Skip to content

Faraib e jaal by Areeba Nisar & Kashifa Noor Complete novel

  • by

یہ کہانی ہے دھوکے کی……… کہانی ہے معصوم چہرے کے پیچھے چھپے فریب کی… … ایک ایسی لڑکی کی جس نے محبت میں دھوکا کھایا… کہانی ہے دوستی میں اعتبار سے دھوکے کی … ایسے لوگوں کی جو دکھتے تو معصوم ہیں لیکن ہوتے نہیں… . کہانی ہے جال کی… یہ کہانی چار کرداروں کی.. جس میں کیسی ایک نے دوسرے کے لیے فریبِ جال بچھایا… اب دیکھنا یہ ہے کون اس فریبِ جال میں پستہ ہے اور اس فریبِ جال سے نکال کر اپنی نئی ذندگی کا آغاز کرتا ہے۔۔۔

Qatal masoom tha by Amna Ramzan Complete novel

  • by

شانی برو کیا لگ رہا جانی انیس شانی کو سر تا پیر تھری پیس میں دیکھ کر تعریف کیے بنا نہ رہ سکا اور گلے لگا لیا

ارے جب میرے شہزادے نے اتنا شاندار ماحول بنایا ہو تو میں کیسے نہ ریڈی ہو کے آتا انیس نے بالوں کو سیٹ کرتے ہوئے کہا پاس کھڑے لڑکے کا انیس اور شانی کی ایک دوسرے تعریف کے پل باندھتے دیکھ کر تنزیہ ہنسی نکل گئی

کیا ہوا روشی شانی نے روشی کو ہنستے دیکھ کر پوچھا

کچھ نہیں بس وہ سامنے والی لڑکی کودیکھ کر ہنسی آئی کیسے عجیب سی ڈریسنگ کی ہے اور اسکو لگ رہا ہے وہ پیاری لگ رہی ہے شوخی

نہ نہ بچہ لڑکیوں کو ایسے نہیں کہتے لڑکیاں تو ساری پیاری ہوتی ہے جب تک ہو اپکے پاس نہ ہو انیس نے شانی کی بات ٹوکتے ہوئے کہا جس پر وہ تینوں کہکا لگا کر ہنسے

اچھا اب یہی کھڑے رہے گے یا اصلی پارٹی

شششششش انیس نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھتے ہوئے کہا

ایسی باتیں سب کے سامنے نہیں کرتے اصلی پارٹی بھی ہوگی مہمان خصوصی تو آنے دے میرے جانی اب چپ کر کے نکل انیس نے آنکھ سے اشارہ کرتے ہوئے شانی کو یہ کہ کر اندر جانے کو کہا جس پر شانی اور روشی اندر لان میں چلے گئے

انیس بیسٹی کیسے ہو سامنے سے آتی گرین کلر کی میکسی پہنے ایک خوش شکل لڑکی نے کہا

نوری میری جان کیس ہو انیس نے اگے بڑھ کر اسکو گلے لگاتے ہوئے کہا

میں بلکل ٹھیک نوری نےاپنے بال کان کے پیچھے کرتے ہوئے کہا

اچھا تو تم اکیلی آئی ہو تم تو کہ رہی تھی تم اپنی دوستیں بھی ساتھ لاو گی پارٹی کو مزید شاندار بنانے کے لیے کہا ہے تمہاری وہ حسین دوستیں انیس نے نوری کی چہرے پر آتی لٹ کو اپنی انگلی سے پیچھے کرتے ہوئے کہا

یار کسی کے گھر والے نہیں مانے لیٹ نائٹ پارٹی کے لیے بس ایک آئی ہے وہ کار پارک کر کے آتی ہی ہوگی نوری نے انیس کا ہاتھ اپنے چہرے سے ہٹاتے ہوئے کہا

نوری نوری پیچھے سے بلیک ڈریس میں آتی لڑکی نے نوری کو اواز دی تو نوری اور انیس دونوں اسی کی طرف متوجہ ہو گئے

واو یار تیری تو ایک بیسٹی ہی کافی ہے میری پارٹی میں جان ڈالنے کے لیے انیس نے سر تا پیر اس لڑکی کو گھورتے ہوئے کہا

ہینا نوری نے انکھ دبا کر انیس کو ایشارہ کرتے ہوئے کہا

چل ملوائے گی نہیں اس سے انیس نے نوری کو کندھا مارتے ہوئے کہا

Tabeer e mohabbat by Aiman Akmal Complete novel

  • by

زینی کو کمرے میں لے کر جاؤ۔۔۔۔ وہ گھر میں داخل ہوۓ تو وہ ملازمہ سے بولا جو صرف زینب کا خیال رکھنے کے لیے ہی رکھی گئی تھی۔

خود اس نے قدم لاؤنج کی طرف بڑھاۓ۔ وہاں پر اس نے عجیب و غریب منظر دیکھا۔ وہاں پر مہمان موجود تھے اور ماحول کافی گرم تھا۔ اندازہ نہیں لگایا جا رہا تھا کہ وہاں پر ہوا کیا تھا۔

اس نے نینا کی طرف دیکھا وہ پرسکون سی بیٹھی تھی۔ اور یہ لوگ تو شاید رشتے والے تھے۔ یقیناً اس نے نیا کوئی ہنگامہ کیا تھا اپنا رشتہ بھگانے کے لیے۔ بڑی ہی کوئی بدتمیز لڑکی تھی نا ماں کا لحاظ تھا اور نا ہی گھر میں آنے والے مہمانوں کا۔

چلو پھر اب اسے شادی نہیں کرنی تو گھر والوں کو ہی ہار مان لینی چاہیے اور اسے تھوڑا وقت دینا چاہیے۔ خیر وہ کیا ہی کہہ سکتا تھا سب ہی ایک جیسے تھے۔ اس نے کندھے جھٹکے اور دروازے سے ہی واپس مڑ گیا۔

Ar-Rahman by Hoor Ain Sikandar Complete novel

  • by

“یار کیوں اتنے الٹے کام کرتی ہو؟” وہ دانت ہچکچاتے اسے گھوریوں سے نواز رہا تھا۔

“بس مزہ آتا ہے۔” مقابل نے کندھے اچکائے۔

“تمہارے مزے کی تو ایسی کی تیسی۔۔۔۔تمہیں سیدھا کرنا پڑے گا۔” عیسیٰ نے نچلے لب کا بایاں کنارہ دانتوں تلے دبایا۔

“آپ ہی کی ٹیڑھی پسلی ہوں کر سکتے ہیں سیدھا تو کر لیں۔” وہ ایک ادا سے بولتی عیسیٰ کو حیران کر گئی۔ عیسیٰ نے اس کی حاضر جوابی آنکھوں سے داد دی تھی اور آگے بڑھ کر اسے اپنے حصار میں لیا۔

“ٹیڑھی چیزوں کو ٹیڑھے پن کے ساتھ ہی قبول کرنا چاہیے۔ سیدھا کرنے کی کوشش انہیں توڑ دیتی ہے۔ اور عیسیٰ سکندر کو حورعین عیسیٰ سکندر اپنے ٹیڑھے پن کے ساتھ دل کی گہرائیوں سے، دل و جان سے قبول ہے۔” وہ مسکرا کر کہتا مقابل کو معتبر کر گیا تھا۔

Gul aashiyana by Rimsha Riaz Complete novel

  • by

میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں! وہ اس میسج کو دیکھ کر حیران ہوا تھا۔
مسٹری!
کچھ دیر بعد وہ اپنے سامنے ایک نوجوان کو دیکھ رہا تھا ، جو مشرقی تھا ، پیارا سا ۔
کیوں ملنا تھا! سپاٹ لہجے میں سوال کیا گیا۔
بھائی سے ملنا ہے اگر دوہری شخصیت کو سائیڈ میں رکھیں تھوڑی دیر تو! وہ معصومیت سے بولا۔
ایک منٹ کے لئیے دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔
پھر اس نے بازو پھیلائے ارمغان اس کے گلے لگا تھا۔ ارمغان نے اسے خود میں بھینچا ۔
کیسے ہو مسٹری ، ارمغان نے اس کا شانہ چوما۔
آپ کا انتظار کرتا ہوں آج بھی ! وہ مسکرایا
یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں نہیں آؤں گا؟ وہ مسکرایا۔
ابھی بھی تو آئے ناں؟ وہ ہنسا۔
تم بہت سمجھدار نہیں ہو گئے۔
ہمم مما کہتی تھی!
وہ دونوں دکھی تھے۔
بابا کو آپ نے مارا تھا ناں بھائی اس کے سوال پہ لوسفر نے ماتھا مسلا۔
بدلہ لو گے؟ وہ سنجیدگی سے بولا۔
ہو سکتا ہے؟ وہ مسکرایا ۔
میری ماں پہ ظلم ہوا تھا۔
وہ میری ماں بھی تھی! مگر وہ آپ سے اتنی محبت کیوں کرتی تھیں؟ وہ معصومیت سے بولا۔
مسٹری مجھے کام ہے وجہ بتاؤ بلانے کی؟ وہ تپا۔
مجھے آپ سے بھائی اور خاندان والا پیار مل سکتا ہے؟
اگر امتحان پاس کر لو تو!
کیا امتحان ہے؟ وہ فورا بولا۔
میرے خاندان کی نگہبانی ۔
اور آپ کا خاندان کون ہے؟ وہ بازو سینے پہ باندھ کہ بولا۔
ہمارے مامو کی بیٹی! اس نے اتنا کہا۔ اور چلنے لگا ۔
ماں کی ڈائری لایا تھا۔اپ کو دینے کا بولا تھا ۔صیحیح وقت آنے پہ! وہ آواز پہ رکا تھا۔
پلٹ کے آیا ڈائیری دیکھی۔پھر لے کر چلا گیا ۔وہ۔لڑکا۔پھر سے بینچ پہ بیٹھ چکا تھا۔
اینجل لوسیفر کی ناکام کوشش کرتا ہوا۔وہ منہ بنا کر بولا اور پھر ہنس دیا۔

Ajnabi si zindagi by Eman Babar Complete novel

  • by

“محبت محبت محبت …..” اسٹڈی ٹیبل پر بیٹھی قلم ہاتھوں میں گھماتی وہ مسلسل اس لفظ کی گردان کر رہی تھی۔

بھوری آنکھوں میں حد درجہ کی سنجیدگی اور اُلجھن تھی۔ اپنے کالے بالوں کو جوڑے میں باندھے جس سے اگے کے کچھ بال لٹوں کی صورت میں چہرے پر آرہے تھے۔ وہ اُن کو غصے سے پیچھے کرتی تقریباً چیڑ سی گئی تھی ۔

“بھاڑ میں جاؤ ۔۔۔” غصے سے ڈائری بند کرتی وہ اُٹھ کھڑی ہوئی ۔ آپ اُس میں اور ہمت نہیں تھی ۔ ایسا اُس کے ساتھ تقریباً دو مہینے سے ہورہا تھا ۔

“مجھے لگتا میں کبھی رائٹر تھی ہی نہیں افف ۔۔۔” بالوں کو آزاد کرتی وہ ڈریسنگ ٹیبل کی طرف گی ۔ اُس کے بال زیادہ لمبے نہیں تھے بس کندھے تک ہی آتے تھے ۔ بال اب بکھر کر کندھوں تک اگئے تھے۔اُس کے بال نہ بلکل سیدھے تھے نہ ہی کرل ۔ وہ حد درجہ کہ سلکی مگر کناروں سے کرل تھے ۔

دونوں ہاتھوں کو چہرے پر رگڑتی وہ اب چارجنگ پر لگا اپنا موبائل دیکھ رہی تھی ۔

“محبت…” وہ ہلکا سا بولی ۔

Ibrat short story by Kainat Shahid download pdf

  • by

سنسان سی جگہ پر موجود کھڑا وہ وجود انتہائی خوفزدہ تھا۔ وہ یہ جاننے کی کوشش کر رہا تھا کہ وہ اس وقت کہاں پر موجود ہے۔ کافی دیر کے بعد جب اس نے اپنے خوف پر قابو پایا تو اس نے جگہ پہچاننے کی کوشش کی، لیکن اسے یہ جگہ بالکل مختلف لگی۔ سنسان راستہ ، ہر سو ویرانی، اردگرد دوردور تک کوئ ذی روح موجود نہ تھا ، وہ جس جگہ پر موجود تھا وہ ایک خستہ حال سڑک تھی جس کے گرد کچی مٹی موجود تھی ،ہر طرف دھول ہی دھول تھی، اگر دور تک دیکھو تو وہاں پر کوئ مشکل سے آپکو ایک بالکل زرد اور مردہ حالت میں درخت ملے گا۔ یہ سارا منظر دیکھ کر وہاں پر موجود وہ انسان بھی سکتے میں تھا کہ وہ آخر کہاں ہے۔ کافی دیر بعد بھی جب اسے کچھ سمجھ نہ آیا تو اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اس جگہ کو دیکھے گا کہ آخر یہ کونسی جگہ ہے جو اس کونہیں معلوم ، اور پھر یہاں سے ہوتا ہے عبرت کا ایک سفر شروع ۔ کیا تم تیار ہو اس سفر کے لیے ؟