Skip to content
Home » Islamic based Novels » Page 4

Islamic based Novels

Ehd e intezar (Part 1 of hiyat beismik) by Bint e Aijaz Complete novel

  • by

“خدا کرے تجھے بھی محبّت تڑپاۓ

تیری سانسوں میں میرا نام آۓ

تیری دھڑکن کو میری صدا آۓ

تیری نظر میں اک حجاب آۓ

اس حجاب میں جھکی وہ پلکیں یاد آئیں

جو قدم تونے موڑ لیے…

ان قدموں کو دیکھ تو روز پچھتاۓ

خدا کرے تجھے بھی محبّت ترپاۓ

تو لوٹ کر پھر اس نگر میں جائے

وہ خالی میدان دیکھ تو چیخے چلاۓ

میری خاموشی میں چھپی میری ہسی تجھے یاد آۓ

تو بن چاہے لوٹ آۓ… بس ایک بار لوٹ آۓ

خدا کرے میری طرح تجھے میری محبّت ترپاۓ”

(بنتِ اعجاز)

Dost man by Biya Turk Novels Complete novel

  • by

تم چائے کو انکار کر رہی ہو۔۔۔۔۔

آیت نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔۔۔۔

دل بھر گیا ہے ہر چیز سے بس کچھ یاد ہے تو کاشان اور اس کی باتیں۔۔۔۔۔

آیت اس نے کہا میں پہلی لڑکی ہوں جس سے اس نے بات کی وہ کتنا پاک ہے آیت۔۔۔۔۔

اور پتہ ہے وہ مجھ سے بھی بات نہیں کر رہا تھا میں نے اس کو مجبور کیا مجھ سے بات کرنے کے لیے۔۔۔۔۔

ہاں سر کاشان بہت اچھے ہیں تم نے دیکھا ہے نا وہ کلاس میں پڑھاتے وقت بھی گرلز کو نہیں دیکھتے۔۔۔۔۔۔

میں کیسے اس شخص کا دل دکھا سکتی ہوں آیت۔۔۔۔۔

یہ باتیں سوچ سوچ کر میرا سر پھٹ رہا ہے۔۔۔۔۔۔

اب تم نے نہیں رونا عنو۔۔۔۔۔

صبح کالج جا کر تم سر سے معافی مانگو ۔۔۔۔۔

سب ٹھیک ہو جائے گا انشاءاللہ۔۔۔۔

انشاءاللہ ۔۔۔۔ جتنا آسان عنایہ کو لگ رہا تھا شاید اتنا آسان نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔

Dushman e nafs by Saira Ramzan Complete novel download pdf

  • by

زایان تمیں چاہیے کہ تم اس سے آج اظہارِ محبت کر دو آخر کب تک اسے انجان رکھو گے ۔کیا تم یک طرفہ محبت کرنا چاہتے ہو۔۔ فلک اور عشوانی حال کے سائیڈ ایئریا پر کب سے اسے سمجھائے جا رہی تھی کہ آج وہ اپنے جذباتوں کو محالفہ کے سامنے بیان کرے کہ وہ اس کے لیے کیا محسوس کرتا ہے۔۔

تم دونوں سمجھ نہیں رہی میں فی الحال ایسا نہیں کر سکتا!! اس نے چڑ کر کہا تھا.۔۔

کیوں نہیں کر سکتے کب بتاؤ گے اسے جب وہ کسی اور کی ہو جائے گی؟؟

نہیں ہوگی وہ کسی اور کی وہ میری ہوگی بلکہ وہ میری ہی ہے۔۔

عشوانی کی بات کاٹتے اس نے جیسے خود کو بھی یقین دہانی کروائی تھی۔

دیکھئے زایان بھائی آپ کو دیر نہیں کرنی چاہیئے ایسے معاملات میں دیری اچھی نہیں لگتی۔

فلک نے نرم لہجہ اختیار کیا۔

مجھے ڈر لگتا ہے کہ اگر اس نے انکار کر دیا تو میں اس کے انکار کے ساتھ کیسے جی پاؤں گا؟؟

زایان اب رو دینے کو تھا ۔

نہیں ایسا نہیں ہوگا آپ ایک بار ٹرائی تو کریں فلک کے کہنے پر اس نے ہاں میں گردن ہلائی مگر اس کا ڈر قائم تھا وہ پچھتانا نہیں چاہتا تھا وہ اسے بتانا چاہتا تھا کہ وہ اس جنون کی حد تک عشق کرتا ہے وہ عشق میں تڑپتا ہے دن رات اس کے ساتھ خواب سجاتا ہے وہ اس کے دل و دماغ پر حاوی ہونے لگی ہے اور وہ اسے آج یہ سب بتا دینے کا ارادہ رکھتا تھا آر یا پار ۔۔ وہ اس کے انکار کو سننے کے بعد دوبارہ جی پائے گا یا نہیں وہ سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا وہ ان کے ساتھ گارڈن ایریا میں انٹر ہوا۔ عشوانی اور فلک اس کی جانب بڑھ گئے مگر محالفہ نے ابھی تک اسے نہیں دیکھا تھا۔۔

Alhamd se Wannass by Umaima Shafeeq Qureshi complete novel

  • by

یہ کہانی ہے مختلف کرداروں کی

ایک ایسی لڑکی کی جو منطقی باتوں پر یقین رکھتی ہے

جسے آخرت،جنات اور فرشتوں پر یقین نہیں….

ایک ایسے شخص کی جس نے اپنا مذہب تبدیل کر لیا ہے

یہ کہانی ہے ایک معصوم اپسرا کی

اور ایک ایسے شخص کی جس کی ذہانت کا کوئی جواب نہیں…. یہ کہانی ہے الحمد سے والناس تک کے سفر کی

Dilon ki dastan by Fatima Noor Complete novel

  • by

صبح کا ٹائم تھا۔سب اٹھ گئے تھے۔۔انہیں کب سے گیس کی بدبو آ رہی تھی۔۔ریان نے کچن میں جا کر چیک کیا تو گیس لیک ہو رہی تھی۔۔اسے گڈبڑ لگی۔۔کچھ عجیب سا ہوا۔۔اچانک سے اس کے دماغ میں کچھ کلک ہوا۔۔

باہر نکلو سب جلدی جلدی۔۔”ریان لاؤنج میں آ کر چلایا۔۔

کیوں بھائی۔۔”شیراز نے پوچھا۔۔

ٹائم نہیں ہے بتانے کا۔نکلو۔۔”وہ سب بوکھلا کر لاؤنج سے باہر نکلے۔۔

شیراز ان سب کو گھر سے دور لے کر چلو۔۔” ریان کے کہنے پر وہ سب مین گیٹ سے باہر نکلے اور اریب حمید بابا کو لیتا مین گیٹ پار کر گیا۔۔

سب آ گئے ہیں۔۔” ریان نے باہر نکل کر پوچھا۔

نہیں ماما اندر ہے وہ آرام کر رہی تھی۔۔”عائشہ آگے بڑھ کر بولی۔۔

کیا۔۔ریان اس سے پہلے واپس مڑتا کہ اک زوردار دھماکہ ہوا۔۔ان کا آشیانہ بکھر گیا۔۔اور آگ نے پورے گھر کر لیپیٹ میں لے لیا۔۔

چاچی جان۔۔”۔ ریان چیخا۔۔

قندیل اور عائشہ ساکت نظروں سے سامنے کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔وہ آج صیح معانوں میں یتیم ہوئی تھی۔۔وہ ہوش میں آتی گھر کی طرف بھاگی۔۔شیراز نے قندیل اور ماہ بیر نے عائشہ کو پکڑا۔۔

ماما ہماری ماما۔وہ چلی گئی۔”دونوں روتے ہوئے بولی اور زمین پر بیٹھ گئی۔۔ایمن نے شہرام اور ہیر نے ملائکہ کو پکڑا ہوا تھا۔۔وہ سب رو رہے تھے اپنے اس نقصان پر۔

سب کی آنکھوں میں سعدیہ بیگم کے ساتھ گزرے لمحے گزر رہے تھے۔۔ہیر کی نفرت میں اور اضافہ ہو گیا تھا شہیر ملک کے لیے۔۔

Momin ki momina novel by Bint e Mehrban

  • by

(“اپنی ادا دیکھا کر خراب کر کے ابن آدم کو تو

اے بنت حوا!!!!

تو کہتی ہے ابن آدم خراب ہے”)

♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡

(“زندگی خراب کر کے بنت حوا کی

اے ابن آدم!!!

“خیال رکھ ایک بنت حوا گھر تیرے بھی ہے”)

Ashkon ke moti novel by Aqsa Ali

  • by

یہ کہانی ہے صحبتوں کے اثرات کی..

محبت کی، دھوکے کی، آنسوں کی..

یہ کہانی ہے دوستوں پر اندھا اعتبار کرنے والی کی..

اعتبار کے کرچی کرچی ہونے کی..

اپنوں کی محبت کو بھول جانے والوں کی..

کہانی ہے دُنیا کے تعلق سے خُدا کے تعلق تک کی..

بے پردے سے پردے تک کے سفر کی..

کہانی ہے ماں جایو کی محبّت کی..

لوگوں کے اصل چہروں کی..

کہانی ہے اللّٰہ پر توکّل رکھنے والے ایک لڑکے کی..

لوگوں کی صحبت میں خُدا کو بھول جانے والی لڑکی کی..

کہانی ہے اپنوں کے ہاتھوں رُسوا ہونے والی ایک اور لڑکی کی..

پردے سے عشق کرنے والے ایک اور لڑکے کی..

یک طرفہ محبّت کی، عشقِ حقیقی کی،ادھُوری محبّت کی..

کہانی ہے موتی کی صورت بہنے والے قیمتی اشکوں کی..

اشکوں کے موتی۔۔۔از قلم اقصٰی خان

Apne man mein doob kar pa ja suragh e zindagi novel by Jaweria Bint e Zubair

دادی جان مجھے تو یہ سب کا بدلہ رویہ سمجھ میں نہیں آ رہا؟

ماہی اداسی سے بولی۔

٫٫بیٹا ہم جب اللّٰہ کی راہ اختیار کرتے ہیں تو بظاہر کوئی مشکل اور رکاوٹ نظر نہیں آتی۔ ہم اسے بہت آسان سمجھتے ہیں مگر بعد میں سب اپنے لوگ بھی منہ پھیر لیتے ہیں کہ انسان کا دل چھلنی ہو جاتا ہے۔ صبر کرو اللّٰہ کی راہ میں آزمائش ضرور ہوتی ہے۔ مگر اسکا اجرو انعام بھی اتنا بڑا ہے صبر کرو،،

وہ پیر پٹختی ہوئی اندر کی طرف چل دی۔

اس نے سرمئی گھٹنوں تک آتی قمیض پہنی اور گاڑی میں ڈرائیور کے پیچھے جاکر بیٹھ گئی ڈرائیور نے اسے صادام کے گھر چھوڑا۔

وہ گھر کے اندر داخل ہوئی۔ گھر میں خاموشی تھی۔

تم مجھ سے کتنی محبت کرتے ہو صادام؟

ڈرائنگ روم سے نسوانی آواز آئی۔ وہ آواز سن کر اسکا دل دھڑکا۔

وہ ڈرائنگ روم کے دروازے کی اوٹ میں کھڑی ہو گئی۔ اسے صادام کے جواب کا انتظار تھا۔

٫٫ بے انتہا،،

صادام کے جواب پر اسکا دل چھن سے ٹوٹا۔

اس نے کمرے میں جھانکا نوجوان لڑکی مغربی طرز کے کپڑے پہنے صادام کے ساتھ بیٹھی تھی۔

واہ!صادام واہ! وہ کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولی۔

اسکی آنکھوں سے دو آنسو نکل کر گال پر پھسل گئے۔

یہ کون ہے بےبی؟

لڑکی نے سوال داغا۔

یہ کیا بتائے گا میں خود بتاتی ہوں۔وہ دو قدم آگے بڑھی۔

میں اسکی منگیتر ہوں جسے ابھی کل یہ اپنے نام کی انگوٹھی پہنا کر آیا ہے۔ وہ دکھ سے بولی پھر اس نے صادام کی طرف رخ کیا اور بولی

٫٫تمہیں پتا ہے جیسا مرد ہوتا ہے اسے ویسی عورت ملتی ہے۔ تمہیں پتا ہے تم اسی کو ڈیزرو کرتے ہو۔ اس نے انگوٹھی اتار کر اسکے منہ پر ماری اور فوراً وہاں سے نکل گئی۔

***

آج صادام کے گھر کیا ہوا تھا؟

اس کے ڈیڈ نے سوال کیا۔

بابا وہاں ایک لڑکی تھی اس نے اتنا کہا تھا کہ اسکی آنکھوں میں آنسو آ گئے وہ مزید کچھ کہتی اس سے پہلے اسکی امی بول اٹھیں

وہ اسکی دوست تھی۔

مما وہ غلط بات کر رہی تھی جو چیز میری ہے وہ صرف میری ہے۔ میں ماہجبین شاہ ہوں میں چیزیں بانٹنا نہیں جانتی وہ چلائی۔

اپنی آواز نیچی رکھ کر بات کرو اسکے ڈیڈ غصے سے بولے۔

تمہارے بھی تو لڑکے دوست تھے صادام نے تو کبھی کچھ نہیں کہا اسکی امی نے طنز کیا۔

تم انگوٹھی اتارنے کا مطلب سمجھتی ہو نہ رشتہ توڑنے کے مترادف ہوتا ہے اسکی امی غصے سے بولیں۔

٫٫تمہارا نکاح صرف صادام سے ہوگا،،

***

رک جائیں قاضی صاحب۔

ہال میں آواز گونجی۔ پولیس انسپکٹر اپنے حوالداروں کے ساتھ ہال میں داخل ہوا۔

سب پولیس انسپکٹر کی طرف دیکھنے لگے۔

زین شاہ آگے بڑھے

یہ کونسا طریقہ ہے کسی کے ذاتی فنکشن میں گھسنے کا وہ غصے سے بولے۔

ہمارے پاس صادام اکبر کے گرفتاری کا وارنٹ ہے صادام اکبر کو اسمگلنگ کے جرم میں گرفتار کیا جاتاہے۔

انسپکٹر نے کہا۔ ایک حولدار صادام کو ہتھکڑی پہنا رہا تھا۔ جبکہ اسکی امی چلا رہی تھی۔ ماہجبین حیرانی سے یہ سارا تماشا دیکھ رہی تھی۔ پولیس صادام کو گرفتار کرکے لی جا چکی تھی۔

زین بھائی میرے بیٹے پر الزام لگا ہے۔ یہ کسی کی سازش ہے پلیز آپ کچھ کریں صادام کی امی روتے ہوئے بولیں۔ کچھ کرتے ہیں وہ سر ہلاتے ہوئے بولے۔

Namehram novel by Umme Ibrar

یہ اسلامک ناول ہے جسے معاشرے میں ٹرینڈنگ کرتے ایک ٹاپک ” اٹریکشن” پر لکھا گیا ہے
کہانی کا اصلی کردار نور جو اسی بیماری شکار ہوتی ہے اور وہ گہرائی میں گرتی ہے اور پھر اس کا انجام بتایا گیا ہے