Skip to content

Taghoot novel by Anzum Aziz

  • by

پو چھوگی نہیں کیا کہا اسنے کیا پوچھوں اور کیا کریں اب میں تھک گی ہو بھابی لڑ لڑکر۔۔

آب اور نہیں ہے

مرے پاس ہمت ۔۔،

تم تو اپنے ہونے والے محرم سے بات کرنے گی تھی

لکین مرہ نے کہا ک تم صعبی سے ملنے گی

تھی تمہارا بھای کہتا کہ

تمہارا بھائ کہتا ہے

کہ وہ تمسے بات کرنے کی اجازت

ابا سے لے چکا تھ، لکین تم نے اچانک بولا بیجا کہ مرہ کے گھر آؤ ۔۔

لکین وہ تم سے یہی ملنے کا سوچ رہا تھآ لکین وہ پھر بھی تمہاری بات سننے

کے لیے آگیا کیو نکہ وہ اپ کو دیکھانا چاہتا تھا مانو نے تڑپ کر پوچھا کیا ۔۔۔؟

یہی کہ تم بے داغ ہو ۔

اور وہ جانتا ہےکہ صفہ اسے پسند کرتی ہے اور رمضہ نے تم سے اپنی

محبت کا بدلا لیا کونسی

محبت تمہارے بھای کی تو اسمیں مرا کیا قصور ہے

اور اسلیے ان تینوں بہنو نے ملکر تمہارے اوپر بہطان لگاے

اسلیے وہ تم سے انکے گھر ملنے آگیا

۔۔تمیارا بھائی نہیں چہاتا تھا

کہ تمہیں اس بات کا پتہ چلے اور تم پریشان ہوگی اسلیے۔۔۔

لکین میں چہاتی ہو تم اپنے دشمنوں کو پہچانوئ

Safar masoomiyat se qaid tak short novel by Muskan Khan

  • by

ہوئی ایک صبح ایسی سی۔۔

ہوا تھی جس دن نم۔

بارش کا تھا موسم۔

جنمی ایک ننھی سی جان۔

چہرہ اس کا حوروں سے کم نہ تھا۔

وہ معصوم ہوئی جب ایک برس کی۔

گھر میں خوشیوں کا سما تھا۔۔

وہ معصوم کب کس کو پتہ تھا۔

اس کی زندگی کے نصیب و راز کا۔

جب وہ حسین بڑی ہوئی۔

18 برس کی ۔آیا اس کی زندگی میں ایسا موڑ۔۔

لڑنا تھا اسے اپنے نصیبوں سے میں نے کیا۔

جیت گئی وہ ہر لڑائی میں لیکن خود کو ہار بیٹھی وہ معصوم نادان لڑکی۔

اسے نہ پتہ تھا جیت کے کھیلوں میں وہ ایک دن خود کو ہار بیٹھے گی۔

خود کی لگائی بازیوں سے وہ کیسے جیت پائے گی۔

وہ معصوم نادان لڑکی!

جو خود کو ہار بیٹھی۔

وہ ہر قید سے آزاد تھی۔

اسے نہ پتہ تھا کہ وہ سفر قید کی مجرم ہوگی۔

ایک دن قید اس کا مقدر ہوگی۔

وہ ہر قید اسے آزاد تھی اسے نہ کسی راجا کی ضرورت تھی۔ نہ کسی شہزادے کا خواب تھا۔

وہ خود کے لیے فقط خود ہی کافی تھی۔

اس کی زندگی میں جب آیا وہ معصوم شہزادہ۔وہ کوئی شہزادہ نہ تھا لیکن وہ کسی شہزادے سے کم نہ تھا۔

اس کی محبت میں گرفتار ہوئی کہ مجرم بنی۔

وہ محبت کے آغاز میں بھول گئی۔ اپنی سرکشیاں، جدوجہد، قربانیاں، جو کھویا تھا وہ بھی بھول گئی۔

معصوم تھی نادان لڑکی۔

بھورے بال ہری انکھیں تھی۔ اس کی گوی رنگت یوں مانو جسے آسمان سے اترا ہو دیکھنے میں زمین زادہ نہ لگتا تھا۔ کوئی جیسے چاند کا ٹکڑاؤ۔

اس کی ہری آنکھیں جان لیتی تھی۔

وہ دل ہار گئے اس پر تب سے شروع ہوا ہے یہ سفر “سفر معصومت سے قید تک” ۔

Zeenat novel by Naila Jutt 

  • by

کون ہو تم جانے دو مجھے۔۔۔منال چلائی تھی۔۔۔

جانے دوں گا۔۔۔ صبر رکھو۔۔۔آج سارے قرض تم سے وصول کروں گا۔۔۔ پھر چلی جانا۔۔۔اس نے منال کو دیکھتے ہوئے اس کا دوپٹہ کھینچ کر دور پھینکا۔۔ اور ہنسنے لگا۔۔۔

نہیں ایسا نہیں کرو۔۔۔۔۔ اس سے پہلے اس کا ہاتھ منال کو دوبارہ چھوتا۔۔۔ ایک جاندار شخص نے اس کا ہاتھ دبوچا۔۔۔ اسے مکا مار مار کر اس کا حال بڑا کیا۔۔۔ منال کو کھولا۔۔۔ منال بے اختیار اس کے گلے لگی۔۔۔ اس نے حیرانگی سے اسے دیکھا۔۔۔

لالا آپ اگئے۔۔۔ منال نے ہچکیوں کے درمیان کہا۔۔۔اس نے اپنا کوٹ منال کو دیا۔۔۔اور سامنے وال کا کام ختم کر دیا۔۔۔

کہاں گھر ہے گڑیا تمھارا۔۔۔ اس نے ڈرائیونگ کرتے ہوئے منال سے کہا۔۔۔منال نے حیرانگی اور پریشانی سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔ تبھی ایک گاڑی کے سامنے آنے سے اس نے گاڑی روکی۔۔۔

ارحام ارمان منال کو دیکھ کر گاڑی سے نکلے۔۔۔ منال بھی جلدی سے باہر آئی۔۔۔

تم ٹھیک ہوں۔۔ارحام نے اسے اپنے حصار میں لیتے ہوئے کہا۔۔۔ جس پہ ارمان نے اسے گھوڑا۔۔۔

جی لالا۔۔۔لالا آگئے تھے۔۔۔ منال نے ارحام کی طرف دیکھ کر کہا۔۔۔ تبھی مقابل باہر آیا۔۔۔

اب میں چلتا ہوں۔۔ خیال رکھنا گڑیا کا۔۔۔ اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔

اذان تجھے کیسے پتہ منال کہاں تھی۔۔۔ ارحام نے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔

سوری۔۔میرا نام اذان نہیں رہان ہے۔۔۔ ہلکا سا مسکرایا۔۔۔

اچھا مزاق ہے۔۔۔ ارحام نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔ تبھی اذان بھی پہنچا۔۔۔

لالا منال مل گئی۔۔۔ ارحام ارمان ان دونوں کو دیکھ کر حیران تھے۔۔۔ دونوں بلکل ایک جیسے۔۔۔ سفید رنگت براؤن بال ایک جیسا قد۔۔ ایک کی سبز اور ایک نیلی آنکھیں۔۔۔

اب آپ کو یقین ہو گیا ہو گا میں چلتا ہوں۔۔

Night Of Fury novel by Nabia Subhan

آپ نے ان دو جنرلسٹ کے بارے میں ایکشن لینے کا کہا تھا بٹ اب تو ایک مر چکا ہے جبکہ دوسرے کو غائب کیا گیا ہے آپ اس بارے میں کیا کہنا چاہینگے؟

جی میں نے ایکشن لینے کا کہا تھا آپ لوگ بے فکر رہے میرا کام جاری ہے۔

سر آپ نے انہیں vip روم فراہم کیا اسوقت اور آپ نے کافی دعوے بھی کیے تو وہ بس وقتی تھے یا پھر واقعی آپ ان کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں ؟

جی بلکل میں نے انہیں روم فراہم کیا میرا مقصد انہیں سہولت دینا تھا اور میں ایسے بہت سے لوگوں کی مدد کر رہا ہو یہ میں نے کوئ احسان نہیں کیا ہے یہ میرا فرض تھا جو میں نے کیا ۔

سر بٹ اب تو وہ غائب ہو چکا ہے تو آپ اس بارے میں کیا کہینگے کوئ ایسا قدم اٹھائینگے آپ کہ ان کے دشمن کا پتہ لگایا جاۓ ؟

جی بلکل کیونکہ میرے ایریا میں کسی کو مارا گیا تو میں اگنور نہیں کر سکتا تھا نا ہی کرونگا اور ان کے دشمن کو میں بہت جلد آپ سب کے سامنے لاؤنگا ۔

اپنے گھر کے لاؤنج میں صوفے پر عمر رسیدہ شخص پہاڑ جیسی مضبوط کسرتی جسامت لیے اسکے ساتھ 35 سالہ جوان اسکی طرف رخ کیے بیٹھا ہوا ہے ۔

کہ کرنل داؤد خان طنزیہ مسکراتا ہے اور پاس بیٹھے شخص سے کہتا ہے کہ خضر یہ دیکھو اس خبیث کو پھر ڈراما شروع ہوگیا اسکا ۔

خضر کہتا ہے کہ سر ، یہ شخص کیسے اتنی آسانی سے ان لوگوں کو Manipulate کر دیتا ہے ؟

کرنل کہتا ہے کہ ، یہ ہماری public speaking کی skills میں آجکل ہمارے New Cadets کو پڑھایا جارہا ہے ۔

یاد رہے ؛ public speaking میں پہلا حربہ Ethos کہلاتا ہے ، اس لمحے سامنے بیٹھے لوگوں کو اپنی علم کی بنیاد پر متاثر کیا جاتا ہے ۔

Muqeed e Adl novel by Zunera Zulfiqar

  • by

“ندیدوں کو چاہیے اپنی نظریں ہٹا لیں۔ بندے کو نظر بھی لگ سکتی ہے،” عشھب کی نظریں محسوس کرتے ہوئے ابرام صاحب نے دل جلانے والی مسکراہٹ سجاتے کافی کا گھونٹ حلق میں اتارتے ہوئے کہا تومقابل بل کھا کر رہ گیا۔ سب جانتے تھے کہ عشھب کافی کا دیوانہ ہے اور اس کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرتا، اور اگر کافی اس نے خود بنائی ہو تو بالکل بھی نہیں۔

“پرائی چیزیں چھیننے والوں سے اللّه پاک قیامت والے دن الگ حساب لے گا،” عشھب نے ڈرانے کی ناکام کوشش کی مگر سامنے بھی اس کا باپ تھا۔

“ہمم، مگر،” کچھ پل رک کر ابرام صاحب نے کہا، “اگر وہ چیز آپ کے پیسوں سے لی گئی ہو تو؟” آئبرو اچکاتے ہوئے استفسار کیا۔ جیسے بتانا چاہ رہے ہوں کہ “بیٹا جی، یہ جو کافی آپ نے بنائی ہے یہ انہی کے پیسوں سے لی گئی ہے۔”

جس پر وہ تپ اٹھا مگر پھر یاد دہانی کروائی، “ہاں تو جب آپ میرے کیفے آتے ہیں تو میں آپ کو مفت میں کافی پلاتا ہوں۔”

“بالکل، اور وہ کیفے بھی میرے پیسوں سے بنایا گیا ہے،” آہ ! ابرام احمد کا احسان جتانے والا انداز۔

“ہاں تو یہ پراپرٹی بھی تو دادا سے ملی ہے،” عشھب نے صرف سوچا، کہنے کی ہمت نہیں تھی۔ ویسے بھی بھلا عشھب، ابرام احمد سے جیت سکتا ہے؟ یقینا نہیں۔ اسی لئے وہ محض پیر پٹھکتے سیڑھیوں (جو کچن اور لاونج کے درمیان میں تھیں) پر چڑھنے لگا مگر اپنے پیچھے سے آنے والی آواز پر اس کے قدم رک گئے۔

“آئے ہائے، کیا کافی ہے یار، مزہ آ گیا۔ بس آج کا سارا دن بغیر تھکن کے گزر جائے گا، واہ بھائی واہ!”

Pyaar hua tha by Zeenia Sharjeel Complete

  • by

“آج ریان کافی خوش دکھائی دے رہا ہے”
وہ عرا کو مخاطب کرتی چلتی ہوئی اس کے پاس آنے لگی عرا اس کی بات کے جواب میں کچھ نہیں بولی ہلکا سا مسکرائی اور کرسی سے اٹھ گئی
“ویسے تمہیں تو خوش رکھا ہوا ہے ناں ریان نے”
مائے نور کے دوبارہ مخاطب کرنے پر عرا کو حیرت ہوئی
“جی ریان ہر لحاظ سے کوشش کرتا ہے کہ میں خوش رہو بہت کیرئنگ ہے میرے لیے”
مائے نور کے پوچھنے پر عرا اس کی بات کے جواب میں بولی
“اور پھر بدلے میں تم کیسے خوش کرتی ہو ریان کو، مطلب ایسا کیا کرتی ہو جو وہ تم سے خوش رہے”
مائے نور کے عجیب سے سوال پر عرا کنفیوز ہوکر اسے دیکھنے لگی عرا کو سمجھ نہیں آیا کہ مائے نور اس سے پوچھنا کیا چاہ رہی تھی
“بہت بھولی ہو ناں تم، سمجھ میں نہیں آرہی میری باتیں کہ میں کیا پوچھنا چاہ رہی ہوں تم سے۔۔۔ واہ بھئی واہ بچہ پیدا کرلیا، دو مختلف مردوں سے محبت پالی مگر معصومیت وہی کی وہی برقرار ہے ابھی تک”
مائے نور باقاعدہ تالی بجاتی ہوئی عرا پر طنز کرتی بولی جس پر عرا کو ڈھیروں شرمندگی نے گھیرے میں لے لیا
“اتنی جلدی بھول گئی تم زیاد کی محبت کو، اسی کے بھائی کے ساتھ وقت گزارتے ہوئے تمہیں زیاد کی یاد نہیں آتی یہ بھی یاد نہیں آتا کہ زیاد کس قدر محبت کرتا تھا تم سے۔۔۔ ایسے ہی کل کو ریان کو بھول کر کسی تیسرے مرد کے پاس بھی چلی جانا جو تمہیں ریان سے زیادہ خوش رکھنے کی کوشش کرے دراصل تم جیسی چھوٹی سوچ رکھنے والی لڑکیاں ایسی ہی تربیت حاصل کرتی ہیں اپنے بڑوں سے، وفا نام کی کوئی چیز ہوتی ہی نہیں تم تھرڈ لڑکیوں کے اندر۔۔۔ میں نے اپنی ساری جوانی، اپنی ساری عمر اس شخص کی وفا میں گزار دی جس نے اپنی زندگی میں مجھے کبھی اہمیت دینا ضروری ہی نہیں سمجھا اور ایک میری بہو ہے جو آرام سے اپنے شوہر کے مرنے کے بعد اب اسی کے بھائی سے محبت وصول کرنا اپنا حق سمجھ رہی ہے۔۔۔ تف ہے تمہارے اوپر شرم سے ڈوب مرنا چاہیے تمہیں”
مائے نور کی باتیں سن کر وہ روتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی اور بیڈ پہ گرتی ہوئی بری طرح سسکنے لگی آج مائے نور نے جس طرح اس کو ذلیل کیا تھا اتنی ذلت اور سبکی اُس کو آج سے پہلے کبھی بھی محسوس نہیں ہوئی

Sitamgari yaar ki novel by JN Writes

  • by

آگے کے بارے میں کیا سوچا ہے تم نے؟

شایان کی بات سن کر ماہم نے نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا ان نگاہوں میں شایان کو خود کے لیے ہزاروں گلے شکوے نظر آئے۔

وہ طنزیہ مسکرائی اور بولی میں نے کیا سوچنا ہے اور میرے سوچنے سے بھلا کیا ہو جائے گا ۔

میں تو وقت کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی ہوں جسے جو چاہے جدھر چاہے موڑ لیتا ہے ۔

میں تو بس خود کو حالات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہی ہوں۔

یہ کہتے ماہم کی آنکھ سے اشک گرے اور اس کے جزبات کی طرح ہی بے مول ہو گئے۔

شایان آپ اپنے لیے جو چاہیں فیصلہ کر لیں ۔آپ آذاد ہیں میں جانتی ہوں یہ ایک بے جوڑ شادی تھی آپ کبھی بھی مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہیے تھے مگر ہم دونوں ہی مجبور تھے جیسے آپ اپنی ماں کی خاطر مجبور ہوگئے ویسے ہی میں بھی تایا جان کے احسانات کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہوں تب ہی کبھی ان کی کسی بات سے انکار نہیں کر پائی۔

دوسرا ایک لاوارث اور یتیم لڑکی اگر یہ ٹھکانا بھی کھو دیتی تو پھر کہاں جاتی۔