Shehr-e-Goristan by Maryam Awan Download pdf
Shehr-e-Goristan by Maryam Awan Download pdf is a beautifully written social romantic Urdu novel that captures the essence of love, emotions, and family values. Blending fictional storytelling with inspirations from real-life events and celebrated Urdu authors, this novel offers a compelling look at relationships, sacrifice, and the realities of our society.
At Ez Reader’s Choice Novels, you can find this novel available in multiple formats:
New Episode
Summary About
شہرِ خموشاں – خاموشی میں چھپی زندگی اور موت کی حقیقت
– جہاں خاموشی بولتی ہے
شہرِ خموشاں… وہ مقام جہاں الفاظ ختم ہو جاتے ہیں اور صرف دعائیں باقی رہ جاتی ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں انسانی زندگی اپنے تمام شور، رنگ اور رشتوں سمیت ایک خاموش حقیقت میں بدل جاتی ہے۔
یہ مضمون ہمیں اس احساس کی طرف لے جاتا ہے جہاں خاموشی محض سکون نہیں بلکہ ایک گہرا درد، ایک ناقابلِ بیان حقیقت اور ایک مستقل یاد بن جاتی ہے۔
شہرِ خموشاں کی خاموشی
قبرستان کی خاموشی عام خاموشی نہیں ہوتی۔ یہ ایسی خاموشی ہے جس کے اندر آہوں کی بازگشت، سسکیوں کی گونج اور بچھڑنے والوں کی کہانیاں چھپی ہوتی ہیں۔ ہم دنیا والے صرف اتنا جان پاتے ہیں کہ کوئی اپنا اس دنیا سے رخصت ہو کر اس خاموش شہر کا حصہ بن گیا۔
لیکن وہاں کی ویرانی صرف ویرانی نہیں رہتی، بلکہ وقت کے ساتھ انسان کے احساسات کا حصہ بن جاتی ہے۔
موت اور جدائی کا احساس
موت صرف جسمانی اختتام نہیں بلکہ بہت سے دلوں کے لیے ایک گہری جدائی کا آغاز ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مرنے والوں کے ساتھ مرا نہیں جاتا، مگر حقیقت یہ ہے کہ بعض جدائیاں انسان کو زندگی بھر کے لیے اندر سے توڑ دیتی ہیں۔
خاص طور پر ماں جیسی ہستی کی جدائی ایسی کمی ہے جسے کوئی رشتہ، کوئی محفل اور کوئی مصروفیت پورا نہیں کر سکتی۔
یادوں کا سفر
کسی اپنے کی موت کے بعد دنیا اپنی رونق کھو دیتی ہے۔ بہاریں بھی بے معنی لگتی ہیں، اور وقت بھی ایک بوجھ بن جاتا ہے۔ یادیں بار بار دل کے زخموں کو تازہ کرتی ہیں اور انسان ایک ایسے احساس میں جیتا ہے جہاں جینا صرف سانس لینے کا نام رہ جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ کچھ یادیں وقت کے ساتھ دھندلی نہیں ہوتیں بلکہ اور زیادہ گہری ہو جاتی ہیں۔
شہرِ خموشاں کا فلسفہ
شہرِ خموشاں ہمیں زندگی کی اصل حقیقت یاد دلاتا ہے۔ یہاں نہ دولت ساتھ جاتی ہے، نہ حسن، نہ طاقت اور نہ ہی شہرت۔ ساتھ جاتا ہے تو صرف انسان کا عمل، اس کی سادگی اور اس کی حقیقت۔
یہ جگہ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ:
- زندگی عارضی ہے
- تکبر اور خواہشات فانی ہیں
- ہر انسان نے ایک دن اسی خاموشی کا حصہ بننا ہے
- اصل حقیقت مٹی اور کفن کے سوا کچھ نہیں
انسان کا سفرِ اختتام
زندگی ایک ایسا سفر ہے جو خاموشی پر ختم ہوتا ہے۔ ایک دن وہ آتا ہے جب انسان کی تمام خواہشیں، خواہشوں کا شور اور دنیاوی دوڑ دھوپ سب ختم ہو جاتی ہے۔
جسم مٹی میں بدل جاتا ہے، اور روح اپنے رب کے حضور پیش ہو جاتی ہے۔ پھر نہ نام باقی رہتا ہے، نہ پہچان، صرف اعمال رہ جاتے ہیں۔
Short Sneak Peak Of Story
بھیا آپ نے اپنی اس فنٹر کو اسکول کب بھیجنا ہے ؟ ۔۔ آغا فارذ کی گود میں چڑھی روحی کو دنیا جہاں کی باتیں کرتا دیکھ سامنے بیٹھے فواد نے دلچسپی سے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا ۔ جانتا تھا ابھی میڈم کی توپوں کا رخ اس کی طرف ہوجانا تھا ۔
فادی “”” کہاں سے یہ میرا معصوم بچا فنٹر لگتا ہے تمہیں ؟ ۔۔ فواد کے سوال پہ روحی کو کڑے تیور لیے اُس کی طرف ہوتا دیکھ آغا فارذ نے فورا بیچ میں بولنا مناسب سمجھا کہ کہی وہ پٹھاکہ جل نہ اُٹھے ۔۔
بھیا یہ آپ کو کہاں سے معصو لگتی ہے ؟ معصوم تو یہ ہے میری نھنی سی گڑیا ۔۔ آغا فارذ کے کہنے پہ فواد نے اُلٹا اُن سے سوال کرتے ساتھ بیٹھی حور کی گود میں موجود شہوار کی طرف اشارہ کرتے بتایا تو نھنی پیشانی پہ بل پڑا ۔۔
میرا بیٹا چاروں طرف سے معصوم ہے “” ۔۔ فواد کو گھورتی روحی کے گالوں کو چومتے باپ نے محبت سے کہا تو آغا ماموں مسکرا گئے ۔۔
اولاد چاہے بوڑھی بھی کیوں نہ ہوجائے ماں باپ کے لیے ہمیشہ ہی بچی رہتی ہے جیسے ہمارے لیے تم دونوں ۔ بھلے اب تم لوگ خود باپ بن گیے ہو مگر میرے لیے آج بھی تم دونوں بچے ہی ہو ۔۔ آغا ماموں نے بھی بات میں حصہ لیا ۔۔
آدا دانی جے تاچو تو بالے ( سمجھا لے ) جے ہل بال لوحی تو داندا بولتے لیتے ہے ۔۔ شاید اُسے فواد کا بولنا برا لگ تھا تبھی ناک نکوستے وہ باپ کے اگے یوں بولی جیسے اگر وہ نہ مانا تو وہ ڈون کی بچی کچھ کردی گئی ۔۔
گندے کو گندا ہی بولتے ہے ” ۔۔ مسکراہٹ ضبط کیے فواد نے مزید اُسے چھیڑا ۔ پورے گھر میں ایک وہ واحد ہی تھا مرحا فارذ کا دشمن ۔۔
آدا دانی دیتھ لو نہ تاچو تو “” ۔۔ اُسے پھر بولتا دیکھ وہ نظریں اٹھائے غصے سے چیخی ۔ انداز چڑچڑا تھا ۔
فادی نہ کرو تنگ میری بچی کو ۔۔ دادی بھی پوتی کی معصومیت کو دیکھتی پیار سے بولی تو میڈم کی آئیبرو اونچی ہوئی ۔ گھر کا ہر فرد اُس کی سپورٹ میں تھا ۔۔
فادی میں دیکھ رہا ہوں تمہیں تم کچھ زیادہ ہی نہیں میرے بیٹے کو تنگ کرنے لگے ؟ ۔۔ مسکراہٹ ضبط کئے آغا فارذ زبردستی لہجے میں غصہ لیے بولے آخر کو بیٹی کا مان بھی تو برقرار رکھنا تھا ۔۔
بھیا آپ کا بیٹا جب ہر وقت میری بیٹی کے پیچھے پڑھا رہتے ہے وہ ” وہ تو بیچاری کچھ کہہ نہیں سکتی تو اب اس کے بابا ہی اس کی سپورٹ میں بولے گے کہ نہیں آپ بھی تو اس میسنی کے پیچھے ڈانٹتے ہے نہ مجھے ۔۔
فواد بھی کمر پہ ہاتھ رکھے فل لڑاکا موڈ لیے بولا ۔ ناشتے کا میز ہو اور ان چاچا بھتیجی کی لڑائی نہ ہو یہ تو ناممکن سی بات تھی ۔۔
آدا دانی تاچو تھود بول لے ہے دے تو دندی دول تلتی ہی نہیں ہے تو لوحی تھتے بادے دی فر ۔۔ چاچو کی بات فل پاور سے جھٹلا گئی ۔ اتنا کھلا تضاد اُسے پسند نہیں آیا تھا ۔
ہاں بھئی بتاؤ اب کیسے بھاگ سکتی ہی میری گڑیا تمہاری گندی ڈول کے پیچھے ۔۔ بیٹی کی بات پہ سر تسلیم خم کرتے انھوں نے حور کی گود میں بے فکری سے سوئی شہوار کی طرف دیکھتے کہا ۔ اُس بیچاری کو تو پتہ ہی نہیں تھا کہ غلطی نہ ہوتے بھی وہ ان چاچا بھتیجی کی لڑائی میں ہر روز شامل ہوجایا کرتی تھی ۔۔
بھیا یہ غلط بات ہے بھئی میری معصوم بچی کو تو بنا غلطی کے بدنام کیا ہوا اپ کی بیٹی نے ۔ فواد کے اشارے پہ حور بھی ماتھے پہ بل لیے بولی ۔ مقصد صرف اس توتلی وکیل کو چڑانا تھا ۔۔
آہہ ” دیتھ لے ہے اپ آدا دانی جے تاچی بھی اب تاچو تے شاتھ مل دی ” ۔۔ ہر کسی کی بغاوت منظور تھی مگر اپنی فیورٹ چاچی کی بغاوت کی قطعی اُمید نہیں تھی تبھی گرے آنکھیں اور منہ کھلا کا کھلا رہ گیا ۔۔
کوئی بات نہیں آغا جانی تو اپنے بیٹے کے ساتھ ہی ہے ۔۔ اپنی مضبوط گرفت میں اُس چالاک یونیکورن کو جکڑتے آغا فارذ نے مسکراتے ہوئے کہا جبکہ سب کے برعکس میرال کا فوکس ناشتے پہ تھا کیونکہ ابھی تو وہ باپ کا دماغ کھا رہی تھی مگر اُن کے جانے کے بعد وہ ماں سے چیپٹ جانے والی تھی تبھی اُسے اینرجی کی خاصی ضرورت تھی ۔۔
لوحی تو نی لینا ایتھ دھر میں “‘ ادھر توئی لوحی تے پار نی ترتا ۔۔ ضدی لہجا لیے وہ سر نفی میں ہلاتی بولی گرے آنکھوں میں واضح ناراضگی تھی ۔
****************
Discover the Voice of Stories – Likhari YouTube Channel
Welcome to Likhari – a soulful space where Urdu stories are not just told, but felt. If you’re someone who loves getting lost in tales of love, longing, heartbreak, and hope, our YouTube channel is made for you.
🎙️ What Is Likhari?
Likhari is more than just narration — it’s an experience. We bring emotional, thought-provoking, and captivating Urdu novels and afsanay to life through expressive storytelling and heart-touching voiceovers. Whether it’s a romantic episode or a story rooted in social reality, each video is created to connect with your heart.
Channel Link ; Likhari Online Magazine Channel
All Novels List Link ( YouTube ) ; YouTube Novels List
“Enjoyed This Novel? Discover More Stories Like It”
- Professor Khan ( Season 2 Professor Shah) by Zanoor Writes Complete PDF
- Tere ishq mein kya maine paya by Syeda Sehar Syedzadi Complete novel download pdf
- Dar e ishq per by Syeda Sehar Syed Zaadi Complete novel pdf
- “If This Novel Captivated You, Try These Reads”
- “Looking for More Like This? Explore Similar Stories”
📝 Are You an Urdu Writer?
اگر آپ ایک اردو لکھاری ہیں تو اپنی تحریر آج ہی ہمیں بھیجیں۔
ہماری ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر آپ کی تحریر کو نمایاں کیا جائے گا۔
📌 Connect with us:
Instagram: ezreaderschoice_likharichannel
TikTok ID ; likhari.magazine
Email address: [email protected]
How to Download Novels from Ez Reader’s Choice Novels
“Several readers have asked how to download novels from our website. Here’s a simple guide to help you.” Just follow these simple steps:
- Choose Your Novel
- Visit the novel page and click on the link for the novel you wish to download.
- Select Download Option
- You’ll see two options: Download and Read Online. To download, simply click on the Download button.
- Download Your Novel
- “Click on the novel name to be redirected to a new page, where you’ll find the MediaFire link to download the novel.”.
That’s it! Now you can enjoy your novel anytime, anywhere.
