Skip to content
Home » Archives for January 2025 » Page 6

January 2025

Last bulit club by Alishma Nisa Comlpete novel download pdf

  • by

“مومو آپ نے ہمیں جواب نہیں دیا.”کافی دیر بعد بھی جب مہرماہ کچھ نہیں بولی تو اس سے رہا نہیں گیا اور دوبارہ سوال کیا۔

“کچھ خاص نہیں بس اتنے کم پودوں کو لان میں دیکھ کر حیران ہوں.”اقراء نے حیرانی سے انہیں دیکھا۔مطلب وہ ابھی تک یہ سوچے جارہی تھی کہ لان اتنا چھوٹا کیوں ہیں۔اس نے دل ہی دل میں ایک قہقہ لگایا تھا یعنی اسکی مومو بھی اسکی طرح فضول ہی سوچنے لگی ہیں۔مہرماہ کی کافی تقریبا ختم ہوچکی تھی۔تبھی کے سامنے رکھے میز پر رکھا اور شال اپنے کندھوں سے ہٹاکر ساتھ والی کرسی پر رکھا۔

“شاید آغا کو پودے پسند نا ہو۔”اس نے اپنے طرف س مدعا پیش کیا۔جس پر مہرماہ نے نفی میں سر ہلایا۔

“بابا جان کو پودے کافی پسند ہیں۔اور یہی خوبی ان سے رجب بھائی اور آغا میں منتقل ہوئی ہیں۔اغا کو پودے کافی پسند تھے۔میں نے رجب بھائی سے سنا تھا۔جو پودا میں آغا کی پیدائش پر لگایا تھا۔اغا نے اسکا بہت خیال رکھا تھا۔”اقراء کو دلچسپی ہوئی تھبی ننگے پیر گھاس پر چلتے ہوئے آکر ان کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئی۔انکی نظریں اپنے بائیں طرف کے پودوں پر تھیں۔لان کافی وسیع تھا مگر پودے اس میں نا ہونے کے برابر تھے۔

اقرا نے انکی نظروں کی تعاقب میں دیکھا تھا جہاں ایک پودے پر ننھی ننھی کھلیاں آگئی تھی۔جب اس نے مومو جو دوبارہ بولتے سنا۔

“بعد میں جب وہ پندرہ سال ہوا تب اس نے رجب بھائی کے گھر پر اسی پودے کے بہت سے قسمیں لگائی تھی بلکہ داؤد صاحب کہہ رہے تھے کہ اس نے تو اپنے نانا کے گھر پر بھی اپنا لان بنا رکھا تھا۔”بولتے ہوئے وہ پل بھر کو روکی تھی پھر دوبارہ بولنا شروع کیا”پنار بھابھی سے دور ہونے کے بعد تو اسکا زیادہ تر وقت کی پودوں کے ساتھ ہی گزرتا ۔اسے گارڈننگ بہت پسند تھی اقراء۔میں حیران ہوں کہ اس نے اپنے گھر پر اتنے کم پودے کیوں لگائے ہیں؟”وہ پریشان ہوئی تھی۔اقرا کو آج احساس ہوا تھا کہ مومو کو صرف اس سے ہی نہیں آغا سے بھی محبت تھی۔سورج کی کرنیں لان میں پڑتے ہی گرمی کا احساس ہوا۔تو اقراء نے شال خود پر سے ہٹاکر تہہ کرکے اپنے گود میں رکھا۔

“مومو آپ باخبر ہیں انکے بچپن سے کہ انکا بچپن عام بچوں کے بچپن سے قدرے مختلف گزرا ہیں۔چھوٹی عمر میں ہی وہ اس دلدل میں پھنس گئے تھے۔زندگی نے ان سے بہت تلخ امتحان لیا ہیں۔جس میں انکے سارے شوق دم توڑ چکے ہیں۔”مہرماہ کی نظریں اب اس پر تھی۔اپنے اوپر انکی نظروں کی تپش محسوس کرکے اقراء نے انہیں دیکھا۔

Safar e haqeeqat (apni Main ki talash mein) by Meera Binte Ayesha

  • by

“سفرِ حقیقت” – ایک منفرد روحانی داستان

میرا بنت عائشہ کے ناول “سفرِ حقیقت” میں محبت، ایمان اور خودشناسی کے خوبصورت جذبات کو منفرد انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ کہانی خاص طور پر ان افراد کے لیے ایک پیغام ہے جو دنیاوی تعلقات میں الجھ کر اپنے حقیقی مقصد کو بھول جاتے ہیں۔

کہانی کی مرکزی کردار، امیرہ، جانتی ہے کہ اللہ ہمیشہ سنتا ہے، مگر اس کا دل حقیقی اطاعت کی جانب مائل نہیں ہوتا۔ اس کی زندگی میں کئی چیلنجز آتے ہیں، اور سب سے بڑی آزمائش ایک نامحرم سے اس کا تعلق ہے۔ یہ کہانی ان تمام افراد کی عکاسی کرتی ہے جو وقتی جذبات میں بہک کر اپنی اصل پہچان کھو بیٹھتے ہیں۔

امیرہ کو جس شخص سے محبت ہوتی ہے، وہ اس کی قسمت میں نہیں ہوتا، اور جسے وہ پسند کرتی ہے، وہ اس کے لیے موزوں نہیں ہوتا۔ لیکن آخر میں، وہ اس شخص کے ساتھ اپنی زندگی کا سفر شروع کرتی ہے جو اللہ کے فیصلے پر یقین رکھتا ہے، اور جس کے لیے ظاہری خوبصورتی سے زیادہ دل کی پاکیزگی اہمیت رکھتی ہے۔

“سفرِ حقیقت” ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ دعائیں، تعویذ یا خواہشات ہمیشہ ہماری تقدیر کو نہیں بدل سکتے، کیونکہ جو کچھ بھی ہوتا ہے، وہ اللہ کی حکمت کا حصہ ہوتا ہے۔ امیرہ کے سفر کے ذریعے ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ حقیقی خوشی صرف دنیاوی رشتوں میں نہیں، بلکہ اللہ پر مکمل بھروسہ رکھنے میں ہے۔

یہ ناول محض ایک کہانی نہیں بلکہ ایک ایسا سبق ہے جو ہر شخص کو یہ سمجھاتا ہے کہ کسی کے پیچھے بھاگنے کے بجائے، اللہ کی محبت کو اپنی زندگی کا محور بنانا چاہیے۔ اگر آپ روحانی اور جذباتی کہانیوں کے شوقین ہیں، تو “سفرِ حقیقت” ضرور آپ کے دل کو چھو لے گا۔