Ikhtitam se Aaghaz by Mirza Nigar Saif Download pdf – A Gripping Social Romantic Urdu Novel
Ikhtitam se Aaghaz by Mirza Nigar Saif Download pdf ] is a beautifully written social romantic Urdu novel that captures the essence of love, emotions, and family values. Blending fictional storytelling with inspirations from real-life events and celebrated Urdu authors, this novel offers a compelling look at relationships, sacrifice, and the realities of our society.
At Ez Reader’s Choice Novels, you can find this novel available in multiple formats:
Discover the Voice of Stories – Likhari YouTube Channel
Welcome to Likhari – a soulful space where Urdu stories are not just told, but felt. If you’re someone who loves getting lost in tales of love, longing, heartbreak, and hope, our YouTube channel is made for you.
🎙️ What Is Likhari?
Likhari is more than just narration — it’s an experience. We bring emotional, thought-provoking, and captivating Urdu novels and afsanay to life through expressive storytelling and heart-touching voiceovers. Whether it’s a romantic episode or a story rooted in social reality, each video is created to connect with your heart.
Channel Link ; Likhari Online Magazine Channel
All Novels List Link ( YouTube ) ; YouTube Novels List
Summary About
ناولٹ کا خلاصہ: اختتام سے آغاز
“اختتام سے آغاز” ایک ایسی فکر انگیز کہانی ہے جو وہیں سے شروع ہوتی ہے جہاں عام طور پر سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔ یہ ناولٹ میر مرجان کی زندگی کے گرد گھومتا ہے—ایک ایسا شخص جو دولت، انا اور نام نہاد جدیدیت کے نشے میں خدا اور اس کے احکامات سے بغاوت کر بیٹھتا ہے۔ سود، غیر اخلاقی محفلیں اور خود پسندی اس کے نزدیک ترقی کی علامت بن چکی ہوتی ہیں، جبکہ دین اور نصیحت اسے محض “بھاشن” محسوس ہوتے ہیں۔
کہانی اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ انسان جب اپنی خود پسندی میں ڈوب جائے تو وہ آہستہ آہستہ اپنوں اور خدا دونوں سے دور ہو جاتا ہے۔ ام ہانی، مرجان کی باحجاب، دیندار اور صابر شریکِ حیات، حق و صداقت کی علامت بن کر سامنے آتی ہے۔ وہ مرجان کو بار بار اندھیروں سے نکالنے کی کوشش کرتی ہے، مگر اس کی انا اسے گھر چھوڑنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ ہانی کا جانا دراصل مرجان کی زندگی میں ایک بڑے زوال کا آغاز ثابت ہوتا ہے۔
مرجان سود پر مبنی ایک ڈیل کے سلسلے میں بیرونِ ملک جاتا ہے، جہاں اسے دھوکا، اغوا، تشدد اور منشیات کے زہر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک اندھیرے تہہ خانے میں قید ہو کر وہ پہلی بار اپنی بے بسی کو پہچانتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اسے ام ہانی کے الفاظ یاد آتے ہیں اور وہ جان لیتا ہے کہ جس شخص کو وہ کمزور سمجھتا تھا، وہی اصل میں مضبوط تھا۔
کہانی کا آغاز ایک خواب سے ہوتا ہے، جس میں مرجان خود کو ایک گہری کھائی میں گرتا دیکھتا ہے، مگر عین آخری لمحے ایک منڈیر تھام لیتا ہے۔ یہی خواب اس کی زندگی کا استعارہ بن جاتا ہے۔ فجر کی اذان اس کے مردہ دل کو بیدار کرتی ہے اور وہ پہلی بار سچے دل سے اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہو کر توبہ کرتا ہے۔
دوسری طرف، ام ہانی اپنی سہیلی سارہ کو بھی یہ شعور دیتی ہے کہ عورت مرد کی ملکیت نہیں بلکہ ایک باعزت انسان ہے۔ سارہ کا ٹاکسک رشتہ اس سماجی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے جہاں تشدد کو محبت سمجھ لیا جاتا ہے۔
ہسپتال میں مرجان ٹوٹا ہوا، کنگالی کے قریب اور اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتا نظر آتا ہے۔ ام ہانی اس کی زندگی میں دوبارہ داخل ہوتی ہے، مگر اس بار کمزور عورت بن کر نہیں بلکہ ایک رہنما کے طور پر۔ وہ اسے یہ احساس دلاتی ہے کہ اصل رب، پالنے والا اور دینے والا صرف اللہ ہے۔ کہانی کے اختتام پر مرجان معافی مانگتا ہے، اس کی انا پوری طرح ختم تو نہیں ہوتی، مگر اس کے دل میں اللہ کی محبت جاگ اٹھتی ہے۔
“اختتام سے آغاز” اس پیغام کے ساتھ ختم ہوتا ہے کہ انسان چاہے کتنی ہی گہرائی میں کیوں نہ گر جائے، اگر نیت سچی ہو تو توبہ اور سجدہ ہی ایک نیا آغاز بن سکتے ہیں۔
Download ( All Episode )
Read Online ( All Episode )
Short Sneak Peak Of Story
سمائرہ بیگم کچن میں کھڑی ہیں۔ کچن بھی کیسا؟ کچن کے نام پر ایک چھوٹی دیوار جس کے کونے میں چھوٹا سا چولہا بنا ہے۔ پاس ہی کچھ لکڑیاں بھی ہیں۔ وہ ان میں سے تھوڑی تھوڑی لکڑیاں اٹھا کر جلانے کے لیے ڈال رہی ہیں۔ دھواں بے تحاشہ ہے جو کہ ان کی صحت کے لیے نہایت مضر ہے۔ آمنہ (بیٹی) ان کے قریب بیٹھ کر ناشتہ کرنے میں مصروف ہے اور ہاتھ میں موبائل ہے۔
“آمنہ ناشتہ کر کے ذرا میری مدد تو کر دو۔” وہ شائستگی سے بولیں۔
“واٹ آر یو سئینگ
What are you saying?
نو وے میرا یونیورسٹی میں آج بہت امپورٹنٹ لیکچر ہے۔” وہ قدر بد تہذیبی سے گویا ہوئی۔
” بیٹی کتنی دفعہ بولا ہے کہ انگریزی کے الفاظ میرے سامنے نہ استعمال کیا کر مجھے سمجھ نہیں آتی پہلے ہی میں نے مشکل سے اردو بول چال سیکھی ہے۔” وہ اس کے رویے پر غصہ نہیں تھیں۔اسی نرم لہجے میں اس سے مخاطب تھیں۔
“سو واٹ ماما اگر آپ کو نہیں آتی
This is none of my business.”
وہ چڑچڑے انداز میں کہتی اٹھ کر جانے لگی لیکن اپنے پیچھے کھڑے باپ کو دیکھ کر رک گئی جو خالی خالی نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے۔ آمنہ کا دل ہو لایا۔ کیا بابا نے سن لیا؟؟
” وہ بابا…..” ابھی وہ کچھ کہتی کہ اس کے والد نے ہاتھ اٹھا کر اسے بولنے سے منع کیا۔
” میں کمرے میں تمہارا انتظار کر رہا ہوں جلدی آؤ ضروری بات کرنی ہے۔” وہ حکم صادر کرتے دوسری نظر ڈالے بغیر کمرے کی طرف چلے گئے۔ مرغیاں اپنے معمول کے مطابق خوراک کی تلاش میں صحن میں اِدھر اُدھر بھٹک رہی تھیں۔چھوٹا سا گھر تھا دو کمروں پر مشتمل اور ایک کچن اور ایک باتھ روم۔
وہ انگلیوں کو مڑوڑتی ایک نظر ماں کو دیکھ کر چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ سمائرہ بیگم آج اس کے مفاد میں کچھ نہیں بولیں۔انہیں معلوم ہو گیا تھا کہ اب معاملہ باپ بیٹی خود ہی سلجھا لیں گے۔
وہ نظریں جھکائے کمرے میں داخل ہوئی۔ لقمان صاحب پلنگ پر بیٹھے تھے، ہاتھ میں اخبار لیے۔ وہ گہرا سانس خارج کرتے ہوئے بولی۔
” بابا میں اندر آ جاؤں۔” اس نے اجازت طلب کی۔ بے چینی کی وجہ سے بھول گئی کہ وہ کمرے میں داخل ہو چکی ہے۔
” آپ اندر آ چکی ہیں۔” انہوں نے اخبار طے کرتے ہوئے بے نیازی سے کہا۔
” سوری۔” اس نے کہہ کر زبان دانتوں تلے دبائی۔
” آئیں ادھر میرے پاس بیٹھیں۔” وہ ہچکچاتی ہوئی بیٹھ گئی۔
” باہر ابھی آپ کس سے بات کر رہی تھیں۔” انہوں نے آرام دہ انداز میں پوچھا۔
“م۔۔ ماما سے۔” اس نے جھکی نظروں سے جواب دیا۔
” اور ماں کے قدموں تلے کیا ہے؟”
” جوتے” وہ بے ساختہ بولی۔
“آمنہ بیٹے میں سنجیدہ ہوں” انہوں نے خفگی سے کہا۔
” ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ماں کے قدموں تلے جنت ہے۔” اس نے حوالے کے ساتھ بتایا۔”
” تو آپ اپنی جنت سے ایسے بات کر رہی تھیں۔ دیکھو بیٹا اگر میں روایتی باپ ہوتا
یا تمہاری ماں ایک روایتی ماں ہوتی تو تمہیں تھپڑ جڑ دیتے لیکن اس نے ایسا نہیں کیا معلوم ہے کیوں؟” انہوں نے پوچھا تو آمنہ نے سوالیہ نظروں سے
باپ کو دیکھا۔ “کیونکہ ایک ماں سے زیادہ پیار اپنے بچے سے کوئی نہیں کرتا اور کیا کبھی تم نے غور کیا ہے کہ تمہاری ایک آنکھ کا رنگ دوسری سے مختلف کیوں ہے۔”
” نہیں” اس نے دھیمی آواز میں کہا۔
” چلو میں تمہیں ایک ماں کی کہانی سناؤں۔” انہوں نے کہا تو وہ ہمہ تن گوشی سے سننے لگی۔
” ایک گاؤں میں ایک سردار تھا۔ اب سردار لوگ تو بہت امیر ہوتے ہیں۔ انہیں کسی چیز کی کمی نہیں تھی اور ان کی صرف ایک بیٹی تھی لیکن سردار ہمیشہ اپنی بیوی اور بیٹی سے بدزن رہتا تھا کیونکہ اسے بیٹے کی خواہش تھی جو اس
کی نسل کو آگے بڑھاتا۔ سردار کی بیٹی کو پڑھنے کا بہت شوق تھا لیکن وہ کبھی سکول نہیں گئی اور وجہ کیا تھی جانتی ہو؟”
” نہیں”وہ کہانی میں اتنی منہمک تھی کہ بول گئی۔
” کیونکہ اس کے باپ نے کبھی اسے جانے ہی نہیں دیا کہ وہ ایک لڑکی ہے لیکن اصل وجہ یہ تھی کہ اسے اپنی بیٹی پر بھروسہ نہیں تھا۔ آج بھی معاشرے میں کچھ لوگ اسی تصور کے تحت بیٹیوں کو پڑھاتے نہیں ہیں جس کی وجہ سے
وہ تعلیم کے زیور سے محروم رہ جاتی ہیں۔ اب وہ گاؤں کا سردار تھا اسے ڈر تھا کہ اگر اس کی بیٹی باہر گئی تو وہ اس کی عزت کو خاک میں ملا دے گی اور اسی وجہ سے وہ جلد از جلد اس کی شادی کرنا چاہتا تھا۔ ایک دن اس نے بغیر
اپنی بیٹی کی مرضی جانے اس کا رشتہ طے کر دیا گاؤں کے ایک استاد سے اور اس کی بیٹی کی عمر اس وقت محض 17 سال تھی۔ بیٹی نے چپ چاپ حامی بھر لی کیونکہ جب وہ گھر سے رخصت ہو کر جا رہی تھی تو باپ نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا
“پہلی بار تم پر بھروسہ کیا ہے کبھی توڑنا نہیں” باپ کے ان الفاظ سے اس کی آنکھوں سے ایک قطرہ نکل کر اس کے رخسار پر بہہ گیا جو کسی کو نظر نہیں آیا اور وہ پھر اپنے شوہر کے گھر آگئی۔ اس کا باپ کبھی اس کی ماں کو اس نے ملنے نہیں دیتا تھا۔
معلوم ہے جب اس لڑکی کی گود میں رحمت آئی تو اس کے ہاتھ کانپنے لگے اور اس نے اپنی بیٹی کو اٹھانے سے منع کر دیا۔ جب اس کے شوہر نے پوچھا تو اس نے کہا
“مجھے خوف آتا ہے کہ کہیں میں اس کے ساتھ نا انصافی نہ کر دوں۔” لیکن وہ اپنی بیٹی سے بہت محبت کرتی تھی۔ جب اس کی بیٹی چھوٹی تھی تو اس کی ایک آنکھ میں مسئلہ تھا تو ماں نے ڈاکٹر سے بات کر کے اپنی ایک آنکھ اپنی بیٹی کو دے دی۔
آج وہ خود ایک آنکھ سے دیکھتی ہے تاکہ اس کی بیٹی دونوں آنکھوں سے دنیا دیکھ سکے اور آج بھی وہ چاہتی ہے کہ اس کی بیٹی اعلیٰ تعلیم حاصل کرے۔ کیا وہ قابل تعریف نہیں ہے؟ جاننا چاہو گی کہ وہ کون ہے؟”
آمنہ کا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا اور وہ سر نفی میں ہلاتی بھاگ کر باہر گئی اور فوراً اپنی ماں کے گلے لگ گئی۔ سمائرہ بیگم پہلے ٹھٹکیں اور پھر اس کا چہرہ دیکھ کر پریشانی سے بولیں۔
” لاڈلی یہ تم رو کیوں رہی ہو۔ دیکھ چہرے کو کیا کر لیا ہے آخر ہوا کیا ہے؟”
” بس اس کی غلط فہمیاں دور کی ہیں تاکہ اس کے ذہن سے غلط سوچیں نکل جائیں۔” جواب آمنہ کی بجائے لقمان صاحب نے دیا۔
” نہ میری لاڈلی یوں نہیں روتے، تم تو ہمیشہ مسکراتی ہوئی اچھی لگتی ہو۔ یہ روتی ہوئی لڑکی تو میری بیٹی نہیں ہے۔” وہ خفگی سے بولیں لیکن آمنہ نے انکا پر اطمینان چہرہ دیکھا۔
****************
“Enjoyed This Novel? Discover More Stories Like It”
- Marwareed by Aqsa Batool Hayyat Complete novel
- Saiyan by Bisma Bhatti Complete
- Humzad by Marjaan Qutab Complete PDF
- Nangay paon zindagi by Sadia Afzal Download pdf
- “Looking for More Like This? Explore Similar Stories”
📝 Are You an Urdu Writer?
اگر آپ ایک اردو لکھاری ہیں تو اپنی تحریر آج ہی ہمیں بھیجیں۔
ہماری ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر آپ کی تحریر کو نمایاں کیا جائے گا۔
📌 Connect with us:
Instagram: ezreaderschoice_likharichannel
TikTok ID ; likhari.magazine
Email address: [email protected]
How to Download Novels from Ez Reader’s Choice Novels
“Several readers have asked how to download novels from our website. Here’s a simple guide to help you.” Just follow these simple steps:
- Choose Your Novel
- Visit the novel page and click on the link for the novel you wish to download.
- Select Download Option
- You’ll see two options: Download and Read Online. To download, simply click on the Download button.
- Scroll to Find the Novel Name
- After clicking the download option, a link will appear on your screen. Scroll down, and you’ll see the novel name highlighted in an Orange Box.
- Skip the Pop-up
- A pop-up window will appear. Click the Skip button located at the right side of the pop-up to proceed.
- Wait for the Novel Link
- After skipping the pop-up, wait for about 10 seconds. The name of the novel will appear in a Black Box on your screen.
- Download Your Novel
- “Click on the novel name to be redirected to a new page, where you’ll find the MediaFire link to download the novel.”.
That’s it! Now you can enjoy your novel anytime, anywhere.
