Ek cup chai by afsana Mehtab Zahoor
” تم میں کوئی تمیز ہے کہ نہیں۔ اندھی ہو جو اس طرح ٹکراتی پھرتی ہو؟” وہ تقریباً چیختے ہوئے بولی تھیں۔ ان کی آواز سن کر سبھی لوگ آ گئے تھے۔ جب کہ صبیحہ ابھی تک بے یقینی سے گال پر ہاتھ رکھے کھڑی تھی۔ آج تک کسی نے اس پر ہاتھ نہیں اُٹھایا تھا۔ زندگی میں پہلی بار اس نے تھپڑ کا درد محسوس کیا تھا۔
” یہ کیا حرکت ہے تابندہ؟ تم آج تک جیسا بھی رویہ رکھو میں نے تمہیں کبھی کچھ نہیں کہا۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تم بچوں پر ہاتھ اٹھانا ہی شروع کر دو۔ “
دادی گرجتی آواز میں بولی تھی۔ سبھی کو تابندہ چچی کا تھپڑ مارنا بہت برا لگا تھا۔ صبیحہ کی والدہ اپنے اندر ابھرتے غصے کے باعث بہت کچھ بولنا چاہتی تھیں مگر یہ اس گھر کا اصول تھا کہ جب رحمت عزیز بولتی تھیں تو پھر کسی کے بولنے کی گنجائش نہیں بچتی تھی۔
تابندہ چپ چاپ کھڑی ان کی ڈانٹ سن رہی تھیں۔ تھپڑ مار کر شرمندہ وہ خود بھی ہو رہی تھیں۔ مگر اب ان کی شرمندگی کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔









