کہ اپنے دوست بھی اور تم نے اس کی اتنی محبت اتنی چاہت کا بدلہ کیا دیا ۔۔۔ باسط کی آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے تھے وہ تعبیر کو اس حالت میں دیکھ کر تڑپ گیا تھا اس کی یک طرفہ محبت سسک اٹھی تھی۔۔ جس طرح تعبیر نے زید کو چاہا تھا ویسے ہی باسط نے بھی تعبیر کو چاہا تھا ۔۔ مگر تعبیر کی محبت نے اس کے لب سی دیئے تھے ۔۔ وہ بس تعبیر کو خوش دیکھنا چاہتا تھا۔۔۔ باسط کے منہ سے یہ انکشافات سن کر زید کا اپنے پیروں پہ کھڑا رہنا مشکل ہو گیا تھا ۔۔ اس کے دل میں درد اٹھا تھا ۔۔ ناقابل برداشت درد ۔۔ وہ وہی اپنا سینہ تھام کر رہ گیا ۔۔ پچھتاوے ناگ کی مانند اسے ڈسنے لگے تھے وہ وہیں بیٹھتا چلا گیا ۔۔۔

Aye mere humnafas by Maida Hanif Complete novel

  • by

ایک زمانے تک میں یہی سمجھتی تھی۔کہ پھولوں کی خوشبو،گردونواح پر پھیلی خوشبو، فطرت کی خوشبو میری روح تک حلول ہو جاتی ہے۔۔۔

لیکن میں غلط تھی۔۔۔

سخت لہجوں کی خوشبو۔۔

محبوب لہجوں کی خوشبو۔۔

اصل میں یہ دو خوشبوئیں ہی انسانی جسم میں حلول ہوتی ہے۔

جس کو جو خوشبو میسر ہوگی انسان ویسا بنتا جائے گا

Deemak e ishq by Aabi Maan Complete afsana

  • by

“عشق کی بیماری جس کو لگ جائے وہ لوگ کم ہی بچتے ہیں عشق کا علاج صرف اوپر والے کے پاس ہے جو کہ آپ کی شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔” حکیم بخش نے پہلے اوپر کی طرف اور پھر شہہ رگ طرف اشارہ کر کے کہا عشق کا نام سن کر بڑی بیگم صاحبہ کے قدموں تلے سے زمین نکل گئی وہ حکیم سے کچھ کہے بنا ہی فوراً وہاں سے نکل آئیں دل بار بار منہ کو آ رہا تھا وہ ماں تھیں وہ کیوں نہ جان سکیں کہ ان کی بیٹی کون سا روگ خود کو لگا بیٹھی ہے ۔ وہ ان کے سامنے تڑپتی رہی اور وہ سمجھ ہی نہ پائیں