Skip to content

Abroo by Anila Sheikh Complete novel

  • by

دیکھیں آپ کی بہن نے ہمارے ٹرسٹی پر ہاتھ اٹھایا ہے یہ کوئی چھوٹی بات نہیں ہے ۔

لیکن ٹرسٹی نے میری بہن کے ساتھ بد تمیزی کی تھی جب ہی اس نے ہاتھ اٹھایا ورنہ اسے کیا ضرورت پڑی ہے ، اصغر پرنسپل سے غصے میں بولا ۔

مسٹر اصغر پہلے تو آپ کی بہن نے ہمارے ٹرسٹی کے ساتھ بد تمیزی کی اور اب آپ مجھ سے بد تمیزی کر رہے ہیں ، پرنسپل بھی چلایا ۔

انسان کی شخصیت بتاتی ہے اسے عزت دینی ہے یا نہیں ۔

تو آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ میں یعنی کالج کا پرنسپل اور ہمارے ٹرسٹی عزت کے قابل نہیں ہیں ؟ پرنسپل کے چہرے کے تاثرات بدلے تھے ۔

میں نے ایسا نہیں کہا لیکن آپ کو ایسا لگ رہا تو میں اس بارے میں کچھ کہہ نہیں سکتا ۔

مسٹر اصغر آپ نے بہت بڑی بات کہی ہے اب نتیجے کے لیے تیار رہیے گا ، پرنسپل نے دھمکی آمیز الفاظ کہے ۔

کیا کرینگے میری بہن کو کالج سے نکال دینگے اسکا پیپر کینسل کروا دینگے ، آپ لوگ اور کر بھی کیا سکتے ہیں ؟

مسٹر اصغر یہ تو آپ کو وقت آنے پر پتا چلے گا ۔

مسٹر پرنسپل یہ آپ کو بھی وقت آنے پر ہی پتا چلے گا کہ کون کیا کر سکتا ہے ، اسغر نے پرنسپل کے ٹیبل پر زور سے ہاتھ مارتے ہوئے کھڑا ہوا ۔

گیٹ آؤٹ آف مائی آفس ۔

ابھی جا رہا ہوں بہت جلد آونگا پھر کہیں آپ کو اس آفس سے جانا نہ پڑ جائے ۔

جائیے جائیے بہت دیکھے ہیں آپ جیسے ۔یقیناً مجھ جیسے بہت دیکھے ہونگے لیکن اب جسے دیکھو گے تو پھر اپنی سیٹ پر بیٹھنا مشکل ہو جائے گا یہ میرا چیلینج ہے ،

Khud ko tum pe haar dia by Aqsa Tehreem Complete novel

  • by

فاتح مجھے معلوم ہو گیا ہے محبت زبردستی حاصل نہیں کی جا سکتی دل پہ کسی کا زور نہیں چلتا دیر سے ہی سہی مگر مجھے پتہ لگ چکا ہے اس لیے میں آپ پہ زبردستی مسلط ہونے کی کوشش نہیں کروں گی ۔۔ بس آپ سے ایک التجا ہے آپ بے شک مجھے محبت نہ دیں مگر مجھ سے میری محبت نہ چھینے ورنہ میں مر جاؤں گی ۔۔۔ کہتے ساتھ وہ بلک بلک کر رو دی ۔۔ غم کی شدت سے فاتح کی آنکھیں بھی بہنیں لگیں تھیں وہ بھی بکھر رہا تھا گڑیا کو اس حال میں دیکھ کے ۔۔ مگر اس میں اتنی ہمت اتنی طاقت نہیں تھی کہ اٹھ کر اس کے بکھرے وجود کو سمیٹ سکے ۔۔ اسے دلاسا دے سکے تسلی دے سکے ۔۔ اس کی محبت نے فاتح کو بھی جلا کے راکھ کر دیا تھا ۔۔

حوریہ ۔۔ بے اختیار فاتح کے لبوں سے یہ لفظ ادا ہوا تھا وہ اچانک ساکت ہوئی تھی پہلی بار فاتح نے اس کو اس کے نام سے پکارا تھا اس نے اپنی بھیگی پلکیں اٹھا کر فاتحہ کی جانب دیکھا تھا ۔۔

میرے دل میں اپنی محبت ڈال کر خود کہاں جا رہی ہو ۔۔ فاتح کے لفظوں سے گڑیا نے بے یقینی سے اس کی جانب دیکھا ۔۔

بتاؤ کہاں جا رہی ہو اپنے فاتح کو چھوڑ کر۔۔ تم رہ لو گی اس کے بغیر ۔۔ مگر تمہارا فاتح تمہارے بغیر نہیں رہ پائے گا ۔۔ فاتح کی آنکھ سے ایک آنسو گرا تھا ۔۔ وہ تو جیسے پتھر ہو گئی تھی ۔۔۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Ishq kamil by Sidra Ansari Complete novel

  • by

آپ کا موبائل میرے پاس رہے گا۔۔۔۔۔

جب تک آپ یہاں ہیں آپ یہ فون استعمال کر سکتی ہیں ۔۔۔اس میں صرف میرا نمبر ہے۔۔۔

کچھ بھی چاہیے ہو تو مجھے بتائیے گا۔۔۔میں حاضر ہو جاؤں گا ۔۔۔

پر آپ میرے لئے یہ سب کیوں کر رہے ہیں ۔۔۔رومان احمد کی طرف دیکھتی ہوئی بولی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محبت کے ہاتھوں انسان بہت مجبور ہو جاتا ہے۔۔۔میرے لئے سب سے پہلے میری ڈیوٹی ہونی چاہیے ۔۔۔

لیکن میں ڈیوٹی کی بجائے یہاں بیٹھا ہوں ۔۔۔کیونکہ میں مجبور ہوں ۔۔۔

میرے لئے سب سے پہلے آپ ہیں ۔۔۔۔احمد اپنی بات مکمل کرتا رومان پر اک نظر ڈال کر باہر نکل گیا ۔۔۔

اور رومان ہکا بکا سی اسے جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی ۔۔۔

ثمام آپ اتنی جلدی آ گئے ۔۔۔؟؟

مجھے لگا کھانا کھا کر آئیں گے۔۔۔۔۔

طہور اسے کمرے میں آتے دیکھ کر بولی۔۔۔نہیں طہور میں کھانا ہمیشہ گھر سے ہی کھاتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔

ٹھیک ہے پھر میں فاتحہ کو کہتی ہوں کہ آپ کے لئے بھی لے آئے ۔۔۔

طہور کہتی ہوئی اٹھی۔۔۔کیا مطلب ۔۔۔؟؟ فاتحہ کو کیوں کہنا ہے۔۔۔؟؟

ثمام نا سمجھی سے اس کی طرف دیکھتا ہوا بولا۔۔۔۔تو کیا ہوا۔۔۔؟؟

اگر فاتحہ کھانا لے آئے گی تو۔۔۔پر طہور میری بیوی تم ہو۔۔۔۔ہاں ثمام۔۔۔۔

یہی تو میں آپ کو کہنا چاہ رہی ہوں ۔۔۔کہ میں آپ کی بیوی ہوں ۔۔۔۔

اس گھر کی نوکرانی نہیں ۔۔۔اور نا ہی مجھے کام کرنے کی عادت ہے۔۔۔

طہور غصے سے بولی۔۔۔اور ثمام اس کی بات پر فوراً پلٹا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا مطلب نوکر نہیں ہو۔۔۔؟؟ تم میری بیوی ہو۔۔۔میرے کام تم نہیں کرو گی۔۔۔

تو کیا نوکرانی کرے گی ۔۔۔؟؟ ثمام غصے سے دھاڑا ۔۔۔ہاں تو رکھ لیں نوکرانی ۔۔۔

مجھ سے نہیں ہوتے یہ کام۔۔۔۔تو ٹھیک ہے پھر شادی بھی نوکرانی سے کر لیتا ۔۔۔

ہاں تو کر لیتے ۔۔۔میری زندگی کیوں برباد کی پھر۔۔۔؟؟ پتا نہیں کیا سوچ کر ان جاہلوں میں شادی کر دی میری ماما نے۔۔۔اونہہہ۔۔۔۔

طہور منہ بناتی بولی ۔۔۔تبھی ثمام کا بھاری ہاتھ اس کے گال پر نشان چھوڑ گیا ۔۔۔

اپنی زبان پر قابو رکھو۔۔۔بھائی ۔۔۔یہ کیا کر رہے ہیں آپ۔۔۔۔؟؟ فاتحہ جو طہور کے لئے کھانا لے کر آئی تھی جلدی سے کھانا سائیڈ پر رکھتی ثمام کی طرف بڑھی۔۔۔

بھائی یہ کیا کر رہے ہیں آپ۔۔۔؟؟

بیوی ہے وہ آپ کی۔۔۔نہیں ہوں میں بیوی اس کی۔۔۔

مجھے نوکرانی سمجھ کر اس گھر میں لائے تھے ۔۔۔اب میں اک منٹ اور یہاں نہیں رہوں گی ۔۔۔۔۔۔۔

بھابھی پلیز بات تو سنیں ۔۔۔رات ہو چکی ہے۔۔۔آپ کیسے جائیں گی۔۔۔۔

صبح بات کر لیں گے۔۔۔اور ثمام غصے سے اک نظر طہور پر ڈالتا باہر نکل گیا ۔۔۔

La hasil ki tamana by Shifa Eman Complete novel

  • by

میم کہتے ہیں محبت اور جنگ میں سب جائز ہے۔۔۔۔۔ نہیں حق ملتا تو چھین لو۔۔۔۔ شانزے آج پھر جانے کتنے سوال سوچ کہ بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔

نہیں بلکل نہیں اگر کچھہ آپ کے مقدر میں لکھہ دیا گیا ہے تو اسے چھیننے کی ضرورت نہیں اور اگر مقدر میں ہی نہیں تو پھر چھیننے سے بھی زلت ملتی

ہے حق نہیں۔۔۔۔۔۔۔

ایک بار مجھے بھی شک ہوا جیسےارمغان کسی لڑکی سے باتیں کرتا ہےمیرا بھی دل کیا اس لڑکی کو سناوں۔۔۔

محبت میں نے لٹائی ہے تو حق بھی میرا ہے لیکن پتہ ہے جب میں نے نماز پڑھی تو مجھہ پہ حقیقت کھلی

ہمارے ہاتھہ چھیننے کے لئیے نہیں ہیں ہمارے ہاتھہ تو دعا کرنے کے لئیے ہیں ہمیں تو ہر حال میں دعا کرنی ہے پھر وہ محبت ہو یا چیز اگر ہمارے حق میں اچھی ہے تو وہ پرفیکٹ بنا کہ ہمارے مقدر میں لکھہ دی جائے گی

چھیننے کی نوبت نہیں آئے گی۔۔۔ امن اسے سمجھاتے ہوئے بولی۔ میم ایک بات پوچھوں؟؟ ہاں پوچھو۔۔۔

آپ تو اتنی بہادر ہیں آپ کو نروس بریک ڈاون کیسے ہو گیا ۔۔۔۔

بہادر ہوتے نہیں شانزے بہادر بننا پڑتا

ہے خواب جب حقیقت نہیں بن پاتے یا پھر ٹوٹ جاتے ہیں۔۔۔۔ اس وقت اپنوں کا زرا سا وار بھی آپکا کام تمام کر

سکتا ہے۔۔۔۔

میم آپکو کبھی ایسا نہیں لگا کہ بس اس محبت کی قید سے نکلنا ہے اب چھوڑ

دینا ہے ارمغان کو ؟؟؟

لگتا تھا ایسا بہت سی باتوں پر غصہ بھی آ جاتا تھا جی چاہتا تھا بس اب چھوڑ دوں گی ارمغان کو۔۔۔ یہ بات تو بلکل نہیں براداشت کروں گی ۔۔۔۔

لیکن جو محبوب ہوتا ہے نہ وہ آپکو کبھی آزاد نہیں کرتا جب کبھی آپ تڑپنے لگو اسے ترس آنے لگے آپ کی حالت پر تو وہ آذاد نہیں کرتا بلکہ زنجیر بدل دیتا ہے وہ صرف رہائی کا فریب دیتا ہے۔۔۔۔

یہ بلکل ایسے ہی ہے کہ بلبل پنجرے میں قید ہو اور جب کبھی وہ زیادہ گریہ و زاری کرے اسکا مالک اسکا پنجرہکمرے سے باہر صحن میں رکھہ دے

اس سے فقط منظر بدلتا ہے لیکن قید اسُی طرح برقرار رہتی ہے۔۔۔۔ اسی طرح جب آپ محبوب کی کسی ایک بات سے ہرٹ ہو جاو جانے لگو تو وہ

کسی اور ادا سے کسی اور کمزوری سے آپ کو موم کر لیتا ہے جانے نہیں دیتا۔۔۔۔۔۔۔

Madawa by Sidra Chaudhary Complete afsana

  • by

اور آج بیس سال بعد وہ آیا تھا مداوا کرنے۔

وہ کہتا ہے کہ مداوا کرنے آیا ہوں۔

لیکن یہ کیسا مداوا ہے کہ وہ میرے لیے نہیں،اپنی روح،اپنے وجود اپنی عزت اپنی بیٹی کے لیے آیا ہے۔

Doosri mohabbat by Rimsha Riaz Complete novel

  • by

خبر آئی کہ اس کا جنازہ آرہا ہے میرے جسم سے روح پرواز کرنے کی صدا ائی۔یہ کیا ہو گیا کیوں میں تو اس کی امانت ؟ کون سی امانت ! ہمارا نکاح؟ کیا ہوا تھا۔؟

میں نے اس کے جنازے پہ دل کھول کے آنسو بہائے ماتم کیا ، اس کی قبر پہ جا کر پوچھا کہ میرے ساتھ کیوں کیا۔مجھے کسی کے لئے کیوں چھوڑا، پھر میں نے اس کے قبر سے ایک ہیولہ دیکھا۔مجھے خوف خدا آیا ۔

میں وہاں سے بھاگی میں جب گھر آئی تو مجھے بخار تھا ۔مجھے سمجھ ائی میں نے گناہ سر زد کر لی ہے بہت بڑا ہاں میں نے نا محرم سے محبت کی پینگیں باندھی ، پھر مجھے اللہ کی پکڑ سے خوف آیا ۔

میں مے نمازیں شروع کیں ۔

میں اسے بھولنے کی کوشش کرنے لگی کافی مشکل کام۔تھا۔

میں مے توبہ کی مگر مجھے لگا کبھی قبول نہ ہو گی پھر اچانک ایک دن میں نے قرآن ایسے ہی بے دھیانی میں کھولا تو سورہ توبہ کھلی تھی

: کیا انھیں خبر نہیں ہے کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور صدقے خود اپنے دست قدرت میں لیتا ہے اور وہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے:

یہاں تک کہ اتنی وسیع زمین ان پہ تنگ ہو گئی اور وہ اپنی جان سے بھی تنگ اگئے اور انھیں یقین ہوا کہ خدا سے پناہ نہیں پھر انھوں نے توبہ کی اور بے شک وہ توبہ قبول کرنے والا رحیم ہے

i: کیا انھیں نہیں خیال آتا ہے ہر سال ایک دو بار آزمائے جاتے ہیں پھر نہ تو یہ توبہ کرتے ہیں نہ نصیحت مانتے ہیں نہ اسے یاد کرتے ہیں

مجھے تھوڑا حوصلہ ملا اور پھر سے کھڑی ہوگی ۔کہ۔بے شک وہ ذات غفور ہے تو مجھے معاف کر دے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Ishq safar ki dhool by Aqsa Tehreem Complete novel

  • by

کون ہو تم ۔۔ وہ مٹھیاں بھینچے غصے سے دھڑا تھا معتبر سہم کر پیچھے ہوئی ۔۔

م ۔۔ می ۔۔ میں معتبر شاہ ۔۔ میرا آج اس آفس میں پہلا دن ہے ۔۔ وہ اپنے ڈر پہ قابو پاتے کانپتے ہوئے بولی تھی ۔۔۔

تمہیں آفس میں بیٹھنے کے مینرز نہیں ہیں کیا ۔۔ پہلے تم نے میرے آنے پر کھڑی نہیں ہوئی۔۔ اور پھر تم نے میری ساری شرٹ خراب کر دی ۔۔ وہ چبا چبا کر بولا تھا۔۔

سر میں آپ کے آنے پہ کیوں کھڑی ہوتی آپ کی شرٹ خراب کی یہ مانتی ہوں مگر میں آپ کے آنے پہ کیوں کھڑی ہوتی ۔۔ اس کی زبان سے پھسلا تھا مقابل کا چہرہ مارے ضبط کے سرخ ہو گیا تھا ۔۔ مطلب وہ اس آفس میں آگئی تھی اور اس کو پتہ ہی نہیں تھا کہ وہ اس آفس اس کمپنی کا مالک تھا ۔۔

کس نے ۔۔ کس نے اس لڑکی کو رکھا ہے ؟ ۔۔ وہ شیر کی طرح داڑھا تھا پورے آفس کا سٹاف سہم کے رہ گیا ۔۔ اس نے معتبر کی میز پہ رکھی ساری فائلز اٹھا کر زمین پہ ماری تھیں معتبر ڈر کر دو قدم پیچھے ہوئی ۔۔ اس کی آنکھوں میں خوف لہرایا تھا ۔۔ وہ ہونقوں کی طرح اس پاگل کو دیکھ رہی تھی جو نجانے کس بات پر اس قدر غصہ دکھا رہا تھا ۔۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Dushman-e-Nafas Season 2 by Saira Ramzan Complete novel

  • by

ان کو لگتا ہے کہ وہ پرسکون زندگی گزارے گے غلط فہمی ہے تو بہت بڑی پر کوئی نہیں بہت ہی جلد دور بھی ہو جائے گی۔

مجھ سے میرا سب کچھ چھین کر وہ چین سے رہے اتنا شریف تو خیر کوئی مرد نہیں ہوتا۔

ایسا حشر کروں گا کہ اگلی ساتھ نسلوں تک ان میں سے کوئی مسکرا نا سکے گا پورا خاندان روئے گا تڑپے گا جینا بھول جائے گا۔ اور جب سارے زندہ لاش بن کر گھومیں گے تب جا کر میں مسکراؤں گا۔۔۔ میں ہنسوں گا۔

ہاں میں ہنسوں گا ان کے رونے پر ، تڑپنے پر، گھٹ گھٹ کے جینے پر، وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا مرر میں اپنا عکس دیکھتے ہوئے کھلکھلا کر خود سے ہی باتیں کر رہا تھا۔

***

اب تم یہاں پر بیٹھ کر شاعری کرنا بند کرو اور میرے ساتھ چلو ازبیہ بھابھی تمہارا کب سے انتظار کر رہی ہیں؟

آریز نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔ وہ آج بھی اتنا ہی خوبصورت تھا، وہی ماتھے پر بکھرے ہوئے بال، وہی شلوار قمیض پہنے، وہی ہلکی سبز آنکھوں والا خاموش مزاج لڑکا۔۔۔۔ اگرچہ حلیہ وہی تھا مگر اس ایک حادثے نے اس کی آنکھوں کی چمک چھین لی تھی وہ جو مسکراتا تھا تو کوئی بھی قائل ہو جاتا تھا وہ اب کہاں مسکرا سکتا تھا۔۔۔؟

ان تین مہینوں نے اس کے چہرے کی چمک چھین لی تھی اس کی آنکھوں کے نیچے حلقے تھے قبر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ نڈھال سا اٹھ کھڑا ہوا۔

آریز نے اس کی سائیڈ کا دروازہ کھولا تو وہ چپ چاپ اندر بیٹھ گیا گاڑی میں بیٹھتے ہی وہ سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا گیا۔

زایان ۔۔۔!!!