Khamoshi afsana by Uqba Ahmed
آپا کلثوم، اسے ناجانے کتنے پہر یوں ہی بغیر کسی احساس کے تکے گئیں اور پھر مُکّھی کے پکارنے پر پیچھے کو مڑیں۔ اسی لمحہ کرم دین نے نظریں اٹھا کر پکارنے والے وجود کو دیکھا تھا اور مُکّھی نے زندگی میں پہلی بار ان نظروں میں کوئی حقارت، کوئی ملامت نہ محسوس کی بلکہ اس نے وہاں ایک اور جذبہ دیکھا تھا اور وہ تھا بے بسی کا، سالوں سے خود اذیتی کی بھٹّی میں خود کو جلانے کا، پر وہ بے بس تھی کہ وہ اپنے لیے بھی کبھی سکون کا انتظام نہ کر سکی تھی، اس نے باپ کے رویے کی وجہ سے لوگوں سے کوسوں دور رہنا سیکھا تھا۔ باپ کے ہوتے ہوئے بھی اس نے ساری عمر پھوپھی کی نگرانی اور مستقبل قریب میں ہونے والے سسرال میں گزار دی اور باپ کی محبت کی خیرات اس کی جھولی میں ڈلوانے کے لیے پھوپھی نے اس کو اس کے ہی گھر میں فقیر کی طرح چکر لگوائے، جو چند پل عنایت کرنے والے کی طرف آس سے تکتا ہے اور پھر آس کے ٹوٹنے پر اپنی راہ لے لیتا ہے۔ آج تو پھر عنایت کرنے والے کی حقیقت سامنے آئی تھی کہ وہ خود بھی خالی دامن اور چیتھڑوں کا بھرم رکھنے والا فقیر تھا، بس فرق اتنا تھا کہ وہ مُکّھی کی طرح آستانے پر پھیرے نہ ڈالتا تھا۔









