Skip to content
Home » Islamic based Novels » Page 3

Islamic based Novels

Allah ka rasta by Gul Gandapur Complete novel

  • by

دیکھو زونین جو کچھ بھی ہوا میں جانتا ہوں اِس میں تمھارا کوئی قصور نہیں اور میں تمہیں چھوڑ کر نہیں گیا تھا مُجھ پر اعتبار کرو زوینی،اِس سب میں صوفیہ ہی کا قصور تھا اُس نے نہ صرف ہمارا بلکہ خود کا بھی بہت نقصان کیا،

میرا یقین کرو زوینی اُس وقت حالات کُچھ سہی نہیں تھے پاپا کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا جاناں میری مجبوری تھی مُجھے سمجھنے کی کوشش کرو یار میں نہیں جاتا تو نجانے کیا ہو جاتا پلیز زوینی،

زونین نے ایک ٹھنڈی اہ بھری

وہ دونوں سمندر کے کنارے ایک بینچ پر بیٹھے تھے، زونین سامنے دیکھ رہی تھی،

عبدان خانزادہ بار بار وضاحتیں وہ لوگ دیتے ہیں جو گنہگار ہوں اور رہی بات اعتبار کی تو اعتبار توڑنے والوں پر دوبارہ بھروسہ کرنا ایک بہت بڑی بیوقوفی ہیں جو کہ میں نہیں کر سکتی۔۔

Tasawwur e musawir by Kainat Jameel Abbasi Complete novelette

  • by

کہتے ہیں کہ خود سے محبت کرنے کے لیے۔۔

انسان کا خوبصورت ہونا لازم ہوتا ہے۔

مگر انسان کو یہ نہیں بتایا جاتا کہ۔۔

ہر انسان منفرد انداز میں خوبصورت ہوتا ہے۔

اور جان لو تم یہ بات کہ۔۔

خوبصورتی خوداعتمادی کا نام ہے۔

خوداعتمادی کے دو ہی اصول ہیں۔

یا تو تم خود کو جان کو

یا پھر اپنے خدا کو جان لو۔

خالق اور مخلوق کے درمیان

رشتہ صرف محبت کا ہے۔

جیسے کسی تصویر اور مصور کے درمیان

محبت کا تصور ہوتا ہے۔

تصویر کا حسن، مصور کے تصور کا حسن ہے

اور مخلوق کا حسن، خالق کی قدرت کا حسن ہے۔

کسی تصویر کی توہین دراصل مصور کی توہین ہے۔

اور کسی مخلوق کے حسن کی توہین، دراصل خالق کی قدرت کی توہین ہے۔

اگر تم خود سے کبھی محبت نہ کر سکے تو۔

تم حقیقی طور پر خدا سے محبت نہیں کر سکو گے۔

Insta I’d: @kainatjameelabbasi._.official

Sila by Maryam Hassan Complete novel

  • by

عثمان ایک کٹھن وقت سے گزر کے زندگی کا وہ راز سیکھ گیا جو شاید ہر ایک کے لیے آسان نہیں۔ ایک ایسا جذبہ جس کی سب کو اشد ضرورت ہے۔ کیا عثمان اپنی مشکلات سے نکل کر منزل پالے گا؟ اور آخر کیا ہے وہ راز ؟

Dolat-e-eman (jannat ki kunji) updated version by Mustafa Ahmed Complete PDF

  • by

Description

دولتِ ایمان(جنت کی کنجی)

یہ کہانی ایک ایسی دنیا میں پنہاں ہے جہاں مادی آرزوئیں اور دنیاوی نعمتیں انسان کے دل و دماغ پر اس قدر غالب آ چکی ہیں کہ ایمان کی روشنی دھندلا جاتی ہے۔ اس دنیا کی چکاچوند میں روحانی قدریں ماند پڑتی جاتی ہیں اور دل ایک بے سمت سفر پر رواں دواں ہوتا ہے۔

ایمان نامی ایک نوجوان لڑکی، جو دولت اور آسائشوں کے سائے تلے پروان چڑھی ہے،

روحانی طور پر بے سمت اور دین سے نابلد ہے۔ اُس کے لیے مذہب محض رسوم و روایات کا نام ہے، جس کا زندگی سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں۔ مگر اُس کی زندگی ایک عجیب رخ اختیار کرتی ہے جب اُس کا سامنا ایک پراسرار وجود سے ہوتا ہے، جو گویا فرشتہ صفت ہے۔ یہ فرشتہ، جو اُس کے دل کے اندر سوئی ہوئی روحانی شمع کو دوبارہ جلانے آیا ہے، اُس کی زندگی میں نئے معنویت اور روحانیت کا بیج بوتا ہے۔

یہ پراسرار وجود ایمان کو دینِ اسلام کی تعلیمات اور روحانی حقائق کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ وہ اُس کو ایک سفر پر لے جاتا ہے، جہاں ہر قدم اُس کے دل کو اللہ کی محبت اور ایمان کی روشنی سے منور کرتا جاتا ہے۔ لیکن یہ سفر نہایت ہی پر خار ہے، جہاں ایمان کو شدید آزمائشوں اور چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دنیا کی فریب نظریوں، نفسانی خواہشات اور شیطانی وسوسوں کا ہر لمحہ اُس کے ایمان کو آزمانے کی کوشش کرتا ہے، لیکن وہ اپنے عقیدے کی مضبوطی سے ان چٹانوں کو پار کرتی ہے۔ یہ داستان اُس کی روحانی جستجو، قربانی اور صبر کا عکاس ہے، جس میں اُس کا دل تدریجاً اسلام کی نورانی روشنی سے منور ہوتا ہے۔

دوسری طرف، کہانی گونار نامی ایک نوجوان کی ہے، جس کی زندگی تاریکی کے غاروں میں گم ہے۔ وہ دنیا کے پوشیدہ سازشوں کے جال میں پھنس جاتا ہے اور فری میسنز و ایلومیناتی کے تاریک نیٹ ورک میں جا گرتا ہے، جہاں شیطانی رسوم اور خونریز سازشیں اُس کے قلب و ذہن کو آلودہ کرتی ہیں۔ اُس کی زندگی گناہ، پشیمانی اور گمراہی کے اندھیروں میں گھر جاتی ہے۔ لیکن ایک دن تقدیر ایک نیا موڑ لیتی ہے، جب وہ ایک ہستی سے ملتا ہے جو اُسے نورِ ایمان کی طرف بلاتی ہے۔ وہ ہستی گونار کے اندر چھپی روشنی کو اُجاگر کرتی ہے، اور اُس کے دل میں توبہ اور ندامت کے جذبات کو جنم دیتی ہے۔ گونار اپنی گمراہی پر پشیمان ہو کر اللہ کی رحمت کی طرف پلٹتا ہے، اور اُس کی روح گناہوں کے بوجھ سے آزاد ہو جاتی ہے۔

یہ کہانی دو کرداروں کی روحانی بیداری اور ان کی تلاشِ حق کی دلگداز داستان ہے، جہاں ایمان اور گونار اپنے اپنے سفر میں اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرتے ہوئے اُس کی رحمت و مغفرت کے طلبگار بنتے ہیں۔ ان کی زندگیوں میں آنے والے یہ لمحے نہ صرف ان کے دلوں کے زخموں کو مندمل کرتے ہیں بلکہ انہیں جنت کی کنجی یعنی ایمان کی دولت سے مالا مال کر دیتے ہیں۔

Tahajjud se nikkah tak ka safar by Muntaha Rajput Complete novel

  • by

دانش اپ جانتے ہیں میں نے اپ کو کیسے حاصل کیا؟

بتائیے کیسے؟

تہجد کی دعاؤں سے۔ پہلے میں نے صرف سنا تھا کہ تہجد تقدیر بدل دیتی ہے لیکن اج میں نے دیکھ بھی لیا دانش میں نے اپ کو اللہ تعالی سے بہت زیادہ رو رو کر مانگا ہے۔ علیزے نے نم انکھوں سے دانش کی طرف دیکھتے ہوئے کہا

بے شک دعائیں تقدیر بدل دیتی ہیں۔ دانش نے مسکراتے ہوئے علیزے کی بات کا جواب دیا۔

تھوڑی ہی دیر میں دانش کی والدہ صوفیہ بیگم کمرے میں ائی۔

علیزے میرے بیٹے کا بہت زیادہ خیال رکھنا میں نے اللہ تعالی سے بہت رو رو کر مانگا تھا اسے۔ صوفیہ بیگم نے علیزے سے کہا۔

انٹی بے فکر رہیں *میں نے بھی اللہ تعالی سے بہت رو رو کر مانگا ہے انہیں*۔ علیزے نے مسکراتے ہوئے صوفیا بیگم کی بات کا جواب دیا۔

Hidayat ki rah per gamzan by Mehk Kanwal Bhutta Complete novel

  • by

آج کی نوجوان نسل کے نام ۔اُن لوگوں کے نام جنہیں لگتا ہے اُنکے پاس سب کچھ ہے انہیں کسی چیز کی ضرورت نہیں ۔جو لوگ کہتے ہے زمانہ بدل چکا ہے اُنکے نام ۔

یہ کہانی ہے غفلت کی،پچھتاوے کی،عشق کی ،دعاؤں پہ یقین کی،انا کی ،تکبر کی ،نفرت کی ،دوستی کی،محبت میں دھوکہ کھانے کی ، لالچ کی، سچی محبت کو پانے کی، سچی توبہ کی ، اولاد اور مال کی محبت میں حد سے بڑھ جانے والوں کی ، برائی کے انجام کی اور اللہ کی محبت کو پانے کی ۔ گمراہی سے ہدایت تک آنے کی۔

Aurat by KSA Complete novel

  • by

میں نے مسکرانے کے لیے نہیں کہا مجھے جواب چاہیے

اگر میں نے جواب دیا تو آپ کبھی سوال ہی نہیں کریں گی

تمیز سے بات کرو جانتی ہو میں کس کی بہن ہوں

اور تم بھی جانتی ہو میں کس کی بہن ہوں

یو (you)

ہاں پتا ہے پیاری ہوں اور وہاں سے اپنا سامان لیتی نکل گی جب منہا نے اپنی مٹھیاں بند کی تمہیں تو میں چھوڑوں گی نہیں

Tabeer e khwab by Iqra Rajpoot Complete novel

  • by

ترجمہ:

”اللہ آسمانوں اور زمینوں کا نور ہے اس کے نور کی مثال یوں جسے ایک طاق میں ایک چراغ (رکھا) ہو (وہ) چراغ (شیشے کے) ایک فانوس میں ہو (وہ)فانوس گویا موتی کی طرح ایک چمکتا ہوا تارا ہے وہ(چراغ) زیتون کے ایسے مبارک درخت کے تیل سےروشن کیا جاتا ہے جو نہ شرقی ہے نہ غربی قریب ہے کہ اس کا تیل اپنے آپ ہی روشن ہو جائے اگرچہ اسے آگ نہ بھی چھوئے یہ نور پر نور ہے اللہ جسے چاہتا ہے اپنے نور کی طرف رہنمائی فرماتا ہے اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے اور اللہ ہر شے کو خوب جاننے والا ہے۔“( آیت ٣٥)

وہ بہت انہماک سے آیت کا ترجمہ کر رہی تھی اس کی آواز اِس پر نور ماحول کو راحت بخش رہی تھی۔

حارث مبہو ت سا اُسے سن رہا تھا اس نے سورۃ مکمل کی تو حارث اس کے پاس چلا آیا۔

”ماشاءاللہ! واہ بھٸی میری بہن کی آواز تو بہت پُرکشش ہے ویسے ایک بات ہے تم بالکل اس خوبصورت ماحول کا حصہ لگ رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“

حارث نے اس سے کہا۔

جس پر وہ مسکرا دی۔

”بھائی ہم اللہ کا کلام پڑھتے ہیں تو ہماری آواز خود باخود پُرکشش اور پیاری ہو جاتی ہے یہ کلام ایسا ہے کہ کوئی سنے یا اِسے پڑھے دل کو سکون ہی بخشتا ہے۔۔۔“ اس نے کہا۔

٭٭٭

”نور دیکھ کون آیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ شازیہ بیگم نور کو دیکھ خوشی سے بولی تھی۔

شازیہ بیگم کی نظروں کے تعاقب میں جب اس شخص نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ فورا اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا۔

جبکہ نور اس شخص کو دیکھ اپنے جگہ ساکت ہوئی تھی۔

”دیکھ نور میں کہتی تھی نا حاشر آئے گا دیکھ میرا حاشر آگیا تیرا باپ آگیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ شازیہ بیگم نے خوشی سے نم آواز میں کہا۔

جس پر سب کی ہی متفکر نظر نور پر ٹھہری تھی۔

جب کہ نور کی آنکھوں سے ایک موتی اس کے رخساروں سے لڑکھڑاتا ہوا زمین بوس ہوا تھا۔

حاشر صاحب نے نور کی طرف بڑھنا چاہا جب نور نے ہاتھ کھڑا کرتے وہیں روکا تھا جس پر انہوں نے بے بسی سے نور کو دیکھا اور نور کے چہرے پہ استہزائیہ مسکراہٹ آئی تھی۔

”دادی آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے صرف آپ کا بیٹا آیا ہے میرا باپ نہیں میں تو بہت سال پہلے یتیم ہو گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ نور نے خود پر ضبط کیے سپاٹ لہجے میں کہا۔

نور کے الفاظ تھے یہ کھ نجڑ حاشر صاحب کا سینہ چیڑ گئے۔ جبکہ اس کی بات پر سب اپنی جگہ ٹھہر سے گئے تھے۔

نور ایک نظر سب کو دیکھتے اپنے کمرے کی طرف بڑی تھی جب اسفند نے اسے پکارا تھا۔

” نور !۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“

”اسفند نے ابھی کسی سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتی مجھے کوئی ڈسٹرب نہ کرے پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Khail by Sana Sadia Complete novel

  • by

ایک دو سال سے شرجیل کو یہ بات پتہ لگی ہے اور اب وہ بھی ان کے ساتھ پورا پورا ملوث ہے اور میرا خیال ہے کہ آیاس صاحب کچھ عرصے بعد یہ سارا سمگلنگ کا کام شرجیل کے ذمے کر دیں گے

اور تمہیں کیا پتہ لگا کہ ہمیں انفارمیشن کون دے رہا ہے؟

ہاں سنا مطلب پیچھے جو ویڈیوز وغیرہ تمہیں ملی ہیں اور جو ڈیٹیل تھی ساری سمگلنگ کی

ہاں تھوڑا بہت شک ہے جن کے ساتھ یہ سمگلنگ کرتے ہیں ان میں سے کوئی آدمی ہے کیونکہ نہ صرف انفارمیشن آیاس صاحب کی ملی ہیں بلکہ دوسری سائیڈ کی بھی کافی انفارمیشن ملتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ انفارمیشن دینے والا ایک نہیں کافی ہوں ایسا بھی تو ہو سکتا ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سمگلر کا کوئی قریبی ہی انفارمیشن دے رہا ہو ان کے ساتھ یہ ڈیلز فائنل کرتے ہیں اسی کے پاس آیاس صاحب کی بھی انفارمیشن ہو سکتی ہے اور جن کے ساتھ یہ ڈیل کر رہے ہیں ان کی بھی

کیا تمہیں ان کا نام نہیں پتہ لگا ابھی تک کافی سمگلرز کا پتہ لگا ہے مگر جو اس بندے کو چلا رہا ہے یا ان کا لیڈر کہہ سکتے ہو اس کا بھی نہیں پتہ

***************