Wafa-e-yaar by Maria Farooqi Complete novel download pdf
AFTER MARRIAGE STORY,FORCED MARRIAGE, HAWELI BASE NOVEL,RUDE HERO BASE NOVELS
Wafa-e-yaar by Maria Farooqi Complete novel download pdf . This is social romantic Urdu novel based on fiction and some of them are true stories or inspired by the celebrated authors . Urdu literature stories revolves around the love story or social family issues . , Complete Novel PDF , Long stories PDF , Episodes Novels PDF are part of this .
“Explore a captivating collection of social and romantic Urdu novels, including fiction, true stories, and works inspired by celebrated authors. Delve into compelling narratives revolving around love stories and social family issues. Download complete novels in PDF format, along with long stories and episodic novels.”
“Discover a captivating world of Urdu literature! Explore a vast collection of novels, short stories, and poetry on Readers Choice . Find your next favorite read, connect with fellow book lovers, and immerse yourself in the rich tapestry of Urdu storytelling.”
“Discover hidden gems and celebrated authors in the world of Urdu literature. Readers Choice features a diverse selection of novels, showcasing both established and emerging writers. Dive into the rich literary heritage of Urdu and find your next favorite read.”
“Join the Readers Choice community of Urdu literature enthusiasts! Read online, discuss your favorite novels, discover new authors, and connect with other passionate readers. Your journey into the world of Urdu literature starts here.”
Respected Writers:
اگر آپ ایک لکھاری ہیں اور ان کرداروں کو بخوبی لکھ سکتے ہیں ہوئے اپنی صلاحیت کو بھی اجاگر کریں
آج ہی ہمیں اپنی تحریر ارسال کریں جس کو ہم ایک ہفتے کے اندر اپنی ویب سائیٹ اور دیگر سوشل میڈیا گروپ میں
شامل کر یں گے ۔
مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔
واٹس ایپ نمبر کے لیے ابھی میل کیجئے
Email address: [email protected]
کوئی تو بات ہوئی ہے
” پتہ نہیں کیا ہے….. ” وہ سر کو جنبش دیتی باہر نکلی وہ بھی اس کے پیچھے بھاگا….. جبکہ ائتل دم کشیدم کی مورتی بنی کمرے کو گھورتی رہ گئی.
” تحریم کسی سے کچھ نہ کہنا ایسے ہی سب پریشان ہوں گے امی سوال کریں گی اور تمہیں پتہ ہے اسے کوفت آتی ہے سوالات سے پھر اس کے غصیلے انداز سے امی کا دل دکھتا ہے فائدہ ایسے گھر کا ماحول خراب کرنے کا مما بابا پاکستان آ رہے ہیں امی بہت خوش ہیں تو تم بھی پلیز……. میری بات سمجھ رہی ہو نا….. ” صنابل اس کے سامنے رک کر اسے سمجھاتے انداز میں بولا.
” ہمممم نہیں کہہ رہی کچھ اور ویسے بھی میں بھابھی سے پوچھ لوں گی انہوں نے کل بھی بتایا تھا کہ بھائی ناراض ہے وجہ بھی بتا دے گی…. ” وہ مسکرا کر کہہ کر چل دی.
” کچھ تو گڑبڑ ہے کوئی تو بات ہوئی ہے مجھے تامیر سے بات کرنی ہو گی ایک تو جب اسکا موڈ آف ہوتا ہے کلب چلا جاتا ہے اور وہاں پھیپھڑے سلگھا رہا ہو گا اپنے….. ” صنابل نے ماتھا سکیڑتے سوچا اور نیچے کی طرف چل دیا.
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مجھے کیوں نخرے دیکھا رہا ہے
” روٹھی ہوئی بیوی کی طرح کیوں سلوک کر رہا ہے؟ ” وہ اس کے سامنے کالے رنگ کے سٹول پر بیٹھ کر بولا.
” فضول گوئی کے علاوہ کچھ آتا ہے؟” وہ اکھڑے لہجے میں ڈمبل زمین پر رکھ کر بولا.
” یار بیوی تیری تجھ سے ناراض ہے میرا کیا قصور ہے تو مجھے کیوں نخرے دیکھا رہا ہے؟ ” صنابل مدعے پر ا کر بولا.
” میں کس لیے نخرے دکھاؤں گا تجھے؟” وہ ترچھی آنکھ سے دیکھ کر پانی کی بوتل منہ کو لگا گیا.
” یار ایسا کیا ہوا ہے کہ وہ گھر چھوڑ کر جانا چاہتی ہیں اور مجبوراً دو دن کے لیے رکی ہیں جیسے انہوں نے تجھے کہا ہے بس دو دن رکے گی اور تم نے شرافت سے جو سر جھکا لیا ہے مجھے کچھ گڑبڑ لگ رہی ہے……” صنابل ائتل کی بات سن چکا تھا اس لیے اس نے تامیر سے پوچھا…… تامیر کی آنکھوں میں موجود سرخی اور لہجے میں آیا یہ کھچاؤ صنابل کو اصلی بات کی طرف لے آیا.
” میں نے اس سے کہا میں تمہارے ساتھ نہیں رہنا چاہتا….. ” وہ آرام دہ لہجے میں بولا.
” توں ایسا نہیں کہہ سکتا……. ”
وہ ایک دم سنجیدگی سے کھڑا ہوتا ہوا بولا.
” کیوں میں کیوں نہیں کہہ سکتا؟” وہ رننگ مشین پر کھڑا ہوا.
” کیونکہ توں ان سے محبت کرتا ہے….” صنابل سکتے بھرے انداز میں بولا.
” تمہیں کس نے کہا مجھے اس سے محبت ہے؟” وہ رننگ سٹارٹ کرتا ہوا بولا.
” تیری آنکھوں نے تیرے اس درد نے جب وہ مل نہیں رہی تھیں تو تیرے اس پاگل پن نے….. جب انہیں ہوش نہیں آرہا تھا تب جو تیرے چہرے پر تھا ان کے ہوش آ جانے پر انہیں یوں تکلیف میں دیکھ کر توں جو فرضی غصہ دکھا رہا تھا اور اس کے پیچھے تیرا جو زخمی چہرہ تھا نا ان کے پل پل کی فکر….. وہ تڑپ…….اور وہ لگاؤ…..پھر وہ بلڈ کے لیے اپنی بازوں ڈاکٹر کے ہاتھ میں تھاما دینا….. سب چینخ چینخ کر تیرے اندر کا حال بیان کر رہے تھے….” وہ اضطراب کی سی حالت میں بولا.
” میں کسی کے لیے بھی بلڈ دے سکتا تھا… ” وہ رننگ مشین کو فاسٹ کرتا ہوا بولا.
صنابل نے مشین کو بند کیا اور اسکی بازو کھینچ کر اسے نیچے اتارا.
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
بات دل کو لگی تھی
” ائتل جاؤ…. چیک کرواؤ ڈاکٹر کو کیا کہتا ہے……” ساتھ بیٹھی حورین نے مسکرا کر کہا تو وہ حال میں لوٹی وہ ایسے پلکے جامد کیے اس شخص کو دیکھ رہی تھی جیسے وہ اس دیدار کے لیے ہمیشہ ترستی رہی ہے……..
” میں ٹھیک ہوں درد بھی نہیں ہے اور ہڈی ٹوٹی ہے ٹوٹنے کےزخم جلد کہاں بھرتے ہیں….. انسان ختم ہو جاتا ہے مگر زخم ان سے خون رستا ہی رہتا ہے……” اس نے تامیر کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ کھینچ کر ایک کانٹ دار لہجے میں کہا جس کی بات اس سامنے کھڑے وائٹ شرٹ اور بلیک ڈیمنم والے لڑکے کے دل کو لگی تھی…… مگر وہ مضبوط انا پرست کہاں ڈھ جانے والا تھا.
” ائتل طبیب کے پاس مرض کا علاج ہوتا ہے لیکن شرط یہ ہے مریض طبیب کے پاس جائے…. اٹھو…..” اور ہلکا سا جھکا اس کی آنکھوں میں دیکھتے اُس نے ایک ہاتھ سے اسکا ہاتھ تھاما اور دوسرے ہاتھ سے اسکا کندھا تھام کر اسکو کھڑا کیا. ایک لمحے کے لیے آنکھوں کا تعاقب ہوا تبھی وہ اسکو آہستہ سے چلاتا ہوا باہر لے آیا.
” میں ٹھیک ہوں…… ” وہ منہ دوسری جانب کرتے ہوئے بولی.
” میں جانتا ہوں.” وہ اس کے سامنے آتے چہرے پر اسکے پڑتے بال پیچھے کرتے ہوئے بولا. اسکی اس حرکت کو دیکھ کر وہ دانت پستی اندر کیطرف بڑھی تبھی وہ اسکا ہاتھ تھام گیا.
**
” میرا گناہ بڑا ہے میں جانتا ہوں
معافی ملنا بھی مشکل ہے یہ بھی جانتا ہوں مگر مجھے کوشش کرنے کا حق ملنا چاہیے ہے…….میں اتنا حق رکھتا ہوں….” وہ سر جھکا کر بولا وہ شخص جو بات بھی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کرتا ہو اسکا جھکا سر دیکھ کر اس کے دل کو کچھ ہوا تھا مگر وہ کہی گئی ساری باتیں وہ کب بھولی شجا سکتی تھیں.
” آپ نے کوئی گناہ نہیں کیا اور نہ اپکو شرمندہ ہونے کی ضرورت ہے میری آپکی شادی ہماری مرضی سے نہیں ہوئی میں آپ کے سر پر کسی عذاب کی طرح نازل کی گئی تھی آپ کی زندگی میں کوئی اور ہو سکتی ہے میں اس بات کی شکایت کر ہی نہیں سکتی بس دکھ رہے گا کہ کاش پہلے علم ہو جاتا تو اس گھر تک کا سفر کبھی طے نہ کرتی…. ” وہ اپنا ہاتھ چھڑوا کر اندر کی طرف چل دی تھی اور وہ دیکھتا ہی رہ گیا تھا اسکا ٹوٹا ہوا لہجہ اسکے دل پہ لگا تھا وہ واقعی میں ٹوٹ گئی تھی…..
Click the link below to download this novel in pdf.
Download Link
Wafa-e-yaar by Maria Farooqi Online Reading
How to download Novels
- How to download Novels. Some of readers asked us how to download these novels from this website. Well We are helping you to download your required novels. Kindly follow the steps.
- First of all , Click on the link which you want to download from the site , then the novel will be opened
- As you can see there are two options Download , Read Online, then click on the Download link ( any option from them) if you want to download.
- An add will appear on your screen then wait for 5 Seconds, on your right side you will see skip ad option click on skip ad or in some adds it will ask you to either block or allow then click on Block option
- After that you will see another page that is your media fire link from where you can download your novel
- Same method is applied for all the ads and for Read online , location of the skip add might be different but process is same but if you feel any difficulty then let us know in the comments.
- If you have problem in download please click this Below link
How to download novels and books in pdf ?
- If you have problem in download please click this Below link
