Skip to content

Sarange novel by Maryam Rajpoot

  • by

محرم کے ہارٹ بیٹ شو ہو رہی ہے جو کہ بہت لو ہیں اور اسکے سگنل کم مل رہے ہیں وہ کہیں بہت زیادہ کم سرویس والی جگہ پر ہے ۔۔۔وہ یلدز کو دیکھتی بولی تھی جبکہ یلدز کے دل کو کچھ ہوا تھا وہ ضبط سے مٹھیاں بھینچ گیا تھڈ صالحہ کچھ کرو پلیز جلدی ۔۔وہ باہر کی جانب بڑھا تھا جب اچانک اسکا فون بجا تھا ۔۔۔گرینی محرم کہاں ہے ؟ وہ انکی کال اٹھاتے بولا تو انکی روتی ہنیی آواز کان سے ٹکرایی تھی ۔۔یلدز ووو۔۔۔وہ۔۔۔سس۔۔سسیی۔۔سییم لے گیا ہے اسے وہ اسے اس جگہ لایے گا جہاں وہ لڑکیوں کو مارتا ہے یہ جگہ کویی بہت زیادہ پانی کے قریب ہے پانی بہنے کی آوازیں ۔۔۔ابھی وہ کچھ اور بولتین کال کٹ گیی تھی شاید سگنل ختم ہویے تھے وہ جلدی سے صالحہ کی جانب بڑھا تھا صالحہ یہ کال ٹریپ کرو ۔۔وہ یہین ہے ۔۔ وہ تڑپتے بولا تو صالحہ نے اسکے ہاتھ سے فون لیا تھا اب وہ یہ سوچ رہا تھا پانی کہاں بہتا ہے بہت زیادہ یقینا یہاں جنگل مین ہو گا کچھ وہ لیپ ٹاپ پکڑتے ویسے تمام جگہیں سرچ سر رہا تھا اسکی زندگی مشکل میں تھی اسکی أنگلیاں کانپ رہین تھیں جب اچانک اسے وہ جگہ مل گیی تھی وہ بہتا ہوا جھرنا تھا جسکے پاس کچھ کوٹیج بنے تھے صالحہ نے بھے وہی جگہ بتاییی تھی وہ سب لوگ گاڑیاں نکالتے نکل گیے تھے وہ جگہ وہاں سے آدھے گھنٹے کے فاصلے پر تھی یلدز نے وہ فاصلہ پندرہ منٹ میں تہ کیا تھا پھر وہ تمام لوگ گاڑیوں سے اترت. تمام کوٹیج میں پھیل گیے تھے یلدز جس میں داحل ہوا تھا وہ کوٹیج بلکل پاس تھا جھرنے کے وہ اندر داحل ہوا تو اسے ایک کمرے سے چیخنے کی آوازین آرہیں تھین وہ چیخیں گرینی کی ہی تھیں وہ اندر گیا تو دروازے پر ہی ساکت رہ گیا تھا گرینی آحری سانسیں لے رہیں تھیں وہ آنکھون سے اوپر کی جانب اشارہ کر گییں تو وہ جلدی سے اوپر بڑھا تھا وہاں بہت سے کمرے تھے مگر ایک کمرے کا لاک کھلا تھا وہ آہستہ سے اندر داحل ہوا تھا مگر پھر یلدز کاظمی پتھر سا ہو گیا تھا ہاں وہاں اندر محرم تھی مگر وہ افف اسکو دیکھتے یلدز کی آنکھوں سے نہ جانے کتنے آنسو گرے تھے وہ بے ہوش تھی اسکا وجود کرسی سے بندھا ہوا تھا سختی سی وہ جلدی سے اسکی جانب بڑھا تھا محرم کے ماتھے سے حون نکل رہا تھا وہ اسکی رسیاں کھول رہا تھا جب اچانک دروازہ کھلا اور کویی اندر داحل ہوا تھا یلدز پیچھے مڑا تو سیمم کھڑا تھا مگر اسکے ساتھ صالحہ بھی تھی اسنے صالحہ کے سر پر پسٹل رکھی ہویی تھی ۔۔۔ہاہاہاہاہاہہاہا ۔۔وہ یلدز کو دیکھتے ہنسا تھا تم میری فیری کو لے جایو گے تو میں اسے مار دوں گا!!! جبکہ صالحہ کے بال اسنے سختی سے پکڑ رکھے تھے ۔۔تم پیچھے ہٹو میری فیری سے ۔۔سییم بولا تو یلدز یک دم کھڑا ہوا تھا پھر وہ محرم کے سامنے آگیا یوں کہ وہ نظر نہ آیے یلدز کی نظریں سیم کے پیچھے تھیں جہاں سارک کھڑا تھا اچانک یلدز مڑتے محرم کو اپنے سینے سے لگا گیا اور صالحہ کو پکڑے سیم کے ہاتھ پر سارک گولی مار گیا تھا

Hasad novel by Rimsha Riaz

  • by

بات کم کرتی ہے چیختی بہت ہے ، بٹ تم کوشش کرنا یہ تمھیں کچھ بتا دے ہماری بھی مدد ہو جایے گی، کالا چشمہ سر پہ ٹکائے وہ اس کے ہم قدم تھی

افکورس لیڈی! میں پوری کوشش کروں گی اوکے! ناؤ لے چلو مجھے اس کے پاس مالا!

ہہمم دوست ہو تم تب ہی لے کر جا رہی ورنہ! اس نے منہ بنایا

اب ایموشنل بلیک میل مت کرو اور چلو ! وہ اسے تقریبا گھسٹتے ہوئے لے کر جانے لگی

٭٭

سب دھوکہ ہے،

جو ہوا کھیل پھیل رہی ہے نحوست ہے،

یہ جو حال ہے میرا حسد ہے

کھا ہی جاتا ہے سپنے بھی

اپنے بھی لے ڈوبتا ہے

گر تم جانو! یہ مرض تمھیں راکھ کر دیتا ہے

کچھ نہیں بچتا تمھارے ہاتھ میں ۔

سلور رنگ کے شلوار قمیص بکھرے الجھے بال ہاتھوں میں ناخنوں کے نشانات ، مردہ چہرہ اس پہ چھائیاں ہونٹ پھٹے ہوئے ماتھے پہ نیل پڑا ہوا وہ بے نیاز زمین پہ لیٹی بڑبڑا رہی تھی اس کے پتلے سے ناک میں لونگ تھے جو اس کسی کی آخری نشانی تھی ۔

پھر سے اگی تم ! دروازے کی چاپ پہ وہ بنا اٹھے بولی

Jo tu na mila novel by Sidra Younas

  • by

“وہ میں”

“تم اب بہانے مت بناؤ۔” وہ اس کی بات کاٹ کر بولا۔

“نہیں ایسے نہیں ہے۔” وہ دھیمی آواز میں بولی۔

“اچھا ویسے اس دن میرے سوال کا جواب تو بیچ میں ہی رہ گیا تھا۔” وہ یاد کرکے بولا۔

“ابھی آپ نے لے تو لیا جواب۔” وہ خفگی سے بولی۔

“اچھا تو اب پیار سے جواب دو ناں۔” وہ لاڈ سے بولا۔

“مجھ سے نہیں کیا جائے گا۔” وہ روہانسی ہو کر بولی۔

“مجھے نہیں پتا مجھے سننا ہے۔” وہ اسے تنگ کرنے کے موڈ میں تھا۔

“روحام” وو راہانسی ہوئی۔

“ہاں روحام کی جان۔ ” وہ اتنے ہی پیار سے بولا تو نوال شرما گئی۔

“آپ کام کریں مصروف ہوں گے۔ ” وہ روحام کو ٹالنے لگی۔

“نہیں میں بالکل فری ہوں۔ ” وہ آرام سے بولا۔

“اچھا مجھے بھوک لگی ہے۔” جب کوئی بات نہ بن پڑی تو اس نے فوراً بولا۔

“تو کھانا کھاؤ ناں۔ ” اس کا طریقہ کارگر ہوا۔

“چلو کھانا کھا لو پھر میں دوبارہ کال کروں گا۔” روحام نےکہا۔

“اللّہ حافظ” وہ مسکرا دی اور فون رکھ دیا۔

روحام کی باتیں سن کر وہ بلش ہو جاتی تھی اور جب کوئی جواب نہ بن پڑا تو اس نے بہانہ بنا کر کال کاٹ دی۔

Ishq ki junoon kheziyan novel by Shifa Eman

  • by

ریشوووو۔۔۔ کب سے ڈھونڈ رہا ہوں تمہیں۔۔۔۔ عادی نے اسے لان میں اکیلے بیٹھے دیکھ کر آواز دی۔۔۔

اوہ رئیلی؟ وریشہ نے طنز کیا۔۔۔

اچھے سے جانتی ہو کھانا اکٹھے کھاتے ہیں ہم۔۔۔ عادی نے اسکا طنز اگنور کرتے ہووے جواب دیا۔۔۔

اگر اتنا پتہ تھا تو یہ بھی پتہ ہو گا مما نے کہا تھا عادی وریشہ کے ساتھ ساتھ رہنا۔۔۔ اسنے غصہ ظاہر کیا۔۔۔۔

سوری۔۔۔۔ عادی نے فورا کان پکڑے۔۔۔

معاف کیا۔۔۔ اسنے چہکتے ہوے فراخ دلی کا مظاہرہ کیا۔۔۔

عادی ی ی ی۔۔۔۔ ویسے کیا سچ میں اچھی لگی تمہیں وہ چڑیل؟ وریشہ نے سرگوشی کی۔۔۔۔

اچھی تو ہے لیکن تم سے زیادہ نہیں۔۔۔۔ عادی مسکرایا۔۔۔۔

اچھی تو میں بہت ہوں مجھے پتہ ہے۔۔۔ برجستہ جواب آیا تھا۔۔۔

یہ بتاو جناب آپ جب نیچے آئیں تو موڈ کیوں آف تھا۔۔۔ عادی نے پوچھا

عادی وہ لڑکی نہ بہت گندی ہے۔۔۔ وریشہ نے منہ بسورتے ہووے گلہ کیا۔۔۔

اچھا جی وہ کیسے؟ عادی نے پوچھا

وہ ایسے شو کر رہی تھی جیسے وہ بہت شرمیلی اچھی ہے سہی ہے میں غلط۔۔۔۔ افففف کیسے بتاوں؟؟ اسنے دانت پیستے ہووے سر کو تھام لیا۔۔۔ عادی تم۔جانتے ہو مجھے نہیں بتانا آتا جو بھی فیل ہو ۔۔۔۔ مجھے نہیں سمجھانا آ رہا کچھ بھی لفظوں میں۔۔۔ لیکن عادی وہ بہت گندی ہے بس۔۔۔۔ اسنے فیصلہ سنایا

تم پاگل ہو ریشووو۔۔۔ وہ مسکرایا۔۔۔

چلو کھانا کھائیں۔۔۔ عادی نے کھڑے ہوتے ہوے اسکی طرف ہاتھ بڑھایا۔۔۔۔

نہیں مجھے کھانا یہیں بیٹھ کے کھانا ہے وریشہ نے بچوں سی ضد کی۔۔۔

اوکے مائی ڈئیر پارٹنر میں ابھی کھانا لے آتا ہوں۔۔۔ عادی نے اسکے آگے سر خم کرتے ہوئے جواب دیا۔۔۔۔

Chasham e tar short novel by Qurrat Ul Ain

  • by

“تم کیا سوچتی ہو۔۔۔۔تم یہ کیس جیت جاؤ گی۔۔۔۔میں ایسا نہیں ہونے دوں گا”کرن اکبر کی اس بات کے جواب میں اسے تنزیہ مسکراہٹ دیتی ہے۔

“یہ کیس میں ہی جیتوں گا۔۔۔۔کشف میری بیٹی ہے اور میرے پاس ہی رہے گی۔۔۔سمجھجی تم”

کرن “اور اگر میں جیت گیٔ تو……؟؟؟” کرن اکبر کی بات ٹوکتے ہوۓ۔

” اور۔۔۔۔اگر۔۔۔۔اگر تم جیت گیٔ تو۔۔۔۔تو۔۔۔دیکھو بی بی اگر تم جیت گیٔ تو میں تمہاری بیٹی کا نام ونشان صفح ہستی سے مٹا دوں گا۔۔اور تم جانتی ہو میں ایسا کر سکتا ہوں۔۔۔اگر اپنی بیٹی کی زندگی چاہتی ہو۔۔۔تو یہ کیس وآپس لے لو۔۔۔ورنہ ساری زندگی کے لیے تمہیں اپنی بیٹی کی موت کا پچھتاوا رہے گا۔۔۔سوچ لو”کرن اکبر کی یہ دھمکی سنتے ہی اہم سی جاتی ہے کیونکہ وہ اس انا پرست شخص سے اچھی طرح واقف ہوتی ہے۔کرن درد بھری آواز میں

“ٹھیک ہے میں اپنا کیس وآپس لیتی ہوں۔۔۔مگر تمہیں خدا کا واسطہ میری بچی کو کویٔ نقصان مت پہنچانا”

“دیکھو تم ہار گیٔ اور میں جیت گیا” اکبر فخریہ انداز میں قہقہ لگاتے ہوۓ۔

“آج ایک عورت ہار گیٔ مگر ایک ماں جیت گیٔ”کرن درد بھرے لہجے میں یہ کہتے ہوۓ تھوڑے ہی فاصلے پر پڑے بنچ پر بیٹھی کشف اور روبینہ کی طرف بھاگتی ہے اور کشف کو سینے سے لگاتے ہوۓ دھارے مار مار کر رونا شروع کر دیتی ہے۔پھر کشف کے ماتھے پر چومتی ہے اور صرف اور صرف اپنی بیٹی کی زندگی کی خاطر نہ چاہتے ہوئے بھی اسے چھوڑ کر کمرہ عدالت سے باہر نکلنے لگتی ہے پھر مر کر اپنی معصوم بیٹی کو دیکھتی ہے اور وہاں سے چلی جاتی ہے۔

Ajooba house novel by Sidra Chaudhary

  • by

آؤ آؤ بے بی،تمہاری جیسی قیامت میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھی، اور اس شادی کے جوڑے میں تو آہ آہ ہاکیا مست چیز لگ رہی ہو۔

سردار نے ارحا کی اپنی زہنیت کے مطابق تعریف کی تھی، اور ارحا نے فٹ سے مہر کو خود سے الگ کیا اور سردار کی طرف قدم بڑھا دیے۔اور پھر جیولر کے شو پیس کے پاس ایک دم رک گئ۔

مجھے تو تم نے پہچانا ہی نہیں، میں تمہاری کال فرینڈ love،جس نے تمہیں اس میجر کے یہاں ہونے کا بتایا اور اسکی اصلی تصویریں تمہیں دیں۔

کیا اوہ بے بی وہ love تم ہو، تمہارا احسان تو میں ہمیشہ یاد رکھوں گا، تم نے مجھ سے محبت کا ثبوت دیا ہے آج۔

تو پھر میری خواہش پوری کرو نہ، مجھے یہ پازیبیں لے کے دو نہ اور اپنے ہاتھوں سے پہناؤ بھی،تب میں مانوں گی کی تم بھی مجھ سے محبت کرتے ہو۔

ارے میری love بس اتنی سی خواہش لو ابھی پوری کیے دیتا ہوں۔

کہتے ہی سردار نے گن اپنے ساتھ کھڑے آدمی کو پکڑائ اور خود چلتا ہوا ارحا کے پاس آیا۔

(تو اسکا مطلب ارحا ان لوگوں کے ساتھ ملی ہوئ ہے،اس دن ارحا رات کو ،مطلب اس دن

بھی وہ انکے کام سے نکلی تھی، ارحا تم ایسا کیسے کر سکتی ہو،میرے ملک سے غداری تمہیں بہت مہنگی پڑے گی،اپنے ملک کے لیے مجھے تمہاری بھی جان لینی پڑی تو نہیں چھوڑوں گا میں تمہیں)مائل نے سوچتے ہوئے لال انگارہ آنکھوں سے ارحا کو دیکھا جو شو کیس میں سے پازیبیں نکال رہی تھی ۔

لاؤloveتمہاری یہ خواہش بھی پوری کروں ،سردار نے ارحا سے پازیبیں پکڑتے ہوئے کہا،اور پھر اس کے قدموں میں بیٹھ گیا۔

ارحا نے جھک کر اپنا ہاتھ سردار کے کندھے پہ رکھا اور اپنا پاؤں اس کے گھٹنے پہ۔سردار نے زرا سا لہنگا اٹھا کر جیسے ہی ارحا کا پاؤں ننگا کیا حیران رہ گیا۔

اس کے پاؤں پہ پسٹل بندھا تھا،اور پھر ہنس پڑا اور پسٹل کھول کر ارحا کی طرف بڑھا دیا۔

ارے love اب یہ پسٹل یہاں چھپانے کی کیا ضرورت ہے۔

ہاں صحیح کہا،یہ پسٹل اب چھپانے کی کیا ضرورت ہے، کہتے ہی ارحا نے سردار کو دھکا دیا جس سے وہ ایک دم پیچھے کی طرف گرا،ارحا نے تیزی سے اپناپاؤں جس میں اس نے وہ سنیکرز جو وہ ہمیشہ گھر سے باہر نکلتے وقت پہنے رکھتی تھی،جو کسی کو بھی قتل کرنے کے لیے کافی تھے،اس کے سینے پہ رکھ دیا اور پسٹل اس پہ تان لی تھی۔

اور اونچی آواز میں ایک دم ایکشن بولا تھا، اور ارحا کے ایکشن کہنے کی دیر تھی کہ ایک دم بیت سے آرمی کے لوگ جو سویلین کے روپ میں تھے ،انہوں نے تمام ڈاکوؤں کو قابو کر لیا تھا۔

سر آپ ٹھیک تو ہیں؟ ایک آرمی آفیسر جلدی سے مائل کے پاس آیا تھا ۔اور مائل نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔

کیوں کیسا لگ رہا مسٹر عظیم چوہدری، اپنی بازی پلٹتے دیکھ کر،کیا کہا کہا تھا کہ اس ملک کو برباد کرو گے اور وہ بھی میجر مائل کے ہاتھوں،ارحا نے اسے زور سے کک کی تھی اور وہ چیخ پڑا تھا(آخر ارحا نے یہ سپیشل سنیکرز لوگوں کی حالت خراب کرنے کے لیے ہی بنوائے تھے)۔

تتتتتم تم تو میری love پھر اتنا بڑا دھوکا۔

ہاہاہاہاہاہا تمہاری love نہیں ، سیکرٹ ایجنٹ love queen، نام تو سنا ہی ہو گا۔

_____________________________________

ہاہاہاہاہا تمہاری love نہیں،سیکرٹ ایجنٹ love queen ,نام تو سنا ہوگا۔

ارحا ہنستے ہوئے اس کے پاس بھیٹتے ہوئے سرگوشی میں کہا تھا، اور یہ جان کر وہ ایجنٹ love qeen اسکا منہ کھلے کاکھلا رہ گیا تھا۔

ایییییییییءءی ایسا نہیں ہو سکتا میں نے خود پتہ کیا وہ ملک سے باہر گئ ہے،اس نے تڑپنے والے انداز میں کہا تھا۔

Tere ishq mein hari piya novel by Biya Naz

  • by

اے اللہ میں بے وقوف تھا جو ایک سراب کے پیچھے بھاگتا رہا۔ بھاگتے بھاگتے کب نہ جانے کب میں ایک ایسی لڑکی کو اذیت دینے لگ گیا جو میری سب کچھ تھی۔ میرا محرم تھی۔ میرا لباس تھی۔ اے اللہ میں نے اس کی حق تلفی کی۔ اسے ایک ایسے جرم کی سزا دی جو اس نے کبھی کیا ہی نہیں تھا۔ اے اللہ تو اس کو زندگی بخش دے۔ میں اس کا بہت خیال رکھوں گا۔ اے اللہ میں نے سنا تھا کہ نکاح کے دو بولوں میں بڑی طاقت ہوتی ہے وہ دونوں دلوں میں محبت جگا دیتی ہیں۔ جانے کب اس کا پیار میرے دل میں گھر کر گیا۔ اس کی آواز اس کا انداز خیال، اسکی ایمانداری،اس کا اللہ پر بھروسہ بلکہ وہ خود میرے دل میں سب سے اونچی سنگھاسن پر بیٹھ گئی۔ اے اللہ میں معافی چاہتا ہوں اپنے ہر اس فعل کی جو میں نے اسمائرہ کے ساتھ روا رکھا اے اللہ میری زندگی کی واحد خوشی ہے۔ میرے مولا تو مجھ خطا کار کی سن لے اور اسمائرہ کو نئی زندگی بخش دے۔ اے اللہ تو کرم فرما دے مولا اے اللہ

Momin ki momina novel by Bint e Mehrban

  • by

(“اپنی ادا دیکھا کر خراب کر کے ابن آدم کو تو

اے بنت حوا!!!!

تو کہتی ہے ابن آدم خراب ہے”)

♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡

(“زندگی خراب کر کے بنت حوا کی

اے ابن آدم!!!

“خیال رکھ ایک بنت حوا گھر تیرے بھی ہے”)