Yadon se agay by Ayesha Saddiqa Download pdf
Yadon se agay by Ayesha Saddiqa Download pdf is a beautifully written social romantic Urdu novel that captures the essence of love, emotions, and family values. Blending fictional storytelling with inspirations from real-life events and celebrated Urdu authors, this novel offers a compelling look at relationships, sacrifice, and the realities of our society.
At Ez Reader’s Choice Novels, you can find this novel available in multiple formats:
New Episode
Summary About
Short Sneak Peak Of Story
> “آج ڈائری میں اذلان کا نام نہیں لکھنا۔”
چوتھا دن:
> “آج آئینے میں دیکھ کر اپنے بارے میں ایک اچھی بات لکھنی ہے۔ جھوٹ بھی چلے گا، شروع میں انسان کو خود سے بھی پریکٹس کرنی پڑتی ہے۔”
ماہ نور ہر ٹاسک مکمل نہیں کر پاتی تھی۔کبھی فیل ہو جاتی۔کبھی دوبارہ اذلان کی چیٹ پڑھ لیتی۔کبھی اس کا نمبر ان بلاک کرنے کا دل کرتا۔
مگر ہر بار حیدر یہی کہتا:
“ایک برا دن تمہاری ساری پراگرس ختم نہیں کرتا۔ یہ ہیلنگ ہے، بورڈ ایگزام نہیں کہ ایک غلط جواب پر رزلٹ خراب ہو جائے۔”
دعا ہر روز اسے یاد دلاتی:
“تم واپس آ رہی ہو۔ آہستہ، مگر آ رہی ہو۔”
—
پھر ایک شام اذلان دوبارہ آیا۔
اس بار میسج نہیں کیا بلکہ وہ سیدھا کیفے آیا۔
ماہ نور، دعا اور حیدر کارنر ٹیبل پر بیٹھے تھے۔ ماہ نور ڈائری میں کچھ لکھ رہی تھی۔ حیدر کاؤنٹر پر کھڑا کپ صاف کر رہا تھا، حالانکہ وہ کپ پہلے ہی صاف تھا۔ کچھ لوگ ٹینشن میں بھی کام کرنے کا ڈرامہ کرتے ہیں، سویلائزیشن اسی پر چل رہی ہے۔
دروازہ کھلا۔اذلان اندر داخل ہوا۔ماہ نور کا ہاتھ رک گیا۔دعا فوراً سیدھی بیٹھ گئی۔حیدر نے کپ کاؤئنٹر پر رکھا، مگر کچھ نہیں بولا۔
اذلان آہستہ آہستہ ماہ نور کی میز تک آیا۔
“ماہ نور، بات کرنی ہے۔”
ماہ نور کا دل زور سے دھڑک رہا تھا۔پرانا درد پھر واپس آیا۔پرانی محبت بھی۔اور وہی پرانی کمزوری۔مگر اس بار اس نے خود کو اکیلا محسوس نہیں کیا۔
دعا اس کے ساتھ تھی۔حیدر قریب تھا۔
اور سب سے ضروری، ماہ نور خود وہاں تھی۔
ماہ نور نے آہستہ سے کہا:
“یہیں کہو۔”
اذلان نے حیدر کی طرف دیکھا، پھر دعا کی طرف۔
“پرائیویٹ بات ہے۔”
ماہ نور نے پہلی بار صاف آواز میں کہا:
“جو بات مجھے توڑ کر کہی گئی تھی، وہ اب مجھے چھپا کر نہیں سننی۔”
اذلان خاموش ہو گیا۔
حیدر نے نظریں جھکا لیں، جیسے وہ یہ لمحہ ماہ نور کا رہنے دینا چاہتا ہو۔
اذلان نے گہری سانس لی۔
“میں واپس آنا چاہتا ہوں۔”
ماہ نور کا دل ایک لمحے کے لیے رک سا گیا۔
یہی وہ جملہ تھا جس کا وہ کبھی انتظار کرتی تھی۔
مہینوں تک۔
راتوں تک۔
ہر نوٹیفیکیشن پر۔
ہر دعا میں۔
مگر عجیب بات تھی۔
جب وہ جملہ آخرکار آیا، تو اسے خوشی نہیں ہوئی۔بس تھکن محسوس ہوئی۔
ماہ نور نے پوچھا:
“کیوں؟”
اذلان نے حیرانی سے اسے دیکھا۔
“کیونکہ میں تمہیں مس کرتا ہوں۔”
ماہ نور نے ہلکی سی تلخ مسکراہٹ کے ساتھ کہا:
“جب میں ٹوٹ رہی تھی، تب؟”
اذلان نے نظریں چرا لیں۔
“میں کنفیوزڈ تھا۔”
“اور میں؟” ماہ نور کی آواز کانپی، مگر ٹوٹی نہیں۔ “میں کیا تھی، اذلان؟ انتظار کرنے والی چیز؟ آپشن؟ یا وہ انسان جو ہمیشہ سمجھ جائے؟”
اذلان نے فوراً کہا:
“تم بات کو بڑھا رہی ہو۔”
ماہ نور نے آنکھیں بند کیں۔
یہی جملہ۔پہلے وہ یہ سن کر خاموش ہو جاتی تھی۔مگر آج نہیں۔
اس نے آنکھیں کھولیں۔
“نہیں۔ میں پہلی بار بات کو اس کے اصل نام سے پکار رہی ہوں۔”
کیفے میں خاموشی چھا گئی۔
اذلان نے آہستہ سے کہا:
“تو بس؟ سب ختم؟”
ماہ نور کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
“نہیں۔ سب ختم نہیں۔ میں ختم نہیں۔ یہی تو پہلی بار سمجھ آیا ہے۔”
اذلان نے کچھ کہنا چاہا، مگر ماہ نور نے ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا۔
“میں نے تم سے بہت محبت کی تھی۔ اتنی کہ خود کو بھول گئی۔ تمہارے ایک میسج سے میرا دن بنتا تھا، تمہاری خاموشی سے میری رات برباد ہو جاتی تھی۔ میں نے تمہیں کبھی برا نہیں چاہا۔ آج بھی نہیں چاہتی۔”وہ رکی۔اس کی آواز نرم ہو گئی۔
“مگر میں اب واپس وہاں نہیں جا سکتی جہاں میری عزت، میرا سکون اور میری پہچان کھو گئی تھی۔”
اذلان کی آنکھوں میں پہلی بار پچھتاوہ دکھائی دیا۔
“ماہ نور…”
ماہ نور نے آہستہ سے کہا:
“مجھے تم سے نفرت نہیں ہے۔ بس اب میں خود سے محبت سیکھ رہی ہوں۔ اور اس میں تمہاری جگہ نہیں بنتی۔”یہ کہتے ہوئے اس کا دل ٹوٹا۔مگر اس بار وہ ٹوٹ کر بکھری نہیں۔وہ سیدھی بیٹھی رہی۔
اذلان کچھ دیر اسے دیکھتا رہا، پھر چپ چاپ کیفے سے باہر نکل گیا۔
دروازہ بند ہوا۔
ماہ نور کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
دعا نے فوراً اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
حیدر آہستہ سے اس کے سامنے چائے رکھ گیا۔
“آج والی چائے فری ہے۔”
ماہ نور نے آنسوؤں میں مسکرانے کی کوشش کی۔
“کیوں؟”
حیدر نے کہا:
“کیونکہ آج تم نے خود کو واپس خرید لیا۔ کافی مہنگا سودا تھا، مگرورتھ اٹ۔”
ماہ نور رو بھی رہی تھی، ہنس بھی رہی تھی۔
اور شاید یہی ہیلنگ تھی۔
درد بھی موجود۔
مسکراہٹ بھی موجود۔
مگر اس بار وہ زندہ تھی۔
****************
Discover the Voice of Stories – Likhari YouTube Channel
Welcome to Likhari – a soulful space where Urdu stories are not just told, but felt. If you’re someone who loves getting lost in tales of love, longing, heartbreak, and hope, our YouTube channel is made for you.
🎙️ What Is Likhari?
Likhari is more than just narration — it’s an experience. We bring emotional, thought-provoking, and captivating Urdu novels and afsanay to life through expressive storytelling and heart-touching voiceovers. Whether it’s a romantic episode or a story rooted in social reality, each video is created to connect with your heart.
Channel Link ; Likhari Online Magazine Channel
All Novels List Link ( YouTube ) ; YouTube Novels List
“Enjoyed This Novel? Discover More Stories Like It”
- Professor Khan ( Season 2 Professor Shah) by Zanoor Writes Complete PDF
- Tere ishq mein kya maine paya by Syeda Sehar Syedzadi Complete novel download pdf
- Dar e ishq per by Syeda Sehar Syed Zaadi Complete novel pdf
- “If This Novel Captivated You, Try These Reads”
- “Looking for More Like This? Explore Similar Stories”
📝 Are You an Urdu Writer?
اگر آپ ایک اردو لکھاری ہیں تو اپنی تحریر آج ہی ہمیں بھیجیں۔
ہماری ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر آپ کی تحریر کو نمایاں کیا جائے گا۔
📌 Connect with us:
Instagram: ezreaderschoice_likharichannel
TikTok ID ; likhari.magazine
Email address: [email protected]
How to Download Novels from Ez Reader’s Choice Novels
“Several readers have asked how to download novels from our website. Here’s a simple guide to help you.” Just follow these simple steps:
- Choose Your Novel
- Visit the novel page and click on the link for the novel you wish to download.
- Select Download Option
- You’ll see two options: Download and Read Online. To download, simply click on the Download button.
- Download Your Novel
- “Click on the novel name to be redirected to a new page, where you’ll find the MediaFire link to download the novel.”.
That’s it! Now you can enjoy your novel anytime, anywhere.
